دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Agar Dost Qarza Wapas Na Day To Kia Karain? | اگر دوست قرضہ واپس نہ دے تو کیا کریں؟

book_icon
اگر دوست قرضہ واپس نہ دے تو کیا کریں؟

کوئی شخص  اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کر ے۔ “ ([1]) ایک حدیث شریف میں فرمایا : “ اگرچہ سُود سے بظاہر مال زیادہ ہوتا ہے ، لیکن نتیجہ یہ ہے کہ مال کم ہوجاتا ہے ۔ “ ([2]) ایک حدیث شریف میں ہے : “ شبِ معراج میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جس کے پیٹ  گھر کی طرح بڑے بڑے تھے اور ان پیٹوں میں سانپ تھے ، جو باہر سے دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے پوچھا : اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ جواب دیا : یہ سُود خور ہیں۔ “ ([3])سُود سے حاصل ہونے والا مال حرام  ہے([4]) اور مالِ حرام کے متعلق حدیثِ مبارکہ میں نبیٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم  کا  فرمانِ عبرت نشان ہے : “ جو بندہ حرام مال کماتا ہے اگر اسے خرچ کرے تو اس میں بَرَکت نہیں ہوتی ، صدقہ کرےتو قبول نہیں ہوتا اور اپنے بعد چھوڑ کر مرے تو  وہ مال اس کے لئے جہنم میں جانے کا سامان  ہوتاہے۔ “ ([5])ہمارے ہاں کئی ایسے لوگ ملیں گے جو سود سے بچنا چاہتے ہوں گے ، لیکن انہوں نے سُود کے بارے میں ضروری علم بھی حاصل نہیں کیا ہوتا ، اس لئے پھنس جاتے ہیں ، کیونکہ جب سُود کے بارے میں علم ہوگا تو ہی اس سے بچ سکیں گے ، ورنہ بغیر علم حاصل کئے کیسے بچیں گے؟ جو لوگ تجارت کرتے ہیں ان کے لئے تجارت کے ضروری مسائل سیکھنا فرض ہیں۔ ([6])اللہکریم ہم سب مسلمانوں کو سود کی نحوست سے محفوظ رکھے ۔

کیا سرکار کو علم غیب ہے؟

سُوال :  کیا نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کو علمِ غیب ہے؟ (سوشل میڈیا کے ذریعے سُوال)

جواب : نبی کا لغوی معنی ہے : “ غیب کی خبریں بتانے والا۔ “ اللہ پاک کی عطا سے  ہمارے نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کو  بہت سار ا علمِ غیب حاصل ہے ، کیونکہ اللہ پاک نے فریا ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ رسولوں کو غیب کی خبر دینے کے لئے چن لیتا ہے ، جیسا کہ اس آیتِ مبارکہ میں فرمایا گیا : ( وَ  مَا  كَانَ  اللّٰهُ  لِیُطْلِعَكُمْ  عَلَى  الْغَیْبِ  وَ  لٰكِنَّ  اللّٰهَ  یَجْتَبِیْ  مِنْ  رُّسُلِهٖ  مَنْ  یَّشَآءُ   ۪-  ) ([7]) (تر جمۂ  کنز الایمان : اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چُن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے)۔ اس کے عِلاوہ اور بھی بہت سی آیتیں موجود ہیں جن میں نبیٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے غیب کی خبریں جاننے اور بتانے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

نماز کے بعد مصافحہ کرنا کیسا؟

سُوال : نماز کے بعد ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا کیسا؟(سوشل میڈیا کے ذریعے سُوال)

جواب : نماز کے بعدایک دوسرے سے ہاتھ ملاناجائز ہے ، بلکہ اچھی نیّت کے ساتھ ثواب کا کام ہے۔ ([8])

اَجیروں کے لئے ٹیلی تھون میں حصّہ ملانے کا طریقہ

سُوال : جامعاتُ المدینہ اور  مدارسُ المدینہ (دعوتِ اسلامی) کے لئے ہونے والے ٹیلی تھون میں دعوتِ اسلامی کے اجیر اسلامی بھائی کس طرح تَعاوُن کرسکتے ہیں؟([9])

جواب : ملک وبیرون ملک دعوتِ اسلامی کے 30 ہزار سے زائد اجیر ہیں۔ اگر ہر اجیر ایک یونٹ بھی دے دے تو بہت بڑا مسئلہ حل ہوجائے۔ اللہپاک ہمارے اجیروں کو ایسا دل عطا فرمائے۔ راہ خدا میں دینے کے لئے دل اور جذبہ ہونا چاہیے ، جیسے جامعۃ المدینہ کے ایک استاد صاحب نےٹیلی تھون میں اپنا 24  ہزار کا موبائل دے دیا۔ اسی طرح ہمارے مفتی حسان صاحب کے ایک شاگرد جو بے چارے بے روزگار ہیں انہیں بڑا جذبہ تھا کہ وہ بھی ٹیلی تھون میں کچھ حصّہ ملائیں ، لیکن اسباب نہیں تھے۔ اسی کش مکش میں مُنہ لٹکا ئے  گھر پہنچے تو ان کے بچّوں کی امّی نے دیکھ کر پوچھا کہ خیریت تو ہے آپ کا  مُنہ کیوں اُترا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ٹیلی تھون میں دینے کےلئے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ تو ان کی بیوی نے اپنا سونا نکال کر پیش کیاکہ یہ لیجئے اور ٹیلی تھون میں پیش کردیجئے ، وہ سونا تقریباً 26 ہزار ر وپے کا تھا۔ بہرحال! اللہ پاک اپنی راہ میں خرچ کرنے کے لئے دل عطا فرمائے۔ میرے اجیر مدنی بیٹے اور مدنی بیٹیاں سب نیّت کریں کہ 12ماہ تک اپنی تنخواہ کا دو فیصد حصّہ ٹیلی تھون کی مد میں کٹوائیں گے ، یعنی ایک ہزار  پر صرف 20 روپے اور 10 ہزار پر صرف 200 روپے ہر ماہ ٹیلی تھون کی مَد میں کٹ جایا کریں گے۔ اس سے زیادہ بھی اگر کوئی دینا چاہے تو مرحبا! جتنا شہد ڈالیں گے اتنا میٹھا ہوگا۔

ٹیلی تھون میں حصّہ ملانے والے اجیروں کےلئے دعائے عطار

                                                یا اللہ! دعوتِ اسلامی کے کسی بھی شعبے کا اجیر میرا وہ مدنی بیٹا یا بیٹی جو اپنی تنخواہ میں سے 12 ماہ  تک ہر مہینے دو فیصد ٹیلی تھون میں دے  اسے اس سےپہلے موت نہ دیناجب تک وہ



[1]   ابن ماجه ، کتاب التجارات ، باب التغلیظ فی الربا ، ۳ / ۷۲ ، حدیث : ۲۲۷۴۔

[2]   مسند امام احمد ، مسند عبد الله بن مسعود ، ۲ / ۵۰ ، حدیث : ۳۷۵۴۔

[3]   ابن ماجه ، کتاب التجارات ، باب التغلیظ فی الربا ، ۳ / ۷۱ ، حدیث : ۲۲۷۳۔

[4]   فتاویٰ رضویہ ، ۱۷ / ۷۱۳۔

[5]   مسند امام احمد ، مسند عبد الله بن مسعود ، ۲ / ۳۳ ، حدیث : ۳۶۷۲۔

[6]   فتاوی رضویہ ، ۲۳ / ۶۲۴۔

[7]   پ۴ ، آل عمران : ۱۷۹۔

[8]   درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحة ، باب الاستبراء ، ۹ / ۶۲۸۔

[9]   یہ سُوال شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اَہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن