30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیٹیگریز
کیٹیگریز
مصنف:
Majlis-e-Tehqiqat-e-Sharia
پبلشر: Maktaba-tul-Madina
تاریخ اشاعت:
February 2 ,2015
کیٹیگری:
Fiqh-o-Usool-e-Fiqh
آن لائن پڑھیں صفحات: 16
پی ڈی ایف صفحات: 32
ISBN نمبر: n/a
یہ کتاب احرام کی حالت میں خوشبو سے متعلق مسائل کو واضح انداز میں سمجھاتی ہے۔ اس میں خوشبو کی تعریف، اس کی مختلف اقسام اور ان کے استعمال کی شرعی حدود بیان کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ احرام کے دوران خوشبو لگانا کیسا ہے اور ٹوتھ پیسٹ اور سرمہ استعمال کرنے کے کیا احکام ہیں تاکہ حاجی غلطی سے بچ کر صحیح طریقے سے عبادت ادا کرے۔
احرام کی حالت میں خوشبو لگانا مرد و عورت دونوں کے لیے منع (ممنوع) ہے۔
• احرام باندھنے کے بعد بدن، کپڑوں یا بالوں پر خوشبو لگانا جائز نہیں ہے۔ احرام پہننے سے پہلے جسم اور احرام پرخوشبو لگاسکتے ہیں ، لیکن احرام کے بعد اس سے بچنا ضروری ہے ۔اگر خوشبو کی خوشبو باقی ہو (جو پہلے لگائی گئی ہو) تو وہ معاف ہے ۔
نبی کریم ﷺ نے محرم (احرام والے) کو خوشبو سے منع فرمایا (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ احرام سادگی اور ترکِ زینت کی حالت ہے، اس لیے خوشبو سے اجتناب ضروری ہے۔
کون سی چیزیں خوشبو میں شمار ہوتی ہیں؟
ہر وہ چیز جس میں خوشبو ہو اور خوشبو کے طور پر استعمال کی جائے، وہ احرام میں ممنوع ہے۔
مثالیں:
• عطر، پرفیوم، اسپرے ،خوشبودار صابن، شیمپو ،خوشبودار تیل یا کریم ،اگربتی یا بخور ۔
• اگر کسی چیز میں قدرتی ہلکی خوشبو ہو (جیسے کچھ پھل یا غیر ارادی مہک) تو وہ شامل نہیں ہے۔
• اصل معیار یہ ہے کہ وہ چیز خوشبو کے طور پر استعمال ہو رہی ہو یا نہیں
محرم کو ہر قسم کی مصنوعی یا لگائی جانے والی خوشبو سے بچنا چاہیے
اگر احرام کی حالت میں غلطی سے خوشبو استعمال ہو جائے تو اس کا کفارہ دینا ہوگا۔ خوشبو اگر زیادہ لگ گئی تو دَم اور کم لگی تو صَدَقہ لازم ہوگا۔
دم سے مراد ایک بکرا۔اس میں نر،مادہ، دنبہ،بَھیڑ،نیز گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ سب شامل ہیں۔
صدقۂ فطر کی مقدار۔آج کل کے حساب سے صدقۂ فطر کی مقدار 2 کلو میں 80 گرام کم گندم یا اس کا آٹا یا اس کی رقم یا اس کے دُگنے جَو یا کھجور یا اس کی رقم ہے۔
احرام کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ نگلا نہ جائے اور اس میں شدید خوشبو نہ ہو۔
ٹوتھ پیسٹ میں اگر آگ کا عمل ہوتا ہے ، جیسا کہ یہی مُتَبادِر (یعنی ظاہِر ) ہے ، جب تو حکمِ کفّارہ نہیں ، البتّہ اگر منہ کی بد بُو دُور کرنے اور خوشبو حاصِل کرنے کی نیّت ہو تو مکروہ ہے۔میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: ’’ تمباکو کے قِوام میں خوشبو ڈال کر پکائی گئی ہو ، جب تو اس کا کھانا مُطْلَقاً جائز ہے اگرچِہ خوشبو دیتی ہو ، ہاں خوشبو ہی کے قَصْد سے اسے اختیار کرنا کراہت سے خالی نہیں ۔ ‘‘ ( فتاوی رضویہ ، ج ۱۰ ، ص ۷۱۶)
دانت صاف کرنا جائز ہے ۔اگر ٹوتھ پیسٹ میں خوشبو بہت تیز ہو تو احتیاط بہتر ہے ۔مسواک استعمال کرنا زیادہ بہتر اور سنت طریقہ ہے ۔
اصل ممانعت خوشبو لگانے کی ہے، صفائی اختیار کرنا منع نہیں۔
احرام کی حالت میں سرمہ لگانا جائز ہے بشرطیکہ وہ خوشبودار نہ ہو۔
تفصیل:اگر سرمہ سادہ ہو اور اس میں خوشبو شامل نہ ہو تو استعمال کیا جا سکتا ہے ۔زینت کے لیے استعمال کرنے سے احتیاط بہتر ہے
احرام میں غیر ضروری زینت سے بچنا بہتر ہے۔ اگر سرمہ دوا کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔