دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Akhbar kay baray main Sawal Jawab | اخبار کے بارے میں سوال جواب

book_icon
اخبار کے بارے میں سوال جواب

صَحافت کے نام پر چھاپنی ضَرور ہے، گویا ہر طرح کی ہر خبر کی اشاعت ہی آزادیِ صَحافت ہے!  ہر سمجھدار آدمی یہ بات جانتا ہے کہ ہر بات ہر کسی کو نہیں بتائی جاتی۔پھر جب آدَمی زَبانی بات کرتا بھی ہے تووہ دس بیس یاپچاس سو تک پہنچتی ہو گی مگر اخبار بینی کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے اور  دوست دشمن سبھی پڑھتے ہیں ۔ کاش! بولنے سے پہلے تولنے اور چھاپنے سے پہلے ناپنے کا ذِہن بن جائے۔ کاش!  اے کاش! یہ حدیثِ پاک ہر مسلمان صَحافی حِرزِجان بنالے جس میں میرے پیارے پیارے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ ہدایت نشان ہے:  ’’  جب تو کسی قوم کے آگے وہ بات کریگا جس تک اُن کی عقلیں نہ پہنچیں تو ضَرور وہ اُن میں کسی پر فِتنہ ہو گی۔ ‘‘   (ابنِ عَساکر ج۳۸ص۳۵۶)  کیا آزادیِ صَحافت اس کا نام ہے کہ مسلمانوں کی بے دَرَیغ عزّتیں اُچھالی جائیں ! رشوتیں لیکر فریقِ مقابِل کا حَسَب نَسَب کھنگال ڈالا  جائے!  مسلمانوں پر خوب خوب تہمتیں دھری جائیں !  مسئلہ تو یہ ہے کہ الزام تراشی غیر مسلموں پر بھی جائز نہیں مگر افسوس!  کہ اب مسلمان ایک دوسرے کے خلاف تہمتوں سے بھر پور بیانات داغتے اور آزادیِ صَحافت کے نام پر بعض اخبارات انہیں آنکھیں بند کر کے چھاپتے ہیں ، خُصُوصاً انتِخابات کے دنوں میں بطورِ رشوت ملنے والے چند سکّوں کی خاطر کسی ایک فریق سے ’’  ترکیب ‘‘  بنا لی جاتی ہے اور فریقِ ثانی پر جی بھرکر کیچڑ اُچھالی جاتی اور اس کی خوب خوب پَولیں کھولی جاتی ہیں اور یوں گناہوں کا ایک طویل سلسلہ چل نکلتا ہے، انتِخابات خَتْم ہو جاتے ہیں مگر دشمنیاں باقی رہ جاتی ہیں ۔

ایسی خبر شائع نہ فرمائیں جو فتنے جگائے

                پیارے پیارے صَحافی اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا کی دولت کی حِرص سے ہماری حِفاظت کرے، ہمیں مسلمانوں میں فتنے پھیلانے والا بننے سے بچا کر اَمن و امان کا داعی بنائے۔ اٰمین۔صد کروڑ افسوس کہ بسا اوقات جان بوجھ کر ایسی خبریں بھی چھاپ دی جاتی ہیں جو مسلمانوں میں فتنہ وفَساداور بُرا چرچا پھیلنے کا باعِث بنتی ہیں ، ایسا کرنے والے کو اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنا اور اپنی موت کو یاد کرنا چاہئے ۔ چٹپٹی خبروں سے اگر اخبار کی چند کاپیاں بِک بھی گئیں اور دنیا کی ذلیل دولت میں قدرے اضافہ ہو بھی گیا تب بھی ان سے کب تک فائدہ اُٹھائیں گے؟  انہیں کب تک کھائیں گے؟ آخِراِس دارِناپائیدار میں کب تکگُل چَھرّے اُڑائیں گے ؟  یاد رکھئے ! آخِر کار آپ جناب کو اندھیری قبر میں اُترنا ہی ہےاورکَما تَدِیْنُ تُدَان ( یعنی جیسی کرنی ویسی بھرنی) سے سابِقہ پڑنا ہی ہے ۔ بُرا چرچا پھیلانے کے عذاب سے ڈرنے اور دل میں خوفِ آخِرت پیدا کرنے کیلئے ایک آیتِ کریمہ اور ایک حدیثِ مبارَکہ مُلاحَظہ ہو: پارہ 18سُوْرَۃُ النُّوْر آیت نمبر 19 میں اللہ عَزَّوَجَلَّکا فرمانِ عبرت نشان ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-

ترجَمۂ کنزالایمان: وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے ان کے لئے درد ناک عذاب ہے دنیا اور آخِرت میں ۔

        حدیثِ پاک میں ہے:  ’’  فِتنہ سویا ہوا ہوتا ہے اُس پراللہ عَزَّوَجَلَّکی لعنت جو اِس کو بیدار کر ے ۔ ‘‘  (اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ص۳۷۰حدیث ۵۹۷۵)

سَنسنَی خیز خبریں پھیلانا

        اِس بات پر جس قَدَر افسوس کیا جائے کم ہے کہ آج کل بعض صحافیوں کا کام ہی صِرف افواہیں اُڑانا اور سنسنی خیز خبریں پھیلانا رہ گیا ہے ۔ ان کی تمام تر کوشِش یِہی ہوتی ہے کہ کسی طرح گھروں میں گُھس کرلوگوں کے سنسنی پھیلانے والے ذاتی حالات معلوم کریں ہوسکے تو بطورِ ثُبُوت فوٹو بھی بنالیں اور ان کی عام تشہیر کرکے انہیں بے آبرو کریں ، مسلمانوں کو ایک دوسرے سے  مُتَنَفِّر (مُ۔ تَ ۔ نَفْ۔فِر)  کریں اور لڑائیں ، اب ان کا سب

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن