30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ پا ک اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔ “ ([1])
1000 گرام بتاکر 900 گرام کا پیکٹ بیچنا کیسا؟
سُوال : میرا چائے کی پتّی کا کام ہے ، بعض اوقات Customer (یعنی گاہک)کمپنی کی پیک شدہ پتی مانگتا ہے جو وَزْن میں کم ہوتی ہے ، مثلاً کسی نے ایک کلو پتّی کا پیکٹ مانگا جس میں 900گرام یا اس سے بھی کم پتّی ہو تو کیا اس کے بارے میں Customer کو بتانا ضروری ہوگا؟ (بابر مارکیٹ لانڈھی ، کراچی سے پتّی کے بیوپاری کا سُوال)
جواب : شرعی مسئلہ یہ ہے کہ اگر وَزْن میں کمی ہو تو بتا کر بیچنا ہوگا ، ([2]) کیونکہ کمپنی کی پیک شدہ چیزوں میں وَزْن کی کمی ہوتی ہے ، اسی طرح جو لباس اور بنیان Ready made (یعنی سلے سِلائے) ملتے ہیں ان میں بھی چور سائزہوتا ہے ، یعنی جتنا سائز لکھا ہوتا ہے اتنانہیں ہوتا۔ بہرحال! بیچنے والے کےلئے ضروری ہے کہ وہ گاہک کو بتادے کہ “ اس پیکٹ پر اگرچہ “ ایک کلو گرام “ لکھا ہوا ہے ، لیکن عام طور پر ایک کلو گرام ہوتا نہیں ہے ، اس سے کم بھی ہوسکتا ہے۔ “ اس طرح بولنے سے ہوسکتا ہے کہ آپ کو یہ لگے کہ گاہک چلا جائے گا۔ یادرکھئے! کوئی آپ کے ہاتھ سے تو چھین سکتا ہے ، لیکن مقدّر سے نہیں چھین سکتا۔ مسلمان تو اپنے رب پر بھروسا رکھتا ہے۔ ہم اَلْحَمْدُ لِلّٰہمسلمان ہیں اور ہمیں اپنے رب پربھروسا ہے ، کیونکہ اللہ پاک کا فرمان ہے : ( وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠(۱۱) ) ([3]) (ترجمۂ کنزالایمان : اور اللّٰہ کا رزق سب سے اچھا )۔ اللہ پاک ہمیں غیب سے روزی عطا کرے گا۔ اگر ہماری نیّت صاف ہوگی تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ منزل آسان ہوگی ورنہ “ نیت میں خطرہ تو جھولی میں پتھرا۔ “
سُوال : اگر کسی کے پاس ایسا بکرا ہو جس میں قربانی کے جانور کی شرائط ہونے کے ساتھ کوئی اَنوکھی بات ہو اور کوئی دوسرا فَربہ بکرا بھی ہو تو ان میں سے کس بکرے کو صدقہ کرنا زِیادہ افضل ہوگا؟ (ایک ویڈیو دکھائی گئی جس میں ایک بکرا اپنے منہ سے دروازہ کھول کر باہر آتا ہے)
جواب : فقہائے کِرام نے قربانی میں قیمتی اور فَربہ جانور ذبح کرنا افضل لکھا ہے۔ رہا صدقہ کرنا تو اب یہاں یہ دیکھا جائے کہ دینے والے کو فَربہ بکرے اور عقل مند بکرے میں سے کون سا پیارا لگتا ہے؟ جو پیارا لگتا ہے وہ صدقہ کرنا زیادہ افضل ہوگا ، کیونکہ چوتھے پارے کی ابتدائی آیت میں ہے : ( لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ )([4]) (ترجمۂ کنزالایمان : تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو)۔ اس آیتِ مبارکہ میں اپنی پسندیدہ چیز راہِ خدا میں دینے کا ذکر ہے۔ بعض اَوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ زیادہ قیمتی چیز کے مقابلے میں کم قیمت والی چیز زیادہ پسند ہوتی ہے تو اس صورت میں کم قیمت والی پسندیدہ چیز صدقہ کرنی چاہیے ، کیونکہ راہِ خدا میں پیاری چیز دینےسے دل پر زیادہ بوجھ پڑتاہے۔ مشہور صحابیٔ رسول حضرتِ سَیِّدُنا ابوذرغفار ی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے کسی نے عرض کی : “ حضور میں آپ کے پاس رہنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : ایک شرط ہے کہ جب میں تمہیں اپنے مال میں سے خرچ کرنے کا کہوں تو میرے بہترین مال میں سےخرچ کرنا۔ اس شخص نے جواباً کہا : ٹھیک ہے۔ ایک دن کسی نےآپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُسے کہا : فُلاں آبادی میں کچھ غربا رہتے ہیں۔ آپ نے خادم کوحکم فرمایا : میرے اُونٹوں میں سے سب سے بہترین اُونٹ کو نَحر کرو ، اس کے گوشت کے حصّے بناؤ اور ان غریبوں میں تقسیم کردو ، جتنا حصّہ ان غریبوں کو ملے اس کے برابر ایک حصّہ اپنے گھر کے لئے بھی رکھ لینا۔ آپ کا یہ حکم سُن کر خادم ایک بہترین فَربہ اُونٹنی لے کر حاضر ہوا ، آپ نے فرمایا : یہ سب سے بہتر تو نہیں ہے ، اس سے بہتر ایک اونٹ ہے۔ اس نے عرض کی : جی ہاں! اس سے بہتر ایک اُونٹ موجود ہے۔ پھر اس اُونٹ کو نَحر کرکے تقسیم کردیاگیا۔ جب اُونٹ تقسیم ہوگیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے خادم سے فرمایا : کیا تم اپنا وعدہ بھول گئے تھے کہ میرے مال میں سے بہترین چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے؟ خادم نے عرض کی : حضور مجھے اپنا وعدہ یاد تھا اور وہ اُونٹ سب سے بہتر بھی تھا ، لیکن چونکہ وہ اُونٹ آپ کے اِستِعمال میں تھا اس لئے میں نے سوچا کہ بانٹنا تو گوشت ہی ہے اوریہ اُونٹنی بھی فَربہ ہے ، اگرچہ اس اُونٹ سے کم بہتر ہے ، اس لئےمیں اُونٹنی لے کر حاضر ہوگیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے ارشاد فرمایا : کیاواقعی میری ضرورت کی وجہ سے وہ اُونٹ روک دیا تھا؟ اس نے کہا : جی ہاں! صرف آپ کی ضرورت کی وجہ سےروکا تھا ، تا کہ آپ کو سواری میں پریشانی نہ ہو۔ یہ سُن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے ارشاد فرمایا : میں بتاؤں کہ میری ضرورت کا دن کون سا ہے؟ اس نے کہا : ارشادفرمائیے۔ فرمایا : میری ضر ورت کا وقت وہ ہے جب میں قبر میں اکیلا رکھ دیا جاؤں گا۔ میں وہ کام کرنا چاہتا ہوں جو مجھے قبر میں کام آئے۔ “ ([5])
بخشنے کی نسبت غیرِ خدا کی طرف کرنا کیسا؟
سُوال : جب لڑائی ہوتی ہے تو یوں کہاجاتا ہے : “ بخشوں گا نہیں “ حالانکہ بخشنے والی ذات تو صرف اللہ پاک کی ہے۔ ایسا کہنا کیسا؟ (چھوٹی بچی عائشہ بنت ناصر عطاری۔ نوریہ آباد ، کراچی)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع