30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : اس شعر میں ’’حاجیو!‘‘ میں ’’نون غنہ‘‘ نہیں آئے گا ، یعنی ’’حاجیوں!‘‘ نہیں پڑھیں گے ، کیونکہ جب کسی کو مخاطب کرتے ہیں تو اس میں ’’نون غنہ‘‘ نہیں آتا ، جیسے : اے لوگو! پیارے پیارے اسلامی بھائیو! وغیرہ۔ رہی بات کعبے کا کعبہ ہونے کی تو پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم بے شک کعبے کا کعبہ ہیں ، کیونکہ کعبے کا پتا ہمیں انہوں نے ہی دیا اور آپ کعبے سے یقیناً افضل ہیں ، بلکہ مدینے شریف میں مزار کے اندر جس جگہ میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم تشریف فرما ہیں زمین کا وہ حصّہ کعبہ ، کعبے کی سیدھ میں آسمانوں میں موجود فرشتوں کے قبلے بیتُ المعمور ، عرش ، کرسی جنّت اور ہر جگہ سے افضل ہے۔ ([1]) جب وہ جگہ ہر جگہ سے افضل ہوسکتی ہے تو اس جگہ تشریف فرما ہونے والے کو اگر ہم کعبے کا کعبہ کہہ دیں تو کیا حرج ہے!!
(اس موقع پر مفتی حسان صاحب نے فرمایا : ) کعبے کا ایک معنی توجہ کا مرکز بھی ہے اور کعبے کا اصل مرکز نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی ذات گرامی اور آپ کا روضہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی ایک مرادیہ بھی ہو۔
سُوال : لوگوں میں موت اور میّت کے موقع پر واویلا کرنے کا رَواج ہوتا ہے ، اس میں بعض اوقات خلافِ شرع الفاظ بھی زبان سے نکل جاتے ہیں ، کیا یہ بھی گناہ میں آئیں گے؟
جواب : واویلا کرنا ، نوحہ کرنا اور جزع فزع کرنا تقریبا سب ایک ہی معنی میں اِستِعمال ہوتے ہیں۔ ’’بہار شریعت‘‘ میں نوحہ کی تعریف یہ لکھی ہے کہ ’’میّت کے اوصاف مبالغہ کے ساتھ بیان کر کے آواز سے رونا نوحہ ہے۔ ‘‘([2]) جیسے یہ کہنا کہ ہنستا تھا تو پھول جھڑتے تھے ، کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا ، بڑا شریف آدمی تھا۔ ا ب اگر اس میں گرہ لگائیں تو یوں ہوجائے گا کہ بہت اچھا آدمی تھا ، نماز ایک نہیں پڑھتا تھا ، بڑا اللہ والا تھا ، جمعہ پڑھنے کے بہانے بھی مسجد میں نہیں جاتا تھا۔ یہ میں نے سمجھانے کے لئے عرض کیا ، کیونکہ عیوب کوئی بھی بیان نہیں کرتا۔ میّت پر نوحہ حرام ہے اور یہ اکثر عورتیں کرتی ہیں۔
اللہ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے : ’’نوحہ کرنے والی نے اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کی تو قیامت کے دن اس طرح کھڑی کی جائے گی کہ اس پر ایک کُرتا قطران یعنی رال کا ہوگا اور ایک کُرتا جرب یعنی کھجلی کا۔ ‘‘([3]) اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : “ رال (نامی دھات) میں آگ جلدلگتی ہے اور سخت گرم بھی ہوتی ہے۔ جرب وہ کپڑا ہے جو سخت خارش میں پہنایاجاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ نائحہ (یعنی نوحہ کرنے والی) پر اس دن خارش کا عذاب مسلّط ہوگا ، کیونکہ وہ نوحہ کرکے لوگوں کے دل مجروح (یعنی غمگین اور زخمی) کرتی تھی تو قیامت کے دن اسے خارش سے زخمی کیاجائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نوحہ خواہ عملی ہو یا قولی سخت حرام ہے ، چونکہ اکثرعورتیں ہی نوحہ کرتی ہیں اس لیے عموماً نائحہ تانیث (یعنی مؤنث) کا صیغہ فرمایا (مطلب یہ کہ اگر مرد بھی ایسا کرے گا تو اسے بھی عذاب ہوگا)۔ “ ([4])
مسلمان بھائی سے تین دن تک بات نہ کرنا کیسا؟
سُوال : جو مسلمان کسی مسلمان سے تین روز تک بات نہ کرے اس پر کیا حکم لگتا ہے؟ (سوشل میڈیا کے ذریعے سُوال)
جواب : اس کی وعیدیں ہیں۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : “ کسی مسلم کو یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے ، تو جو تین دن سے زیادہ چھوڑے پھر مرجائے تو آگ میں داخل ہوگا۔ ‘‘([5]) اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : “ زیادہ سے مراد یا تو ایک ساعت کی زیادتی ہے یا چوتھے دن کی زیادتی یعنی اگر چار دن چھوڑے رہا یا تین سے ایک ساعت زیادہ چھوڑا۔ (مزید فرماتے ہیں : )مسلمان بھائی سے عداوت دنیاوی آگ ، حسد ، بغض کینہ یہ سب مختلف قسم کی آگ ہیں اور آخرت میں اس کی سزا وہ بھی آگ ہی ہے رب چاہے تو بخش دے چاہے تو سزا دے دے۔“ ([6])
بہرحال! بلا اجازتِ شرعی اپنے کسی مسلمان بھائی سے کسی بھی دشمنی کی وجہ سے تین دن بات چیت بند کردینا جائز نہیں ہے۔ ([7]) البتہ اگر کسی سے برسوں ملاقات ہی نہ ہوئی اور اس وجہ سے بات چیت نہ ہوسکی تو وہ اس میں داخل نہیں ہے۔ جب کسی ناراضی کی وجہ سے بات چیت بند ہوتی ہے تو عام آدمی بھی سمجھ جاتا ہے۔ اللہ کریم ہمیں اس سے بچائے۔
کیا جُوئیں مارنے سے وُضو ٹوٹ جاتا ہے؟
سُوال : کیا جُوئیں مارنے سے وُضو ٹوٹ جاتا ہے؟ (سوشل میڈیا کے ذریعے سُوال)
[1] حاشية الصاوی علی الشرح الصغیر ، باب فی حقیقة الیمین واحکامه ، ۱ / ۳۵۴۔
[2] بہارِ شریعت ، ۱ / ۸۵۴ ، حصّہ : ۴۔
[3] مسلم ، کتاب الجنائز ، باب التشدید فی النیاحة ، ص۳۶۲ ، حدیث : ۲۱۶۰۔
[4] مراٰۃ المناجیح ، ۲ / ۵۰۳۔
[5] ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب فيمن يهجراخاه المسلم ، ۴ / ۳۶۴ ، حديث : ۴۹۱۴۔
[6] مراٰۃ المناجیح ، ۶ / ۶۱۲۔
[7] فتاویٰ رضویہ ، ۶ / ۵۲۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع