30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَزَّوَجَلَّ بیان سننے کی برکت سے میں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر ذخیرہ آخرت سمیٹنے میں مصروف ہوگیا۔ تادمِ تحریر ڈویژن مشاورت میں مَدَنی انعامات کے ذمہ دار کی حیثیت سے مَدَنی کاموں کی دھومیں مچا رہا ہوں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد
{3} جواری کیسے سُدھرا؟
لیاقت پور (ضلع رحیم یارخان، پنجاب) کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ مَدَنی ماحول میں آنے سے پہلے میں گناہوں کے بحر عمیق میں ڈوبا جا رہا تھا۔ مجھ میں پائی جانے والی برائیاں صرف فلمیں ڈرامے دیکھنے، گانے باجے سننے والدین کی نافرمانی اور ان کی دل آزاری کرنے ہی تک محدود نہ تھیں بلکہ بری صحبت کی بدولت میرے اندر جوا کھیلنے کے جراثیم پیدا ہوچکے جس کی خاطر میں چوری چکاری کرنے سے بھی نہ چوکتاتھا، الغرض میرے شب و روز گناہوں میں بسر ہورہے تھے۔ میری اصلاح کا ذریعہ کچھ یوں بنا کہ ایک روز میرے دَادا جان نے مجھے بتایا کہ علاقے کی مسجد میں چند لوگوں پر مشتمل ایک قافلہ آیا ہوا ہے ان سب کے سروں پر سبز سبزعمامے شریف کا تاج سجا ہوا ہے، چہرے انتہائی نورانی ہیں اورسب کے سب سفید لباس میں ملبوس ہیں ۔جب میں نے یہ باتیں سنیں تو میرے لاشعور میں ان سے ملاقات کاشوق پیدا ہوااور میں مسجد جا پہنچا ، وہ اللّٰہ والے انتہائی محبت اور اپنائیت سے مجھ سے ملے بلکہ ان میں سے ایک اسلامی بھائی نے تو کھڑے ہوکر بے ساختہ مجھے یوں گلے لگا لیا جیسے ہم ایک دوسرے کے برسوں کے شناسا ہوں ، دورانِ گفتگو انہوں نے مجھے نیکی کی دعوت دیتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی۔ ان کے حسنِ اخلاق واعلیٰ کردار کی وجہ سے میں بہت متأثر ہوا ۔ لہٰذا دل میں ٹھان لی کہ اجتماع میں ضرور جاؤں گا۔ ایک دن سنتوں بھرے اجتماع میں حاضر ہونے کی سعادت مل ہی گئی ، ہر طرف سبز سبز عماموں کی بہاریں تھیں جس سے میرا دل بہت خوش ہوا ، بس پھر کیا تھامیں نے ہر ہفتے اجتماع میں شرکت کو اپنا معمول بنا لیا، ایک مرتبہ گھر میں بیٹھا کیسٹ کے ذریعے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کا بیان بنام ’’ قبر کی پہلی رات ‘‘ سن رہا تھا، وہ بیان اس قدر عبرت انگیز تھا کہ اسے سُن کر خوفِ خدا کے باعث میرے جسم کا رواں رواں کانپ اٹھا اور میں بے ساختہ دھاڑیں مار مار کررونے لگا، میرے والد صاحب نے جب میری یہ حالت دیکھی تو وہ بھی بیان سننے میں مشغول ہوگئے ، بیان کے پُر تاثیر الفاظ ان کے دل میں بھی اثر کر گئے اور بالاخر وہ بھی نمدیدہ ہو گئے۔ اس بیان کی برکت سے میں نے فلموں ڈراموں ، گانے باجوں اور والدین کی نافرمانی اور دیگر تمام گناہوں سے توبہ کر لی اور دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو گیا تادمِ تحریر اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں اس مدنی ماحول کی خوب خوب برکتیں لوٹ رہا ہوں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد
میلسی (ضلع وہاڑی پنجاب) کے علاقے فتح پور کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں مرکز الاولیاء لاہور میں ایک ٹی وی چینل پر بطورِ ہدایت کار کام کیا کرتا تھا ایامِ زندگی یادِ الہٰی سے غفلت میں گزر رہے تھے مگر اس وقت مجھے اس بات کا بالکل بھی احساس نہ تھاکیونکہ میں اپنے گمانِ فاسد میں تو انتہائی حسین و رنگین زندگی گزار رہا تھا مجھے کیا معلوم تھا کہ اس طرز پر زندگی گزانے سے آخرت میں رب عَزَّوَجَلَّ کے روبرو شرمندگی اور رسوائی وابستہ ہے ، مجھے فنکاراؤں اور اداکاراؤں سے میل جول کا بہت شوق تھا اور آئے دن ان کی پرتکلف دعوتیں کرکے ان پر بیش بہا روپیا خرچ کردیا کرتا اور یوں اس کے صلے میں ان کی طرف سے کی جانے والی نوازشات سے لطف اندوز ہوا کرتا۔ یوں تو میری آمدنی بھی کوئی کم نہ تھی مگر اس کے باوجود ان تمام فضولیات کے لئے گھر والوں سے بھی روپے منگوا لیا کرتا الغرض بے حیائی کا یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا۔ میری عصیاں بھری زِندگی کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع