دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Afw o Darguzar Ki Fazilat Ma Aik Aham Madani Wasiyat | عفو ودرگزر کی فضیلت مع ایک اہم مدنی وصیت

Jadoo Karne Wale Se Darguzar

book_icon
عفو ودرگزر کی فضیلت مع ایک اہم مدنی وصیت

جادو کرنے والے سے درگزر

  رسولِ اکرم،    نُورِ مُجسَّم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم  پر لَبِیدبن اَعصَم نے جادو کیا تورحمت عالَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم  نے اس کا بدلہ نہیں لیا۔ نیز اس یہودِیَّہ کو بھی مُعاف فرما دیا جس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم  کو زہر دیا تھا۔  (اَلْمَواہِبُ اللَّدُنِّیَّۃ لِلْقَسْطَلَّانِی ج۲ص۹۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت) 
کیوں میری خطاؤں کی طرف دیکھ رہے ہو
جس کو ہے مِری لاج وہ لَجپال بڑا ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

شانِ مُصطَفٰے

اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے سر تاج ،    صاحِبِ معراج ،    محبوبِ ربِّ بے نیاز  عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نہ تو عادۃً بُری باتیں کرتے تھے اورنہ تکّلفاً اورنہ بازاروں میں شورکرنے والے  تھے اورنہ ہی بُرائی کا بدلہ بُرائی سے دیتے تھے بلکہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  مُعاف کرتے اوردرگزر فرمایا کرتے تھے۔     (سُنَنِ تِرمِذی ج۳ص۴۰۹حدیث۲۰۲۳) 

روزانہ 70 بار مُعاف کرو

ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوا اور عرض کی :یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  !ہم خادِم کو کتنی بارمُعاف کریں؟آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  خاموش رہے۔ اُس نے پھر وہ سُوال دُہرایا،    آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  پھر خاموش رہے ،    جب تیسری بارسُوال کیاتو ارشاد فرمایا:روزانہ ستّر بار۔   (سُنَنِ تِرمِذی ج۳ص۳۸۱ حدیث۱۹۵۶ دارالفکربیروت) 
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:عربی میں ستّر کا لفظ بیان زیادتی کے لیے ہوتا ہے یعنی ہر دن اُسے بہت دفعہ مُعافی دو، یہ اس صورت میں ہو کہ غلام سے خطاء ً  غلطی ہوجاتی ہے خباثتِ نفس سے نہ ہو اور قُصور بھی مالِک کا ذاتی ہو، شریعت کا  یاقومی و ملکی قُصور نہ ہو کہ یہ قُصورمُعاف نہیں کیے جاتے ۔       (مراٰۃ ج۵ص۱۷۰) 

گالیوں بھرے خُطوط پر اعلٰی حضرت کا عَفو ودرگزر

کاش!ہمارے اندر یہ جذبہ پیدا ہوجائے کہ ہم اپنی ذات اور اپنے نفس کی خاطِرغُصّہ کر نا ہی چھوڑ دیں ۔ جیسا کہ ہمارے بُزُرگوں کا جذبہ ہوتاتھا کہ ان پر کوئی کتنا ہی ظلم کرے یہ حضرات اُس ظالم پر بھی شفقت ہی فرماتے تھے۔  چُنانچِہ ’’ حیاتِ اعلیٰ حضرت ‘‘میں ہے:میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کی خدمت میں ایک بار جب ڈاک پیش کی گئی تو بعض خُطوط مُغَلَّظات ( یعنی گندی گالیوں )  سے بھرپور تھے۔ مُعتقِدین بَرہَم (غصّے)  ہوئے کہ ہم ان لوگوں کے خِلاف مُقَدّمہ دائر کریں گے۔  امامِ اَہلسنَّت مولیٰنا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرّحمٰن نے ارشاد فرمایا:’’جو لوگ تعریفی خُطوط لکھتے ہیں پہلے ان کو جاگیریں تقسیم کردو ،    پھر گالیاں لکھنے والوں پر مُقَدّمہ دائر کردو۔ ‘‘  (حیات اعلیٰ حضرت ج۱ص۱۴۳ مُلَخَّصاً)  مطلب یہ کہ جب تعریف  کرنے والوں کو تو انعام دیتے نہیں پھر بُرائی کرنے والوں سے بدلہ کیوں لیں !
احمدرضا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا تازہ گلستاں ہے آج بھی
خورشیدِ علم اُن کا درخشاں ہے آج بھی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللّٰہ! اَسْتَغْفِرُاللّٰہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ایک اَہَم مَدَنی وَصیَّت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! میری عمر تادمِ تحریر تقریباً 60برس ہوچکی ہے، موت لمحہ بہ لمحہ قریب آ رہی ہے،    نہ جانے کب آنکھ بند ہو جائے ۔  اللّٰہُ رحمٰن عَزَّوَجَلَّ  کے دربارِ والا شان میں سلامتیٔ ایمان اور نَزْع و قبرو حشر میں امن و امان ، بے حساب بخشش اور جنَّت الفردوس میں مَدَنی سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جَوار کا طلبگار ہوں۔  میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں دنیا کے بَہُت نَشِیب وفَراز دیکھے ہیں، اِخلاص کم اور دِکھاواکثیر،    وَفا کم اور خوشامدخَطیر (یعنی زیادہ)  ہے، اس سے بڑھ کر بھی کیابے وفائی ہو گی کہ وہ ماں باپ جنہوں نے ہزار اِحسانات کئے ہوتے  ہیں مگر اُن کی کوئی ایک معمولی سی بات بھی ناگوار گزرجاتی ہے تو سارے اِحسانات بُھلا کر،    ناخَلَف اولاد اُن کو لات مار دیتی ہے!آہ! مکّار و عیّارشیطان نے قُلوب و اَذہان میں بَہُت زیادہ خرابیاں ڈالدی ہیں۔  اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی میں لاکھوں لاکھ مسلمان شامل ہیں جیسا کہ عموماً تنظیموں میں لوگوں کا آنا جانا رہتا ہے اِسی طرح دعوتِ اسلامی سے بھی روٹھ ٹوٹ کر کچھ افرادکو الگ ہوتے پایا ہے ، مَدَنی ماحول سے دُوری کے بعد بعضوں کی بے عملیوں کا سلسلہ بھی سامنے آیا ہے، بعض ناراض اسلامی بھائیوں نے اپنا اپنا جداگانہ گروپ بھی بنایاہے، بعضوں نے میرے خلاف بَہُت کچھ کہا، لکھا اور دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کی بھی جی بھر کرمُخالَفتیں کی ہیں مگر اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ یہ الفاظ لکھنے تک دعوتِ اسلامی برابر ترقّی کی مَنازِل طے کر رہی ہے اور کوئی بھی گروپ بظاہر اب تک دعوتِ اسلامی سے آگے بڑھنا کُجا برابری بھی نہیں کرنے پایا۔ میں نے تنظیمی کاموں میں زندگی کا کافی حصّہ گزارا ہے، لہٰذا اپنے تجرِبات کی روشنی میں تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی  بہنوں کی خدمتوں میں محض آخِرت کی بھلائی کے پیشِ نظر ہاتھ جوڑ کر مَدَنی وصیَّت کرتا ہوں : میری یہ بات ہمیشہ کیلئے گِرِہ میں باندھ لیجئے کہ میرے جیتے جی بھی اور میرے مرنے کے بعد بھی دعوتِ اسلامی میں ایک بار شُمولیَّت کر لینے کے بعد دعوتِ اسلامی کا تَشَخُّص  (مَثَلاً سبزعمامہ شریف وغیرہ) رکھتے ہوئے طریقۂ کار سے ہٹ کر ہرگز کسی قسم کا ’’مُتَوازی گروپ ‘‘ مت بنایئے گا، دین کے کام کے حوالے سے بھی اگرآپ نے اپنا کوئی الگ سلسلہ شروع کیاتو غیبتوں، تہمتوں، بدگمانیوں، دل آزاریوں، آپس کی دشمنیوں، باہمی نفرتوں وغیرہ وغیرہ سے خود کو بچانا قریب قریب ناممکن ہو جائے گابلکہ ہو سکتا ہے کہ بے شمار مسلمان اِ س طرح کی آفتوں کی لپیٹ میں آ جائیں ۔  اگر کوئی یہ سمجھے کہ دعوتِ اسلامی سے جدا ہونے کے بعد الگ گروپ بنا کر میں نے تو  فُلاں فُلاں دین کا بَہُت بھاری کام سرانجام دیا ہے، تو میں اُس کی توجُّہ اِس طرف دلانا چاہوں گا کہ وہ یہ بھی غو ر کر لے کہ جُدا ہونے کے باعِث کہیں غیبتوں وغیرہ گناہوں کی نُحوستوں میں تو نہیں پھنسا تھا؟ اگر نہیں پھنسا  تھا تو صد کروڑ مبارک! اوراگر پھنسا تھا تو پھر ضمیر ہی سے پوچھ لے کہ میرے فُلاں فُلاں مُستَحَب دینی کاموں کا وَزن زیادہ یا اِن دینی کاموں کے ضِمن میں جن غیبتوں وغیرہ حرام چیزوں کاصُدور ہوا اُن کا وَزن زائد؟اگر دل خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کا حامِل ہوا، علمِ دین کا فیضان رہا اور ضمیر زندہ پایا تو یہی جواب ملیگا کہ یقینا زندگی بھر کے مُستَحَب کاموں کے مقابلے میں صِرف ایک بار کی ہوئی گناہ بھری غیبت ہی زیادہ وَزنی ہے کہ مُستَحَب  کام نہ کرنے پر عذاب کی کوئی وعید نہیں جبکہ غیبت پر عذاب کا اِستحقاق ہے ۔ معلوم ہوا ایک بار دعوتِ اسلامی میں شامل ہو جانے کے بعد نکلنے یا نکالے جانے پر جُدا گانہ گروپ بنا نے میں  مِن حَیثُ الْمَجْمُوع ( یعنی مجموعی حیثیت سے)  نقصان ہی کا پہلو غالِب ہے۔ 

فتاوٰی رضویہ کے اہم اقتباسات

اگر سچ پوچھئے تو ایسادینی کام جس  سے مسلمانوں میں نفرت کی کیفیت جنَم لینے لگے اوراس کاکرنا فرض،    واجِب یاسُنَّتِ مُؤَکَّدہ نہ ہو تو اُس کام کو ترک  کرناہی مناسب ہے اگر چِہ افضل ومُستَحب ہو۔ ٭ چُنانچِہ ایک مقام پر میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ   مسلمانوں کے اتّحاد کی اَھمِیَّت کو اُجاگر کرنے کیلئے نقل فرماتے ہیں: ’’لوگوں کی تالیفِ قلبی   ( یعنی دلجوئی )  اور ان کو مُجتَمع  ( مُتَّحِد)  رکھنے کے لئے اَفضل کو ترک کرنا انسان کے لئے جائز ہے تا کہ لوگوں کو نفرت نہ ہو جائے جیسا کہ نبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم علیہ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسلیم نے بیتُ اللہ شریف کی عمارت کو اس لئے اہلِ قریش کی بنیادو ں پر قا ئم رکھا تا کہ جو لوگ نئے نئے اسلام لائے وہ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔  (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۷  ص ۶۸۰  مُلَخَّصاً)  ٭تَنفیرِ مسلمین  (یعنی مسلمانوں کو نفرت میں مبتلا کرنے) سے بچنے کیلئے ضَرورتاً مُستحَب کو ترک کر دینے کا حکم ہے۔  جیسا کہ میرے آقااعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  مسلمانوں کے درمیان پیار و مَحَبَّت کی فَضا قائم رکھنے کا ایک مَدَنی اُصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اِتیانِ مُستَحب و ترکِ غیرِ اَولیٰ پر مُداراتِ خلق و راعاتِ قُلوب کو اہم جانے اور فتنہ و نفرت و ایذاو وحشت کا باعِث ہونے سے بَہُت بچے۔   (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۴ ص۵۲۸) ٭ میرے آقا اعلیٰ حضر ت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ   شریعتِ مطہرہ کا قاعدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : دَرْئُ الْمَفَاسِدِ اَہَمُّ مِنْ جَلْبِ الْمَصَالِحِ یعنی  خرابیوں کے اسباب دور کرنا خوبیوں کے اسباب حاصل کرنے سے اَہم ہے۔ ( فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ  ج ۹ ص۵۵۱رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جس نے تَشَخُّص تبدیل کر لیا!

رہے وہ حضرات جودعوتِ اسلامی کا تَشَخُّص تَرک کرچکے اور بِلااِجازتِ شرعی دعوتِ اسلامی کی کسی قسم کی مخالَفَت بھی نہیں کرتے اورغیبتوں ، تہمتوں اور بَدگُمانیوں وغیرہ میں پڑے بغیر اپنی ترکیب سے دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کی کاوِشوں کوقَبول فرمائے۔ مگر وہ جو تشخُّص تبدیل کر کے الگ گروپ بنا نے کے بعد بلااجازتِ شرعی دعوتِ اسلامی کی مُخالَفَت کرکے نیکی کی دعوت عام کرنے والی اس مَدَنی تحریک کو کمزور کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہوں ،    اِس مقصد کے لئے غیبتوں ،    تہمتوں،    بہتان تراشیوں، بدگمانیوں،      عیب دَریوں، بُرے چَرچوں،    اِلزام تراشیوں اور چُغلیوںکو اپنا ہتھیار بنالیں اور اسے اپنے زُعمِ فاسِد میں دین کی بہت بڑی خدمت تصوُّر کریں ،    ایسوں کو سنبھل جانا چاہئے کہ یہ دین کی خدمت نہیں، انتہائی دَرَجے کی مذموم حَرَکت ہے بلکہ شرعاً اِن ناجائز کاموں کا اِرتکاب کر کے اپنے نامۂ اعمال کو گناہوں سے پُر کرنا ہے۔  یُونہی جو تشخُّص برقرار رکھتے ہوئے بھی بِلااِجازتِ شرعی دعوتِ اسلامی کی مُخالَفَت کرے گا اور لوگوں کو مُتَنَفّر کر کے (یعنی نفرت دِلا کر)  دعوت اسلامی اور اس کے طریقۂ کار کو نقصان پہنچانا اُس کا مقصد ہوگا وہ بھی فعلِ ناجائز کا مُرتکِب ٹھہرے گا۔  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن