دعا میں الفاظ کا انتخاب
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Adaab e Dua | آداب دعاء

book_icon
آداب دعاء

دُنیوی بادشاہوں ، اُن کے درباروں اور عُہدہ داروں کے پاس جانے کے آداب بجا لانے  کا یہ عالَم ہے تو اللہ پاک جو بادشاہوں کا بھی بادشاہ ہے ، اس کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرنے میں کس قدر اِہتمام ہونا چاہیے ۔ یہ ہر ذِی شُعور سمجھ سکتا ہے ۔ لہٰذا جب بھی دُعا مانگیں تو اِنتہائی توجُّہ اور یکسوئی کے ساتھ دُعا کے آداب بجا لاتے ہوئے  مانگئے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دُعا  قبول ہو گی ۔

دُعا میں الفاظ کا انتخاب  :

دُعا کے دوران بہترین الفاظ کا چناؤ بندے کو کسی مصیبت و پریشانی سے نجات دِلا سکتا ہے اور غیر محتاط الفاظ بندے کو آزمائش میں بھی مبتلا کر سکتے ہیں جسے اس واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے :

       بنی اسرائیل میں بَسُوس نام کا ایک شخص تھا ، اسے حکم ہوا کہ تیری تین دعائیں قبول ہوں گی ۔ اُس نے اپنی  بیوی کے لئے بنی اسرائیل کی سب سے خوب صورت عورت بن جانے کی دعاکی، اس کی بیوی بنی اسرائیل کی خوب صورت ترین عورت بن گئی مگرخوب صورتی کے غرور نے بیوی کوشوہر کا نافرمان بنا دیا ۔ تنگ آکربَسُوس نے اسے بھونکنے والی کتیا بن جانے کی بددعا دی، یہ بھی فوراً قبول ہوئی اور وہ کتیا بن گئی ۔ بَسُوس کے بیٹوں نے اپنی ماں کی حالت دیکھ کرباپ سے سفارش کی تواُس نے  دعا کی :  الٰہی!اسے پہلے والی شکل و صورت عطاکردے  ۔ یہ دعا بھی قبول ہوئی اور اُسے پہلے جیسی صورت عطاکردی گئی ۔ یوں بَسُوس نے لفظوں کا غلط انتخاب کرکے قبولیت سے سرفراز ہونے والی تین دعائیں ضائع کردیں ۔ ([1])

عُلَمائے کرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے دعا کے کچھ آداب بیان فرمائے ہیں :  ٭باطہارت  ہو٭ قبلہ کی جانِب رُخ ہو ٭مکمل توجہ کے ساتھ دُعا کرے ٭دُعا کے اوّل و آخر نبیٔ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر دُرُود پڑھے ٭ہاتھوں کو آسمان کی طرف اُٹھائے اور اپنی دُعا میں مسلمانوں کو بھی شامل کرے ٭قبولیتِ دعا کے لمحات مثلاً جمعہ کے دن خطبہ کے وقت([2])، بارش برستے ہوئے ، اِفطار کے وقت، رات کے تہائی پہر اور ختمِ قرآن کی مجلس وغیرہ کا لحاظ کرے  ۔ ([3])

دعا میں ہاتھ اُٹھانے کا طریقہ :

حضرتِ سَیِّدُنا علامہ اسماعیل حقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں  : افضل یہ ہے کہ دعا میں دونوں ہاتھوں کو پھیلائے  اور ان کے درمیان فاصلہ رکھے اگرچہ قلیل ہو ۔  ایک ہاتھ کو دوسرے پر نہ چڑھائے   ۔ ([4])

شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ دعا شروع کروانے سے پہلے ہاتھ اٹھانے کے آداب اس طرح بیان فرماتے ہیں : دعا کے آداب میں سے ہے کہ جب بھی دُعا مانگیں تو نگاہیں نیچی رکھیں ورنہ نظر کمزور ہوجانے کا اندیشہ ہے ۔ دعا کے لئے دونوں ہاتھ اس طرح اٹھائیں کہ سینے کی سیدھ میں رہیں... کندھوں کی سیدھ میں... چہرے کی سیدھ میں... یا اتنے بلند ہوجائیں کہ بغل کی سفیدی نظر آجائے ... چاروں صورتوں میں ہتھیلیاں آسمان کی طرف پھیلی ہوئی رکھیں کہ دعا  کا قبلہ آسمان ہے  ۔ ([5])

كن باتوں کی دُعا کرنا منع ہے ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُعا کرنے والے کو یہ بھی  علم ہونا چاہیے کہاللہ کریم  کی بارگاہ سے کیا مانگنا ہے اور کس طرح مانگنا ہے ؟ بسااوقات ممنوع وناجائز چیزوں کی دُعا مانگی جارہی ہوتی ہے اور کبھی دُعا تو جائز چیزوں کے متعلق ہوتی ہے مگر الفاظ ایسے استعمال کیے جاتے ہیں جو اللہ پاک کی شان کے لائق نہیں ہوتے اور کبھی عافیت مانگنے کے بجائے آفت مانگی جا رہی ہوتی ہے جیسا کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ایک دُعا مانگنے والے شخص کویہ کہتے سُنا :  ” الٰہی !میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں ۔ “ فرمایا :  ”  تُو آفت مانگ رہا ہے ، اﷲ عَزَّوَجَلَّ سے عافیت مانگ ۔  “ ([6])

اِس حدیثِ پاک کے تحت  مشہور مُفَسّر، حکیمُ الاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :  معلوم ہوا کہ دُعا کے اَلفاظ بھی اچھے چاہئیں اور نیت بھی اعلیٰ، وہاں لفظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہے ۔ ([7])

آزمائش مت مانگئے

حضرت سَیِّدنا امام محمد بن ادریس شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہنے ایک بیماری میں یوں دُعا کی : یااللہ  عَزَّ  وَجَلَّ ! اگر تیری رضا اسی میں ہے تو اس بیماری میں اضافہ کر دے ۔ یہ دُعا سن کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے استاد حضرت امام مسلم بن خالد زَنجیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : اے محمد! رُک جاؤ، اللہ پاک  سے صحت کا سوال کرو میں اورتم آزمائش (برداشت کرنے )والے لوگوں میں سے نہیں ہیں ۔ ([8])

 



[1]     تفسیر بغوی، پ ۹، الاعراف :  ۱۷۵، ۲ / ۱۸۰

[2]    افضل یہ ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بغیر ہاتھ اٹھائے ، بلا زبان ہلائے دل میں دعا مانگی جائے ۔ (نماز کے احکام، ص۴۱۲ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

[3]    روح المعانی، پ ۸، الاعراف، تحت الآية : ۵۵، ٨ / ۵۲۷ ملتقطاً

[4]     روح البیان، پ۸، الاعراف، تحت الآية : ۵۵ ، ۳ / ۱۷۸ ملتقطاً

[5]     فضائل دُعا، ص ٦٧، ۷۵ ملخصاً، مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی 

[6]     ترمذی، کتاب الدعوات ، باب (ت :  ...)، ۵ / ۳۱۲، حدیث : ۳۵۳۸

[7]     مراٰۃ المناجیح، ۴ / ۴۰

[8]     تنبیہ المغترین ، ومن اخلاقھم تمنی الموت اذا خافوا الخ ، ص۴۵ ملخصاً

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن