30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ 1990ء میں تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی سے وابستہ ایک اسلامی بھائی نے مجھ پر اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے نیکی کی دعوت پیش کی اور ساتھ ہی ساتھ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کے دو عدد رقت اَنگیز بیانات بَنام ’’ زَمیں کھا گئی نَوجواں کیسے کیسے ‘‘ اور ’’ ڈَھل جائے گی یہ جوانی ‘‘ کی کیسٹیں تحفے میں دیں اور ان کیسٹوں کو سننے کی تاکید کی، میں نے تنہائی میں بیٹھ کر وہ بیانات سنے۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کے پرسوز کلمات کا ایک ایک لفظ تاثیر کا تیر بن کر میرے دل میں پیوست ہوگیاایسا معلوم ہوتا تھا جیسے امیرِ اہلسنّت خاص میرے لئے ہی بیان کر رہے ہیں میرے دل میں ہلچل مچ گئی اور میری آنکھوں کی وادیوں سے آنسوؤں کے چشمے بہہ نکلے ان بیانات کی برکت سے میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں رورو کر سچے دل سے توبہ کی اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا عزم بالجزم کر لیا۔ اب میرا حال یہ تھا کہ گرچہ باضابطہ طور پر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ سے بیعت نہیں کی تھی مگر دلی طور پر میں انہیں نہ صرف اپنا پیر و مرشد تسلیم کرچکا تھابلکہ ان کا دیوانہ ہوگیا تھااور دن رات ان کے دیدار کو تڑپنے لگا تھا اسی شوق کے ہاتھوں مجبور ہوکر میں ایک ہفتہ کے اندر اندر شہرِ مرشد پہنچ گیا اور مرشد کے قدموں میں حاضری کا شرف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ نے مجھے بڑی شفقتوں سے نوازا اور مجھ نِکمے کو بیعت کے لئے قبول فرما لیا، بیعت کے بعد میں نے سر پر عمامے شریف کا تاج سجا لیا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ نمازوں کا اہتمام بھی شروع کردیا، آج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب پہلی بار عمامہ شریف باندھ کر دوستوں کے پاس کالِج گیا تو ان کے چہروں سے حیرانی اور خوشی کے ملے جلے تأثرات عیاں تھے گویا انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہاتھا مگر آنکھوں دیکھا حال جھٹلایا بھی نہیں جاسکتا تھا اور اس میں میرا تو کوئی کمال تھا نہیں یہ سب تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کی نگاہِ فیض اثر کا نتیجہ تھا کہ انہوں مجھ جیسے کھوٹے کو کُندن بنا دیا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اس مدنی ماحول میں استقامت دی اور تادمِ تحریر بفضلہ تعالٰی صوبائی ذمہ دار مجلس اثاثہ جات پنجاب مکی کے رکن کی حیثیت سے مدنی کاموں کی ترقی کے لئے کوشاں ہوں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد
{9} دل میں ہلچل مچ گئی
عطار آباد (جیکب آباد، باب الاسلام سندھ) کے علاقے کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں آنے سے پہلے میں دنیا کی رنگینیوں میں کھویا ہوا تھاروز بروز نِت نئے گناہ کرنے کا بھوت سر پر سوار رہتا اور یوں شب و روز گناہوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری تھا ایسے میں نہ تو مجھے نَمازوں کو بے دریغ ضائع کرنے کا ہوش تھا اور نہ ہی دیگر احکامِ شرع پر عمل کا احساس۔ کثرتِ عصیاں کے باعث میری اخلاقی حالت اس قدر پستی کا شکار ہو چکی تھی کہ گویا۔ع
ناصحا مت کرنصیحت دل میرا گھبرائے ہے
اس کو دشمن جانتا ہوں جو مجھے سمجھائے ہے
کے مصداق میں ایسے لوگوں سے بہت کتراتا تھا جو مجھے کسی قسم کی نصیحت کیا کرتے تھے، میں نہیں جانتا کہ اُس اجنبی خیر خواہ میں آخر ایسی کیا بات تھی جو اس کے کہنے پر میں اس دن نہ چاہتے ہوئے بھی مسجد کی طرف چل دیا اور پھر وہی دن تو میری عصیاں شعار زندگی میں مدنی بہار کے آغاز و اظہار کا دن تھا، جی ہاں وہ قصہ واقعی بڑا دلچسپ ہے ہوا یوں کہ ہمارے علاقے کی مسجد میں سُنتوں کی تبلیغ کی خاطر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں سفر کرنے والے چند سنّتوں کے متوالے نوجوان آئے ہوئے تھے ان کا تعلق تبلیغِ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘ سے تھا۔ انہی میں سے ایک مبلغ نہایت محبت کے ساتھ مجھ سے ملے اور بڑے احسن انداز میں سلام و مُصافحے کے بعد انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے مسجد میں ہونے والے کیسٹ اجتماع میں شرکت پر آمادہ کرنے لگے ، جیسا کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ مجھے خیرخواہوں اور ناصحوں سے سخت کوفت محسوس ہوتی تھی مگر اس دن اس کے برعکس نجانے کیوں میں کسی قسم کی پس و پیش کے بغیر ان کے ساتھ جانے کو تیار ہو گیا، ابھی اسی بات پر میں حیرانی کے بھنور سے باہر نہ نکلا تھا کہ حیرت کا ایک اور جھٹکا اس وقت لگا جب ہم مسجد میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع