دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Akhbar kay baray main Sawal Jawab | اخبار کے بارے میں سوال جواب

book_icon
اخبار کے بارے میں سوال جواب

نے غَصْب کا قَصْد نہیں کیا تھا یا حضرتِ عیسیٰعَلَيْهِالصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو ظاہِری طور پر یوں محسوس ہوا کہ اُس شخص نے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز لی  (یعنی چُرائی)  ہے لیکن جب اس نے حَلَف لیا (یعنی قسم کھائی)  تو آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے اپنا گمان ساقِط کردیا اور اس گمان سے رُجوع کر لیا ۔ ‘‘  (شرح مسلم للنووی ج۸ص۱۲۲)  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ وَصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

ہے مومِن کی عزّت بڑی چیز یارو!

بُرائی سے اس کو نہ ہرگز پکارو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

گرفتار شُدہ چور کی خبر لگانا کیسا؟

سُوال : جو شخص بطورِ چور یا ڈاکو شَناخْتْ کرلیا گیا ہو اُس کی خبر اخبار میں لگائی جاسکتی ہے یا نہیں ؟

جواب : شَرْعی ثُبُوت حاصل ہوجانے کی صورت میں بھی یہ غور کرلیجئے کہ اس کی خبر اخبار میں  ’’ خبر برائے خبر ‘‘  چھاپ رہے ہیں یا کوئی اچّھی نیّت بھی ہے!  مَثَلاً بطورِ چور مُشتَہَر ہونے پر اُس کی ہونے والی ذِلّت سے دوسرے لوگ عبرت حاصِل کریں نیز آیَندہ کیلئے اس بدکام سے مُحتاط بھی ہوجائیں اِس نیّت سے چوری کی خبر کی اِشَاعَت کی جاسکتی ہے ۔ چور اگر چِہ بَہُت بُرا بندہ ہے مگر بِغیر کسی شَرْعی مصلَحت کے اُس  کی تذلیل و تشہیر جائز نہیں ، کیوں کہ چور ہونے کے باوُجُود بَحَیثِیَّتِ مسلمان اس کی حُرمت باقی ہے۔ہاں جتنی شریعت کی طرف سے تشہیر وتذلیل کی اجازت ہے اُتنی کی جاسکتی ہے ،اس سے زائد نہیں یعنی یہ نہیں کہ ابمَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّجس کی مرضی ہو جب چاہے غیبت کرتا رہے!  فی زمانہ اخبار والوں کے پاس شَرْعی ثُبُوت کی اطِّلاع کے مُعتَمَد (یعنی قابلِ اعتِماد)  ذرائِع ہوتے ہیں یا نہیں اِس کو صحافی صاحبان خوب سمجھ سکتے ہیں ۔نیز جس انداز میں اور جس ترکیب سے خبریں لیتے ہیں اس میں یہ بھی غورکیا جائے کہ قانون کی رُو سے اِس کی اجازت بھی ہے یا نہیں ۔ہر مسلمان کی اپنی اپنی جگہ عزّت و حُرمَت ہے، سبھی کو چاہئے کہ احتِرامِ مسلم کا لحاظ رکھیں ۔ سُنَنِ اِبنِ ماجہ میں ہے : خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کعبۂ معظمہ سے مخاطِب ہو کر ارشاد فرمایا : مومِن کی حُرمت  (یعنی عزّت و آبرو)  تجھ سے زِیادہ ہے۔  ( اِبن ماجہ ج۴ ص۳۱۹ حدیث ۳۹۳۲)

چو ر سے بڑھ کر مُجرِم

جس کے یہاں چوری ہوئی اُس کو بھی چاہئے کہ خوامخواہ ہر ایک پر شُبہ کرتا اور تہمت دھرتا نہ پھرے جیسا کہ آ ج کل اکثر ایسا ہو رہاہے مَثَلاً گھرمیں کوئی چیز چوری ہو جاتی ہے تو کبھی بے قُصُور بہو مُتَّہم  (مُت۔تَ۔ھَم)  ہوتی یعنی تُہمت کی زَد میں آتی ہے تو کبھی بھاوَج کی شامت آتی ہے یا گھر کے نوکر پر بجلی گرائی جاتی ہے حالانکہ کسی کے بارے میں شَرْعی ثُبُوت تو درکَناربسا اوقات کوئی واضِح قرینہ بھی نہیں ہوتا !  لہٰذا سبھی کو اِس روایت سے عبرت حاصِل کرنی چاہئے جیسا کہ فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: وہ شخص جس کا مال چوری ہوا، ہمیشہ تُہمت  (لگانے)  میں رہیگا یہاں تک کہ وہ چور سے ( بھی)  بڑا مجرِم بن جائے گا۔ ( فتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص۱۰۹، شُعَبُ الْاِیمان ج۵ ص۲۹۷ حدیث۶۷۰۷) وَاللہُ اعلَمُ ورسولُہٗ اَعلَم عَزَّوَجَلَّ وَصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔

سنوں نہ فُحش کلامی نہ غیبت وچغلی

تری پسند کی باتیں فَقَط سنا یاربّ

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن