30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح مصنف دلائل الخیرات شریف حضرت علامہ محمد بن سلیمان جزولی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی ۸۷۰ ھ) کو ستترسال کے بعد جب سرزمین ’’سو س‘‘ سے نکال کر ’’مراکش‘‘ کی سرزمین میں دفن کیا گیا، تو لوگوں نے بچشم خود دیکھا کہ آپ کا کفن صحیح و سالم اور بدن تروتازہ تھا۔ اور جب آپ کو پہلے مدفن سے نکالا گیا۔ تو فضاء معطر ہو گئی آج بھی آپ کی قبر سے مشک کی خوشبو آتی ہے۔ (مطالع المسرات، ص۴)
پیارے اسلامی بھائیو! یہ سب اچھے اور نیکیوں کے ماحول سے وابستگی کا نتیجہ تھا ایک اچھا اور پاکیزہ ماحول جہاں ذکر الٰہی اور ذکرِ مصطفائی کا موقع فراہم کرتا ہے، وہاں فرموداتِ رب العالمین عَزَّ وَجَلَّ اور فرمودات رحمۃللعالمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سننے لکھنے اور پڑھنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے، اور ماحول کی برکتوں کے سبب ان پر عمل پیرا ہونے کا ایک ولولہ اور جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ چنانچہ کوئی فرد اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا کہ عمل کرنے کا وہ اعلیٰ جذبہ جو ایک پاکیزہ ماحول کی صحبت سے ملتا ہے وہ دوسری طرح نا ممکن نہیں تومشکل ضرور ہے۔
نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن خدائے رحمن عَزَّ وَجَلَّ کی دائیں جانب (اس میں فضیلت کا ذکر ہے کیونکہ اللہ تَعَالٰی جہت وسمت سے پاک ہے) کچھ ایسے لوگ ہونگے جونہ انبیاء ہونگے نہ شہداء ان کے چہروں کا نُور دیکھنے والوں کی نگاہوں کو خیرہ کرتا ہوگا۔ انبیاء و شہداء ان کے مقام اور قرب الٰہی عَزَّ وَجَلَّ کو دیکھ کر اظہار مسرت فرمائیں گے صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم میں سے کسی صحابی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ کون( خوش نصیب ) ہوں گے؟ ارشاد فرمایا : یہ مختلف قبائل اور بستیوں کے لوگ ہوں گے (جو دنیا میں) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد کرنے کے لئے اکٹھے ہوتے تھے اور پاکیزہ باتیں اس طرح چنتے تھے جس طرح کھجور کا کھانے والا بہترین کھجوروں کو چنتا ہے۔
(الترغیب والترہیب، کتاب الذکروالدعاء، الترغیب فی حضور...الخ، الحدیث : ۲۳۳۴، ج۲، ص ۲۵۲)
پیارے اسلامی بھائیو! فرمودات مصطفے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پڑھنے کے بعد اچھے ماحول سے گریز کرنا انتہا درجہ کی نادانی نہیں تو اور کیا ہے؟
صوفیائے کرام رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِم فرماتے ہیں کہ نیک صحبت ساری عبادات سے افضل ہے، دیکھو صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم سارے جہاں کے اولیاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِم سے افضل ہیں کیوں؟ اس لئے کہ وہ صحبت یافتہ جناب مصطفے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، ج۳، ص ۳۱۲)
فائدہ : دعوتِ اسلامی کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا روح پرور ماحول عبادات و معاملات کی نگہداشت اور سنتوں کی محافظت کا جذبہ لئے ہوئے سوئے مدینہ رواں دواں ہے لہذا دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ اور نیک ماحول سے وابستہ ہونا سعادت دارین ہے۔
نیک اور پاکیزہ ماحول کی بناء و بنیا دا ور اس کی فضیلت
اللہ تبارک و تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِؕ-فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ(۱۰۸) (پ۱۱، التوبۃ : ۱۰۸)
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک وہ مسجدکہ پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہوناچاہتے ہیں اور ستھرے اللہ کوپیارے ہیں۔
درس : ہمیں اس صُحبت اور ماحول سے وابستہ ہونا چاہئے جس کی بنا و بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہو جس کا مقصد رضائے الٰہی عَزَّ وَجَلَّ ہو، تاکہ ہوائے نفسی اور جملہ برائیاں دور ہوں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے دوستی کی فضیلت
تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ہے :
اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَعُمُدًا مِّنْ یَّاقُوْتٍ عَلَیْھَا غُرَفٌ مِّنْ زَبَرْجَدٍ لَّھَا اَبْوَابٌ مُّفَتَّحَۃٌ تُضِیْئُ کَمَا یُضِیْئُ الْکَوْکَبُ الدُّرِّیُّ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَنْ یَّسْکُنُھَا قَالَ : الْمُتَحَابُّوْنَ فِی اللّٰہِ وَالْمُتَجَالِسُوْنَ فِی اللّٰہِ وَالْمُتَـلَا قُوْنَ فِی اللّٰہِ.(شعب الایمان للبیہقی، باب فی مقاربۃ...الخ، فصل فی المصافحۃ...الخ، الحدیث : ۹۰۰۲، ج۶، ص۴۸۷)
ترجمہ : بلاشبہ جنت میں یاقوت کے ستون ہیں جن پر زبر جد کے بالاخانے ہیں ان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں وہ ایسے چمکتے ہیں جیسے بہت روشن ستارہ چمکتا ہے۔ صحابہ علیہم الرضوان نے عرض کیا : یارسول اللہ ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان بالاخانوں میں کون (خوش نصیب) رہیں گے؟ ارشاد فرمایا : جو اللہ تَعَالٰی ہی کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں اور جو اللہ تَعَالٰی ہی کے واسطے آپس میں بیٹھتے ہیں اور جو اللہ تَعَالٰی ہی کے واسطے آپس میں ملاقات کرتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی قیامت کے دن فرمائے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو میرے جلال کی و جہ سے آپس میں محبت رکھتے تھے، آج میں انہیں اپنے سائے (یعنی سایہ رحمت) میں جگہ دوں گا ، جب کہ میرے سائے کے سوا آج کوئی سایہ نہیں ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب البر...الخ، باب فی فضل الحب فی اللّٰہ، الحدیث۲۵۶۶، ص۱۳۸۸)
انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرے
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ
’’ اگر دو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں محبت کریں ان میں سے ایک مشرق میں اور دوسرا مغرب میں ہو تو اللہ تَعَالٰی انہیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا۔
(شعب الایمان، باب فی مقاربۃ...الخ، فصل فی المصافحۃ...الخ، الحدیث۹۰۲۲، ج۶، ص۴۹۲)
ایک صوفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا قول ہے کہ اس نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خواب میں دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے گردفقراء کی ایک جماعت ہے، وہ اسی حال میں تھے کہ دو فرشتے آسمان سے اترے ایک کے ہاتھ میں طشت تھا اور دوسرے کے ہاتھ میں لوٹا۔طشت والے فرشتے نے طشت رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہاتھ دھوئے پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے حکم پرفقراء نے بھی ہاتھ دھوئے اس کے بعد طشت میرے ( یعنی خواب دیکھنے والے صوفی کے) سامنے رکھا گیاتو ایک فرشتے نے دوسرے فرشتے سے کہا کہ اس کے ہاتھ پر پانی نہ ڈالو کیونکہ یہ ان حضرات میں سے نہیں ہے تو میں نے عرض کی یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع