30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مروی نہیں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : اَلْمَرْءُمَعَ مَنْ اَحَبَّ.(صحیح مسلم، کتاب البر...الخ، باب المرء مع من احب، الحدیث : ۲۶۴۰، ص۱۴۲۰)
ترجمہ : انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرے۔
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : کیوں نہیں! میں نے عرض کی کہ میں بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اور ان فقراء سے محبت رکھتا ہوں اس پر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اس کے ہاتھ پر بھی پانی ڈالوکیونکہ یہ ان ہی میں سے ہے۔ (الرسالۃ القشیریۃ، رؤیا القوم، ص۴۲۱)
پیارے اسلامی بھائیو! ایسا ماحول بنانا چاہیے جس میں تمامی شرکاء کا اٹھنا بیٹھنا آپس میں ملاقات کرنا اور ایک دوسرے سے محبت رکھنا فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو اور جس میں افضلیت و برتری کی بنیاد کسی کے حسن و جمال ، کسی کی دولت و ثروت اور کسی کے حسب نسب پر نہ ہو بلکہ زہد و تقویٰ پر قائم ہو۔
ارشاد خداوندی ہوتا ہے :
وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ (پ ۷، الانعام : ۵۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کوپکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضاچاہتے ۔
درس : کفار کی ایک جماعت سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں آئی تو انہوں نے دیکھا کہ آپ کے گرد غریب صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم کی ایک جماعت حاضر ہے جو ادنیٰ درجہ کا لباس پہنے ہوئے ہے یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان کے پاس بیٹھنے سے شرم آتی ہے اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے منظور نہ فرمایا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیرخزائن العرفان، ص۲۴۰)
معلوم ہوا کہ اچھا ماحول محبین و مخلصین سے بنتا ہے نہ کہ مغرورین و متکبرین سے لہذا اچھے ماحول کی بقاء کے لئے ایسے افراد کو جو ظاہری شان و شوکت تو رکھتے ہوں مگر ان کا باطن غلاظت سے لبریز ہو توان کے گھناؤنے وجود سے ماحول کو پاک و صاف رکھنا ضروری ہے کیونکہ ان کی مثال ایک ایسے بیت الخلاء کی مانند ہے جس کی دیواریں تو نہایت ہی صاف و شفاف ہوں مگر اندر غلاظت کا ڈھیر ہو، ظاہر ہے ایسی جگہ سے صاف و شفاف ہونے کے باوجود گندگی اور بدبو ہی پھیلے گی اور ان کے مقابلہ میں وہ لوگ جو ظاہری شان و شوکت تو نہیں رکھتے مگر ان کے قلوب جذبہ اخلاص و ایثار سے مزین ہوتے ہیں ان کو ماحول میں داخل کرنا بہت مفید اور ان کو نظر انداز کردینا نہایت ہی مضراور نقصان دہ ہے۔
بُرے ماحول سے بچو کہ وہ بُری صحبت کا باعث ہے جو موجب ہلاکت ہے
بُرے ماحول کواپنانے والے افراد اپنی عزت و وقار اور حیثیت کو کھودیتے ہیں، اس کی مثال یوں سمجھیں کہ وہ مکھی کی دوسری قسم کی روش کو اپناتے ہیں یعنی چمنستان موجود ہے اطراف سرسبز وشاداب اور گل و گلزار بھی ہے مگر وہ مکھی غلاظت ہی کا انتخاب کرتی ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ وہ تمام خوبصورت جسم کو چھوڑ کر صرف اسی مقام کا انتخاب کرتی ہے جو زخمی ہوتا ہے جس میں خون و پیپ بھر اہوتاہے اسی لئے لوگ اس سے متنفر ہوتے ہیں اور یہ بات کون نہیں جانتا کہ غلیظ ماحول سے تعلق رکھنے والی مکھیاں وبا و بیماری ہی کا ذریعہ بنتی ہیں معلوم ہو اکہ غلیظ اور گھناؤنے ماحول سے وابستہ ہونے والے افراد اپنے وقار ہی کو مجروح نہیں کرتے بلکہ دوسروں کی عزت و وقار کے بھی درپے ہوتے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ ہم بُرے ماحول اور بری صحبت سے اجتناب کریں۔
اللہ تبارک و تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ ﳲ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙﰳ (۱۴۰) (پ ۵، النساء : ۱۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان : اوربے شک اللہ تم پر کتاب میں اتارچکاکہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جاتااوران کی ہنسی بنائی جاتی ہے توان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اوربات میں مشغو ل نہ ہوں ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو بے شک اللہ منافقوں اور کافروںسب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔
درس : آیت کریمہ میں ایسی تمام مجالس کی جن میں کتاب الٰہی کا انکار کیا جائے اور اس کی آیتوں کا مذاق اڑایا جائے، شرکت کرنے کی ممانعت کردی گئی ہے لہٰذا جو شخص ایسی مجلسوں میں شرکت کرتا ہے وہ بھی برابر کا شریک ہے۔
اللہ تَعَالٰی نے ارشاد فرمایا ہے :
وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ-وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸) (پ۷، الانعام : ۶۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور اے سننے والے جب تو انہیںدیکھے جوہماری آیتوں میں پڑتے ہیں توان سے منہ پھیرلے جب تک اور بات میں پڑیں اورجوکہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
درس : صحبت کا اثر مسلّمہ ہے، انسان اپنے ہمنشین کی عادات ، اخلاق اور عقائدسے ضرور متأثّر ہوتا ہے۔ اسی لئے اللہ تَعَالٰی نے مسلمانوں کو ان لوگوں کے پاس بیٹھنے سے سختی سے منع فرمایا ہے جن کا رات دن کا مشغلہ اسلام ، پیغمبر اسلام اور قرآن حکیم پر طعن وتشنیع کرنا ہے لہٰذا ایسے خطرناک اور بھیانک قسم کے قبیح و شنیع ناسور سے آلودہ مریضوں کی صحبت سے بچو ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اس ناپاک مرض میں مبتلا ہوجاؤ ، سیدالکونین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :
اِیَّاکِ وَمَا یَسُوْ ءُ الاُذُنَ. (المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی الغادیۃ، الحدیث : ۱۶۷۰۱، ج۵، ص۶۰۵)
ترجمہ : بچ اس بات سے جو کان کو بُری لگے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع