30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گِلے خوشبوئے در حمام روزے رسید از دستِ محبوب بدستم
بدوگفتم کہ مشکی یا عبیری کہ از بوئے دلاویز تو مستم
بگفتا من گلے ناچیز بُودم ولیکن مُدّ تے با گل نشِستم (گلستان سَعدی ص ۶)
یعنی ایک روز خوشبو والی مٹی حمام میں مجھے ایک دوست کے ہاتھوں سے ملی میں نے اس مٹی سے کہا کہ تو مُشک ہے یا عنبر ! کہ تیری دلکش خوشبو نے مجھے مست و بے خود کردیا ہے (یہ سن کر مٹی نے کہا) میں تو حقیر مٹی تھی لیکن ایک مُدّت تک میں پھولوں کی صحبت میں رہی پس ہمنشیں کے جمال نے مجھ میں اثر کیا (کہ میں خوشبودار ہوگئی)ورنہ میں تو وہی خاک ومٹی ہوں جو پہلے تھی۔
اچھے ماحول کی ہمنشینی بہُت ہی مُفید اور سرمایۂ سرمدی ہے اگرچہ مختصر ہی کیوں نہ ہومگر پھر بھی بے سُودو بیکار نہیں ، تو بھلا وہ خوش نصیب جو نیکیوں کے ماحول میں ضم ہوجائے کس طرح محروم رہ سکتا ہے۔
ذکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مجلس میں شرکت کی فضیلت
صحیح مسلم شریف کی ایک طویل حدیثِ مبارک ہے جس میں ان خوش نصیبوں کے لئے مژدہ ٔجا نفزا ہے جو ذکر اللہ کے لئے حلقہ بناتے ہیں اور مجتمع ہو کر اپنے معبود بَرحق کا ذکر کرتے ہیں اس حدیث مبارک کے آخرمیں ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :
فَیَقُوْلُوْنَ رَبِّ فِیْھِمْ فُلَا نٌ عَبْدٌ خَطَّائٌ اِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَھُمْ قَالَ : فَیَقُوْلُ وَلَہٗ غَفَرْتُ ھُمُ الْقَوْمُ لَا یَشقٰی بِھِمْ جَلِیْسُھُمْ.
(صحیح مسلم، کتاب الذکر...الخ، باب فضل مجالس الذکر، الحدیث۲۶۸۹، ص۱۴۴۴)
ترجمہ : بس فرشتے (بارگاہِ اُلوہیت میں) عرض کرتے ہیں، اے رب عَزَّ وَجَلَّ ! ان میں فلاں بندہ بڑا گناہ گار تھا، وہ تو ان (یعنی ذکر کرنے والوں ) پر گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ مدنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے میں نے اسے بھی بخش دیا۔ وہ (ذکرکرنے والی) ایسی قوم ہے کہ جن کا ہمنشیں بھی بدنصیب نہیں ہوتا۔
پیارے اسلامی بھائیو! رحمتِ خداوندی لامحدود ہے اور اس کی رحمت سے کوئی فرد خارج نہیں بلکہ ہر ایک کو اس کی رحمت محیط ہے اور یہی عقیدہ اسلام نے مسلمانوں کو دیا ہے لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم ہر حال میں رحمت خداوندی کے طلب گار رہیں اور اسی سلسلے میں ہمہ وقت سعی کرتے رہیں۔ مخبرِ صادق نبی رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں خبر دی کہ وہ گناہ گار شخص جس نے ذاکرین کے ساتھ تھوڑی سی ہمنشینی و صحبت اختیار کی تو باری تَعَالٰی نے اس کی بخشش فرمادی۔
ایک حدیث شریف میں ہے حضرت ابو رزین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس چیز کی اصل پر رہبری نہ کروں جس سے تم دنیا و آخرت کی بھلائی پالو (پس وہ اصل چیز یہ ہے کہ) تم ذکر کرنے والوں کی مجلس اختیار کرو...الخ (شعب الایمان، باب فی مقاربۃ...الخ، فصل فی المصافحۃ...الخ، الحدیث ۹۰۲۴، ج۶، ص۴۹۲)
درس : اس حدیث پاک کے تحت حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ مجلس سے مراد علمائے دین و اولیائے کاملین، صالحین وواصلین کی مجلسیں ہیں ، کیونکہ یہ مجلسیں جنت کے باغات ہیں۔ جیسا کہ دوسری حدیث شریف میں ہے یہ مجلسیں خواہ مدرسے ہوں یادرس قرآن و حدیث کی مجلسیں یا حضرات صُوفیائے کرام کی محفلیں، یہ فرمان بہت جامع ہے جس مجلس میں اللہ کا خوف حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا عشق اور اطاعتِ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا شوق پیدا ہو وہ مجلس اکسیر ہے۔ (مراۃ المناجیح، ج۶، ص۶۰۳تا۶۰۴)
اچھے اور برے دوست کی صحبت کی مثال
پیارے اسلامی بھائیو! اچھے ماحول کی برکتیں اور اس کے نتائج جاننے کے لئے اس مثال پر غور و فکر کیجئے کہ ایک شخص عطر فروش کی دکان پر پہنچے اگر عطر نہیں بھی خریدتا مگر پھر بھی عطر کی دل آویز خوشبو تو ضرور پائے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کی ناک ہی بند ہو کہ خوشبو محسوس ہی نہ ہو تو اس میں اس کا اپنا قصور ہے، ورنہ عطر نہ خریدنے پر بھی وہ شخص خوشبو سے محروم نہ ہوگا۔ جب کہ عطر خریدنے والا تو خوشبوؤں سے معطر و معنبر ہوجائے گاجب کہ وہ خوشبو خریدنے کے بعد اس کا استعمال بھی کرے۔
اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں آتا ہے
حضرت ابوموسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ اچھے برے ساتھی کی مثال مُشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے، مشک (ایک بہترین خوشبو کا نام) اٹھانے والا یا تو تجھے ویسے ہی دے گا یا تو اس سے کچھ خرید لے گا۔ اور یا تو اس سے اچھی خوشبو پائے گا۔ اور بھٹی دھونکنے والا یا تیرے کپڑے جلادے گا یا تو اس سے بدبو پائے گا۔(صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب استحباب مجالسۃ...الخ، الحدیث ۲۶۲۸، ص ۱۴۱۴)
پیارے اسلامی بھائیو! یونہی اچھے ساتھی اور اچھے ماحول سے وابستہ ہونے والا نیکیوں کے ماحول میں اپنے آپ کو وابستہ کرنے والا جب پیارے مصطفے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیاری پیاری سنتوں اور تعلیمات کو اپنے دامن میں سمیٹ لے اور ان پر عاملِ صادق ہوجائے تو اس کے ظاہر و باطن کا معطر و معنبر ہوجانا باعث حیرانی نہیں ہے۔ بلکہ اس کی عظمت وشان تو اس قدر بلند و بالا ہوجاتی ہے کہ بعد مرگ اس کے مدفن کی مٹی بھی معطر ہوجاتی ہے۔
قبر کی مٹی سے مشک کی خوشبو مہک اٹھی
حضرت ابو عبد اللہ محمدبن اسمٰعیل بخاری (سنہ ولادت ۱۹۴ھ ، سن وفات۲۵۶ھ) رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کوجب قبر میں رکھا گیا توفوراً قبر شریف سے مُشک کی خوشبومہکنے لگی۔ قبر کا ذرہ ذرہ مشک بن گیا۔ لوگ زیارت کے لئے آتے اور خاکِ قبر کو بطورِ تبرک لے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ قبر میں غار پڑ گیا۔ (بایں خوف کہ لوگ اسی طرح مٹی لے جاتے رہے تو تھوڑے عرصے میں قبر ناپید ہوجائے گی) اس کے چاروں طرف لکڑی کا جنگلا لگادیا گیا لیکن زائرین جنگلے سے باہر کی خاک لے جانے لگے تو اس میں بھی خوشبو پاتے تھے۔ مدت ہائے دراز تک یہ خوشبو مہکتی رہی۔
(صحیح البخاری، مقدمہ، ج۱، ص۳)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع