30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یَا اَرْحَمَ الرّٰ حِمِیْن...! یَااَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن...! یَااَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن...! یَارَبَّنَا...! یَارَبَّنَا...! یَارَبَّنَا...! یَارَبَّنَا...! یَارَبَّنَا...! یااللہُ...! یارَحْمٰنُ...! یارَحِیْمُ ...! اے مریضوں کو شفا دینے والے ...!!! اے ہم گناہ گاروں کے عیبوں کو چھپانے والے ...!!! اے پریشان حالوں کی پریشانیاں دُور کرنے والے مولا...!!! اے ہم ذَلیلوں کے سروں پر عزت کا تاج سجانے والے ...!!!تیرے سیاہ کار بدکار بندے حاضر ہیں...!!!
کر کے توبہ پھر گناہ کرتا ہے جو
میں وہی عطار ہوں کردو کرم
اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!گناہوں سے گندہ نامَۂ اعمال لیے حاضر ہیں...ہاتھ بھی گناہوں سے سیاہ، چہرہ بھی گناہوں کی سیاہی سے کالا کالا ہے ...مولا! دل بھی کالا کالا ہے ...رُواں رُواں گناہوں میں لِتھڑا ہوا ہے ....مولا! ہمارے قلب کی سختی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے ... اے مولا! ہمارا حال بہت بُرا ہے ۔
آہ! ہر لمحہ گنہ کی کثرت و بھرمار ہے
غلبۂ شیطان ہے اور نفسِ بد اطوار ہے
مجرموں کے واسطے دوزخ بھی شُعْلہ بار ہے
ہر گنہ قصداً کیا ہے اس کا بھی اقرار ہے
چھپ کے لوگوں سے گناہوں کا رہا ہے سلسلہ
تیرے آگے یا خدا! ہر جرم کا اِظہار ہے
٭…٭…٭…٭…٭…٭
دُعائے شبِ بَراءَت کا اِبتدائیہ :
بے وفا دنیا پہ مت کر اعتبار تو اچانک موت کا ہوگا شکار
موت آکر ہی رہے گی یاد رکھ! جان جاکر ہی رہے گی یاد رکھ!
گر جہاں میں سو برس تو جی بھی لے قبر میں تنہا قیامت تک رہے
قبر روزانہ یہ کرتی ہے پکار مجھ میں ہیں کیڑے مکوڑے بیشمار
یاد رکھ!میں ہوں اندھیری کوٹھڑی تجھ کو ہو گی مجھ میں سن! وحشت بڑی
میرے اندر تو اکیلا آئے گا ہاں! مگر اعمال لیتا آئے گا
گھپ اندھیری قبر میں جب جائے گا بے عمل! بے انتہا گھبرائے گا
کام مال و زر نہیں کچھ آئے گا غافل انساں! یاد رکھ پچھتائے گا
قبر میں تیرا کفن پھٹ جائے گا یاد رکھ! نازک بدن پھٹ جائے گا
سانپ بچھو قبر میں گر آ گئے کیا کرے گا بے عمل گر چھا گئے
گورِ نیکاں باغ ہو گی خلد کا مجرموں کی قبر دوزخ کا گڑھا
کر لے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی قبر میں ورنہ سزا ہو گی کڑی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شبِ بَراءَت چھٹکارے کی رات ہے ....بیماریوں سے چھٹکارے کی رات ہے ...تنگدستیوں سے چھٹکارے کی رات ہے ... نزع کی سختیوں سے چھٹکارے کی رات ہے ... عذابِ قبر سے چھٹکارے کی رات ہے ... تاریکیِ گور سے چھٹکارے کی رات ہے ... قیامت کی ہولناکیوں سے چھٹکارے کی رات ہے ... دوزخ کی تباہ کاریوں سے چھٹکارے کی رات ہے ... گناہوں کی بیماری سے چھٹکارے کی رات ہے ... رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرھویں رات (شب برا ءت) آئے تو اس رات میں قیام کرو اور اس دن میں روزہ رکھو کہ اﷲ تعالیٰ سورج ڈوبنے کے بعد سے آسمان دنیا پر خاص تجلی فرماتا ہے اور اعلان فرماتاہے کہ کیا ہے کوئی بخشش کا طلب گار! کہ میں اس کو بخش دوں؟ کیا ہے کوئی روزی طلب کرنے والا! کہ میں اسے روزی دوں؟ کیا ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اس کو رہائی دوں؟ کیا ہے کوئی ایسا! کیا ہے کوئی ایسا! اس قسم کی ندائیں ہوتی رہتی ہیں یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے ۔ ([1]) اس طرح آج کی رات اللہ تعالیٰ کی رحمت ندا دیتی ہے ... اس کی رحمت تو ہماری طرف مائل ہے مگر آہ !ہمیں مانگنے کا ڈھنگ نہیں آتا ...اے اپنی آخرت کی خیر کے طلب گار اسلامی بھائیو!گڑگڑا کر ہوسکے تو رو رو کر اللہ کی رحمت مانگ لو... ہاں !ہاں! آج وہ رات ہے کہ جس رات میں رحمت کے تین سو دروازے کھل جاتے ہیں ۔ ([2]) آئیے ! اللہ تعالیٰ کی رحمت پانے کے لیے مل کر دعا مانگتے ہیں ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع