دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Agar Dost Qarza Wapas Na Day To Kia Karain? | اگر دوست قرضہ واپس نہ دے تو کیا کریں؟

book_icon
اگر دوست قرضہ واپس نہ دے تو کیا کریں؟

تیرے محبوب کا جلوہ نہ دیکھ لے ، اسے برے خاتمے سے بچانا ، اسے ایمان کی سلامتی نصیب ہو ، اسے بلا حساب وکتاب جنت میں داخلہ نصیب ہواور جنت الفردوس میں تیرے پیارے  محبوب کا پڑوس عطا ہو۔ یا اللہ جو اپنی تنخواہ یا اپنی کمائی سے دو فیصد دینا چاہتے ہیں ان کے حق میں بھی  یہ تمام دعائیں قبول فرما۔

ٹیلی تھون میں زیورات دینے والی خوش نصیب اسلامی بہنیں

سُوال : جب بھی دعوتِ اسلامی ٹیلی تھون کرتی ہے تو کئی اسلامی بہنیں اپنا سونا اور زیور دیتی ہیں ، جبکہ کئی ایسی اسلامی بہنیں بھی ہیں جن کے پاس سالوں سے سونا موجود ہے جو وہ پہنتی بھی نہیں ہیں اور آج کل حالات بھی ایسے ہیں کہ کسی تقریب یا شادی کے موقع پر بھی وہ ان زیورات کو نہیں پہن سکتیں ، بلکہ ان کی جگہ آرٹیفیشل جیولری پہنتی ہیں ، تو کیا انہیں بھی اپنا سونا دعوت اسلامی کے ٹیلی تھون میں جمع کروادینا چاہیے؟ (رکنِ شوریٰ حاجی ابو مدنی عبدُ الحبیب عطاری)

جواب :  آپ  کیسی بات کررہے ہیں!! عمر بھرجس  سونے کو کلیجے سے لگائےرکھا ، دنیا سےجاتے جاتے وہ سونا آپ کو کیسے دے دیں!! ہوسکتا ہے ان کی خواہش ہو کہ یہ سونا اپنے ساتھ قبر میں بھی لے جائیں۔ ’’تقریباً30 سال پرانی بات ہے ، میں ایک صاحب سے ملنے گیا ، انہیں ہوش نہیں تھا ، ان کے پاس ایک بٹوا رکھا ہوا تھا جس میں کچھ رقم تھی ، ان کے کسی خادم نے مجھے بتایا کہ جب انہیں ہوش آتا ہے تو تکیے کے نیچے سے بٹوا  نکالتے ہیں اور اسے کھول کر دیکھتے ہیں کہ اس میں رقم موجود ہے یا نہیں؟ اور رقم دیکھ کر واپس رکھ دیتے ہیں۔ “ اسی طرح ’’سونے‘‘ سے بھی جان نہیں چھوٹتی۔ کئی لوگ زکوٰۃ بھی نہیں دیتے۔ اگرکسی کے پاس  سونا ہےاور زکوٰۃ کی شرائط بھی پائی جارہی ہیں ، لیکن ابھی تک زکوٰۃ ادا نہیں کی تو ان کے لئے پہلا مشورہ یہی ہے کہ سب سے پہلے زکوٰۃ ادا کریں ۔ اگر عورتیں سونے کو اپنے ساتھ قبر میں بھی لے جانا چاہتی ہیں تو اس کا آسان سا نسخہ یہ ہے اس سونے کو راہ خدا میں دے دیں ، یہ الگ بات ہے کہ جب آپ اپنے سونے کو راہ خدا میں دے دیں گی تو یہ آپ کو نظر نہیں آئے گا ، لیکن قبر میں ایسا نظر آئے گا کہ اگر کسی کو بتانے کی اجازت مل جائے تو وہ بھی سن کر اپنا سونا راہ خدا میں دےدے کہ مجھے قبر میں چاہیے۔ ویسے بھی مال وفا نہیں کرتا ، بڑے بوڑھے بھی اپنا مال و دولت دنیا میں چھوڑ جاتے ہیں ، پھر ان کی اولاد اس پر قبضہ کرتی ہےاور انہیں ایصالِ ثواب بھی نہیں کرتی کہ ماں باپ نے اتنا مال ودولت چھوڑا ہے ، چلو ان کے ایصالِ ثواب کی نیت سے مسجد یا مدرسہ ہی بنادیں ، یا کسی غریب کو کام دھندے  پر لگا دیں۔ اس لئے آپ ابھی سے اپنا سونا راہ خدا میں دے دیں ، اِنْ شَآءَ اللّٰہ یہ قبر میں بھی کام آئے گا اور قیامت میں بھی کام آئے گا۔ اگر آپ یہ سمجھیں کہ میں اپنے ٹیلی تھون کے لئے زور لگا رہا ہوں تو واقعی ایسا ہی ہے کہ میں اپنے ٹیلی تھون کے لئے ہی کوشش کر رہا ہوں ، پھر بھی اگرآپ کو سمجھ نہیں آتا اور آپ چاہتی ہیں کہ آپ کا سونا قبر میں آپ کے ساتھ جائے تو اپنے  محلے کی مسجد میں یہ سونادے دیں ، یا جہاں آپ کا دل مانے وہاں دے دیں ، ورنہ یہ قبر میں کام نہیں آئے گا ، بلکہ اگر کسی مال کی زکوٰة نہیں دی ہوگی تو وہ بروزِ قیامت پَتْر  (یعنی دھات کا ٹکڑا) بناکر جسم پر داغا جائے گا۔ ([1])

ٹیلی تھون میں اپنا گھر ، بنگلہ اور کوٹھی دینے والوں کے لئے دعائے عطار

سُوال : زندگی میں پہلی بار کشمیر کے مختلف مقامات پر جانا ہوا تو وہاں دیکھا کہ 80 فیصد سے زائد بنگلوز ، کوٹھیاں خالی پڑے ہیں۔ میں نے ان گھروں کے بارے میں معلومات کی تو بتایا گیا کہ کئی کئی سالوں سے یہ گھر اسی طرح خالی پڑے ہیں ، کیونکہ ان کے بنانے والے  UK  اور یورپ میں منتقل ہوگئے ہیں ، جبکہ بعض تو انتقال بھی کرگئے ہیں ، اب ان کی اولاد بھی یہاں نہیں آتی۔ اگر ان گھروں کے مالکان اپنے گھر دعوتِ اسلامی کے جامعاتُ المدینہ ومدارسُ المدینہ کے لئے وقف کردیں تو کیسا رہے گا؟ (رکنِ شوریٰ حاجی ابو مدنی عبد الحبیب عطاری)

جواب : کشمیر میں کچھ ایسے علاقے  ہیں جنہیں  Mini UK (یعنی چھوٹا انگلینڈ) کہا جاتا ہے۔ جن کے پاس پیسا ہوتا ہے وہ اپنا ایک گھر پاکستان میں بھی بنوالیتے ہیں ، تاکہ جب کبھی پاکستان آئیں تو اس گھر میں رہ سکیں۔ جیسے بعض پیسے والے جو دُبئی یا عرب امارات میں رہتے ہیں تو وہ اپنا ایک گھر کراچی میں بناتے ہیں جس سے انہیں سہولت رہتی ہے ، کیونکہ ہر ایک کو ہوٹل موافق نہیں آتا اور جب یہ یہاں نہیں ہوتے تو یہ  گھر ویران پڑا رہتا ہے اور عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ جو گھر خالی رہتا ہے اس میں جنات کا بسیرا ہوجاتا ہے ، اس بات کی حقیقت اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے۔ لوگ گھر کے لئے چوکیدار بھی رکھتے ہوں گے ، کیونکہ ہمارے ہاں قبضہ مافیا کا بھی ڈر رہتا ہے ، اس لئے جو عقل مند ہیں وہ اپنے اس گھر کو راہ ِخدا میں وقف کرکے جنّت کے گھر میں منتقل کردیں۔ یقیناً اگر راہِ خدا میں اپنا گھر دینے کے بدلے اللہ پاک کے کرم سے جنّت میں گھر مل گیا تو وہ دنیا کے اس گھر سے اتنا بہتر ہوگا کہ کوئی عقل اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔ اگرچہ احادیثِ مبارکہ میں ہمیں سمجھانے کے لئے جنت کی مختلف مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ جب جنت دیکھیں گے تو ہی پتا چلے گا ، کیونکہ جنت کی نعمتوں کے بارے میں یہ بھی منقول ہے کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا ، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل پر ان کا خیال گزرا۔ ([2]) ہمت کیجئے اور اپنے کوٹھی ، بنگلے راہ خدا میں وقف کردیجئے۔

 



[1]   ابو داؤد ، كتاب الزكاة ، باب فى حقوق المال ، ۲ / ۱۷۴ ، حدیث : ۱۶۵۸۔

[2]   مسلم ، کتاب الجنة وصفة نعیمھا ...الخ ، باب صفة الجنة ، ص۱۱۶۲ ، حدیث : ۷۱۳۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن