سونے کے ایک سیٹ کے بدلے نیا سیٹ خریدنا کیسا؟
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Agar Dost Qarza Wapas Na Day To Kia Karain? | اگر دوست قرضہ واپس نہ دے تو کیا کریں؟

book_icon
اگر دوست قرضہ واپس نہ دے تو کیا کریں؟

چیک بنانے والے نے دھوکا دیا اور دھوکا دینا گناہ ہے ، ([1])اس سے توبہ کرنی ہوگی۔ دھوکا دینا مسلمان کاکام نہیں ،  بلکہ یہ اوباش ، بَدمَعاش اور کَرَپٹ لوگوں کا کام ہے۔ جسے Bounce چیک دیا ہے وہ Penalty تو نہیں لے سکتا ، لیکن قانونی طریقہ کار کے مطابق Case  کرسکتا ہے۔

سونے کے ایک سیٹ کے بدلے نیا سیٹ خریدنا کیسا؟

سُوال : جیولر کو سونے کا پرانا سیٹ دے کر نیا سیٹ لیا جاتا ہے۔ ایک سیٹ بھاری ہوتا ہے ، جبکہ دوسرا ہلکا ہوتا ہے۔ جو کمی بیشی ہوتی ہے اس کے بدلے قیمت لےلی جاتی ہے۔ کیااس طرح کرنا جائز ہے؟ (سکندر محمود۔ برلین ، جرمنی)

جواب : ’’دارُ الافتاء اہلِ سنّت‘‘ کے ایک فتوے کی روشنی میں اس کا جواب عرض کرتا ہوں : اگر پرانے سیٹ کے بدلے نیا سیٹ خریدااور مزید رقم شامل نہیں کی تو یہ  دو وجہوں سے سُود اور حرام ہے : (1) پہلی وجہ یہ ہے کہ سونے کو سونے کے بدلے میں برابر بر ابر خریدنا ضروری ہےاور کمی بیشی کے ساتھ سونے کے بدلے سونا خریدنا احادیثِ مبارکہ اور فقہی جزئیات کے مطابق سُود و حرام ہے۔ اسے “ رِبَا بِالْفَضْل(یعنی کمی بیشی کا سُود) کہا جاتا ہے۔ ([2]) (2)سُود ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ نیا سیٹ ہاتھوں ہاتھ نہیں دیا جاتا ، بلکہ کچھ دنوں بعد دیا جاتا ہے ، حالانکہ سونے کو سونے کے بدلے یا چاندی کو چاندی کے بدلے ہاتھوں  ہاتھ ہی بیچنا دُرُست ہے۔ اگر ایک طرف سے بھی اُدھار ہو تو یہ “ رِبَا بِالنَّسِیْئَۃ(یعنی اُدھار کا سُود) ہوجائے گا جو ناجائز ہے اور اس کے ناجائز ہونے کے بارے میں بھی صریح الفاظ میں احادیث موجود ہیں۔ ([3]) اگر پرانا زیور وَزْن میں کم ہو اور نیا زیور وَزْن میں زیادہ ہو ، لیکن سُنار زیادہ سونے کے بدلے رقم بھی لے تو یہاں “ رِبَا بِالْفَضْل(کمی بیشی کا سُود) تو نہیں ہوگا ، لیکن چونکہ سیٹ کے بدلے دوسرا سیٹ ہاتھوں ہاتھ نہیں دیا جاتا ، اس لئے یہاں “ رِبَا بِالنَّسِیْئَۃ(یعنی اُدھار کا سُود) ہونے کی وجہ سے یہ صورت بھی ناجائز وحرام ہوگی۔ ([4])یہاں سُود سے بچنے کی ایک صورت یہ ہوگی کہ جب گاہک سنار کو پرانا زیور بیچنے آئے تو رقم کے بدلے اس زیور کا ریٹ طے کرکے  پہلے زیور خرید لے ، مثلاً 1000 روپے کے بدلے زیور خرید لے اور اس  قیمت کی ادائیگی کے لئے مدّت مقرّر کرے اور زیور پر قبضہ کرلے ، اب اس کے ذِمّے گاہک کا قرض (یعنی پرانے زیور کی قیمت)ہے ، اس کے بعد نئے عَقْد( یعنی نئے سودے )کے ذریعے گاہک سے نئے  سیٹ کا سودا طے کرے۔ اب سُنار سے پرانے سیٹ کے بدلے میں جو رقم لینی تھی نئے سیٹ کی قیمت کی ادائیگی میں  اسے شامل کرلیا جائے ، اب نئے سیٹ کی رقم میں جتنے باقی رہ گئے ہوں وہ شامل کرکے نیا سیٹ حاصل کرلیا جائے۔ یونہی اگر پرانا سیٹ وَزْن میں کم ہو اور اس کے ساتھ رقم ملا کر نیا سیٹ خریدتے ہوئے سُود سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کی صورت یہ ہے کہ جب نیا سیٹ تیار ہو تو ہاتھوں ہاتھ سوداکیا جائے ، یعنی کم وزن والے  پرانے سیٹ کے ساتھ رقم ملا کر کل قیمت سُنار کو دے دی جائے اور اسی وقت نئے سیٹ پر قبضہ کر لیا جائے۔ اللہ پاک مسلمانوں کو شرعی احکام سیکھنے ، سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی  توفیق  عطا فرمائے۔

سُود کی مذمت سے متعلق احادیثِ مبارکہ

سُوال : سُود کی مذمت میں کچھ بیان فرمادیجئے۔ ([5])

جواب : سُود بہت بُری چیز ہے۔ اس وقت تقریباً سار ی دنیا ہی سُود کی لپیٹ میں ہےاور اسی وجہ سے آفات و بلیّات کی لپیٹ میں ہے۔ مصیبت تو یہ ہے کہ پان کے کیبن والا ، ہوٹل والا ، کریانہ والا ، اَلْغرض ایک بہت بڑی تعداد  سُود میں مبتلا ہے۔ ہر ایک سُود نہیں کھاتا ، میں جنرل بات کررہا ہوں۔ بہت سے لوگوں کو تو سُود کے مسائل ہی نہیں پتا ہوتے کہ سُود کب ہوتا ہے اور  کب نہیں ہوتا؟ جیسے کوئی پوچھے کہ پان والا کیسے سُود میں مبتلا ہے تو اس کی صورت یہ ہے کہ کسی نے پان والے کے پاس ایک ہزار روپے رکھوا  ئے اور کہا کہ میں  تم سے روز پان کھاتا ر ہوں گا ، تم ان پیسوں سے کاٹتے رہنا ، یہ سُود ہے ، ([6]) کیونکہ یہاں قرض سے نفع اٹھانا پایا جا رہا ہے ، یعنی   جس نےقرض دیا اس کی رقم محفوظ ہوگئی ، اب اگر ایک ہزار روپے گم ہوجاتے ہیں تو دُکان دار ذِمّہ دار ہوگا اور یہ پان والے کی طرف سے سُود کا دینا ہوا۔ اس کے عِلاوہ بھی سُود کی مزید کئی اقسام ہیں۔

                                                سُود کی مذمّت میں احادیثِ مبارکہ بھی وارد ہوئیں ہیں جن میں سے چند اَحادیث پیش کرتا ہوں : “ نبیٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : جان بوجھ کر سُود کا ایک درہم کھانا 36 مرتبہ  بدکاری کرنے  سے زیادہ سخت ہے۔ “ ([7]) ایک روایت میں ہے : نبی پاک  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمنے ارشاد فرمایا : “ سُود کا گناہ70 حصّہ ہے ، ان میں سب سے کم درجہ یہ ہے کہ



[1]   احیاء العلوم ، کتاب ذم الجاہ والریاء ، بیان حقیقة الریاء وما یراءی به ، ۳ / ۳۶۹ ۔ احیاء العلوم(مترجم) ، ۳ / ۸۸۹۔

[2]   بہار شریعت ، ۲ / ۷۶۹ ، حصّہ : ۱۱۔

[3]   حضرتِ ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ عَنْہ سے روایت ہےکہ پیارے آقا   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا : سونا سونے کے عوض اور چاندی چاندی کے عوض برابر برابر بیچو ، جو زیادہ دے یا زیادہ لے اس نے سودی کاروبار کیا۔  (نسائی ، کتاب البیوع ، باب بیع الدرھم بالدرھم ، ص۷۳۷ ، حدیث : ۴۵۷۸)

[4]   بہار شریعت ، ۲ / ۸۲۱ ، حصّہ : ۱۱۔

[5]   یہ سُوال شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اَہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی ہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت)

[6]   درمختار ، کتاب الحظر والاباحة ، فصل فی البیع ، ۹ / ۶۴۹۔

[7]   مسند امام احمد ، مسند الانصار ، ۸ / ۲۲۳ ، حدیث : ۲۲۰۱۶۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن