دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Adaab e Dua | آداب دعاء

book_icon
آداب دعاء

جن باتوں کی دُعا کرنا منع ہے ، ان سے متعلق دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی کتاب  ” فضائل دُعا “ سے چند مدنی پھول پیشِ خدمت ہیں :

1.       دُعا ميں حد سے نہ بڑھے جیسے اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا مرتبہ مانگنا يا آسمان پر چڑھنے کی تمنّا کرنا نیز دونوں جہاں کی ساری بھلائیاں اور سب کی سب خوبیاں مانگنابھی مَنْع ہے کہ ان خوبيوں ميں مَراتبِ اَنبيا عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام بھی ہيں جو نہيں مل سکتے ۔ لہٰذا  یوں نہیں کہہ سکتے کہ دونوں جہاں کی ساری بھلائیاں عطا فرما ۔  اَلبتہ یہ دُعا کی جا سکتی ہے کہ ہمیں دِین و دُنیا کی بھلائیاں عطا فرما ۔   

2.        جومُحال (یعنی ناممکن)يا قریب بہ مُحال ہو اُس کی دُعا نہ مانگے لہٰذا ہميشہ کے لئے تندرستی و عافیت مانگنا کہ آدَمی عمر بھر کبھی کسی طرح کی تکلیف میں نہ پڑے یہ مُحالِ عادی کی دُعا مانگنا ہے لہٰذا یوں نہیں کہہ سکتے کہ  ” کوئی مسلمان کبھی بھی بیمار نہ ہو “ ، اَلبتہ یہ دُعا کی جاسکتی ہے کہ   ہمارے بیماروں کو اچھا کر دے ۔ یُونہی لمبے قد کے آدَمی کا چھوٹا قد ہونے يا چھوٹی آنکھ والے کا بڑی آنکھ کی دُعا کرنا ممنوع ہے کہ یہ ایسے اَمر کی دُعا ہے جس پر قلم جاری ہو چکا ہے (یعنی اس کا فیصلہ ہو چکا ہے لہٰذا اَب اس پر صبر کرتے ہوئے   دُعا  نہ کرے ) ۔   

3.       گناہ کی دُعا نہ کرے کہ مجھے پرایا  مال مل جائے کہ گناہ کی طلب کرنا بھی گناہ ہے  ۔

4.       قطعِ رِحم (یعنی عزیزوں سے تعلّق توڑنے )کی دعانہ کرے ، مثلاً یوں نہ کہے : فلاں وفلاں رشتہ داروں میں لڑائی ہو جائے  ۔

5.       اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے صرف حقیر چيز نہ مانگے کہ پروَردگار عَزَّوَجَلَّ غنی ہے  ۔ مثلاً دُنیا حقیر و  ذلیل ہے ، ضرورت سے زائد اس کی طلب ناپسندیدہ ہے لہٰذا دعا میں بس مال و دولت کی کثرت کی طلب کرنا اور آخرت کی بہتری کا بالکل بھی سوال نہ کرنا حقیر چیز  مانگنا ہے ، جس کی ممانعت ہے  ۔

6.       رنج و مصیبت سے گھبرا کر اپنے مرنے کی دُعا  نہ کرے کہ مسلمان کی زندگی اس کے حق میں غنیمت ہے ، اَلبتہ یوں دُعا کی جا سکتی ہے کہ  ” خُدایا! مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہے اور مجھے وفات دے ، جس وقت موت میرے حق میں بہتر ہو “ ، لہٰذا یہ دُعا نہیں کر سکتے کہ  ” اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اب تو مَصائب و آلام (تکلیفوں)نے کمر توڑ ڈالی، صبر کا پیمانہ بھی جواب دے گیا  لہٰذا اے مولا! اب موت دے کر ان تکالیف سے چھٹکارا  دیدے  ۔  “

7.       بے غرضِ شَرعی (شرعی اجازت کے بغیر)کسی کے مرنے اور خرابی (بربادی)کی دُعا نہ کرے ، اَلبتہ اگر کسی کافِر کے ايمان نہ لانے پر يقین يا ظنِّ غالِب ہو اور (اس کے )جینے سے دِين کا نقصان ہو يا کسی ظالِم سے توبہ اورظُلْم چھوڑنے کی اُمّیدنہ ہواور اُس کا مرنا، تباہ ہونا مخلوق کے حقّ ميں مُفید ہو تو ایسے شخص پر بددُعا کرنا دُرُست ہے  ۔

8.       کسی مسلمان کو يہ بددُعا نہ دے کہ  ”  تُو کافِر ہو جائے “ کہ بعض عُلَما کے نزديک (ایسی دُعا مانگنا)کُفر ہے اور تحقیق يہ ہے کہ اگرکُفر کو اچّھا يا اسلام کو بُرا جان کر کہے تو بے شک کُفر ہے ورنہ بڑا گناہ ہے کہ مسلمان کی بدخواہی (یعنی بُرا چاہنا)حرام ہے ، خُصُوصاً يہ بدخواہی (کہ فُلاں کا ایمان برباد ہو جائے )توسب بدخواہيوں سے بدترہے ۔

9.       کسی مسلمان پر لعنت نہ کرے اور اسے مَردود و مَلعُون(لعنت کیا گیا) نہ کہے اور جس کافِر کا کُفر پر مرنا يقینی نہيں اُس پر بھی نام لے کر لعنت نہ کرے  ۔ یُونہی مچھّر، ہوا، جَمادات (یعنی بے جان چیزوں پتّھر، لوہا وغیرہ)اور حَيوانات پر لعنت ممنوع ہے ۔ اَلبتہ بچھو وغيرہ بعض جانوروں پر حديثِ پاک ميں لعنت آئی ہے ۔

10.  کسی مسلمان کو يہ بد دُعا نہ دے کہ  ” تجھ پر خدا کا غضب نازل ہو اورتُو (بھاڑ) آگ يا دوزخ ميں داخِل ہو “  کہ حدیث شريف  میں اس کی مُمانَعَت وارِد ہے (یعنی حدیثِ پاک  میں اس قسم کی  دُعا سے منع کیا گیا ہے ) ۔  

11.  جو کافِر مرا، اُس کے لئے دُعائے مغفِرت حرام و کُفر ہے ۔

12.  یہ دُعا  کرنا :  ” خدایا! سب مسلمانوں کے سب گناہ بخش دے  ۔ “ جائز نہيں کہ اس ميں اُن احاديثِ مبارَکہ کی تکذيب (جھٹلانا)ہے جن ميں بعض مسلمانوں کا دوزخ ميں جانا وارِد ہوا، البتہ يوں دُعا کرنا  ” ساری اُمّتِ محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مغفِرت(یعنی بخشش) ہو يا سارے مسلمانوں کی مغفِرت ہو، جائز ہے ۔ “ دونوں دُعاؤں میں فرق یہ ہے کہ پہلی دعا (یعنی سب مسلمانوں کے سب گناہ بخش دیئے جائیں اس )سے لازم آتا ہے کہ کوئی بھی مسلمان ایک لمحہ کے لیے بھی دوزخ میں نہ جائے حالانکہ بعض مسلمانوں کا اپنے گناہوں کے سبب دوزخ میں جانا طے شُدہ ہے لہٰذا ان الفاظ سے دُعا نہیں مانگ سکتے جبکہ دوسری دعا (ساری اُمّتِ محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مغفِرت (یعنی بخشش) ہو يا سارے مسلمانوں کی مغفِرت ہو) میں یہ قباحت (بُرائی)نہیں کیونکہ اس  میں فقط سارے مسلمانوں کے لیے مغفرت مانگی گئی ہے اور یہ تو اَحادیث سے ثابت ہے کہ جہنم میں جانے والے مسلمانوں کی بھی بالآخر مغفرت کر دی جائے گی اور انہیں دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا ۔  

13.  اپنے لئے اور اپنے دوست اَحباب، اَہل و مال اور اولاد کے لئے بددُعا نہ کرے ، کيا معلوم کہ قَبولیَّت کا وَقت ہو اور بددُعا  کا اثر ظاہِر ہونے پر نَدامت(شرمندگی) ہو ۔

14.  جو چيز حاصِل (یعنی اپنے پاس) ہواس کی دُعا نہ کرے مَثَلًا مرد يوں نہ کہے  ” يا اللہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے مرد کر دے “ کہ اِستہزا (مذاق بنانا) ہے البتہ ایسی دُعا جس ميں شريعت کے حکم کی تعميل(یعنی شرعی حکم پر عمل کرنا) يا عاجزی وبندگی کا اِظہار يا پروردگارعَزَّوَجَلَّ اور مدينے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مَحَبَّت يا دِين يا اَہلِ دين کی طرف رَغبت يا کُفر و کافِرِين سے نفرت وغيرہ کے فوائد نکلتے ہوں، وہ جائز ہے اگرچِہ اس اَمر کاحُصول يقينی ہو جيسے دُرُود شريف پڑھنا ، (حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لیے مقامِ) وسیلہ کی دعا کرنا، (مسلمان ہونے کے باوجود اپنے لیے ) صراطِ مستقيم (سیدھے راستے ) کی ، اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے دشمنوں پرغَضب و لعنت کی دُعا  کرنا ۔ ([1])

اللہ تعالیٰ کو کن ناموں کے ساتھ پکارنا منع ہے ؟

دُعا مانگنے والے کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کن ناموں کے ساتھ اللہ پاک کو پکار سکتے ہیں اور کن کے ساتھ نہیں؟اللہ  کریم کا فرمانِ عالیشان ہے ) وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى



[1]     فضائلِ دعا، ص۱۷۲  تا  ۲۱۵ ماخوذاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن