30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’ اَلْاِتِّحَادُ قُوَّۃٌ عَظِیْمَۃٌ ‘‘ یعنی اتحاد قوتِ عظیمہ ہے کیا آپ نے موٹے موٹے رسّوں کی طرف غور نہیں کیا ، جو نرم و نازک دھاگوں کے اتحاد کا نتیجہ ہوتے ہیں اور یہ بات اظہر من الشّمس ہے کہ ایک دھاگہ جس کی ناتوانی اور کمزوری کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی اُسے باآسانی توڑ دیتا ہے، مگر یہی ناتواں اور کمزور دھاگے جب آپس میں اتحاد کرتے ہیں، ملے رہتے ہیں تو ایک رسّہ کی صورت اختیار کرلیتے ہیں ، جو بڑے بڑے بحری جہازوں کو ساحلِ سمندر پر قائم کردیتا ہے۔
ماحول جتنا وسیع ہوگا اس کے اتنے ہی زیادہ منافع ہوں گے اور اس وسیع ماحول کی قوت بہت ہی مستحکم ہوگی۔ حالانکہ ماحول چھوٹا ہو یا بڑا ہر ایک انسانی افراد ہی پرمشتمل ہوتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پرنالہ ہو یا ندی، دریا ہو یا سمندر ہر ایک میں پانی ہی تو ہے پھر اس بات کو کون نہیں جانتا کہ سمندر کے منافع بے شمار ہیں۔
اسی طرح کام ہر کوئی دین کا کرتا ہے، کوئی بزم بنا کر ، کوئی انجمن بنا کر مگر اُس کی شان و عظمت بہت ہی نرالی ہے جو عالمگیر دینی و روحانی تحریک ہو، کیونکہ اس میں اجتماعیت اور اتحاد کا عنصر زیادہ ہوتا ہے ۔اس لئے اس کے منافع و فوائد بے شمار ہیں اس کی ہیبت اور جاہ و جلالت سے دشمنانِ اسلام لرزہ براندام رہتے ہیں، باطل قوتوں کو اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے حق کے سمندر سے مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔ اگر بات اب بھی سمجھ نہیں آئی تو یوں سمجھئے کہ آپ سمندر سے ایک قطرہ نکال کر ہتھیلی پر رکھ لیں اور کسی سے پوچھیں یہ کیا ہے؟ جواب ملے گا کہ یہ قطرہ ہے۔ پھراس قطرہ کوسمندر میں ڈال دیںپھرپوچھیںیہ کیاہے ؟توجواب ملے گاکہ یہ سمندر ہے۔ جواب مختلف کیوں ہوا؟ اس لئے کہ قطرہ جب سمندر سے جدا تھا تو محض قطرہ تھا ، سورج کی تپش و حرارت اور ہوا کے جھکڑوں کے رحم و کرم پر اس کا وجود تھا۔ مگر جب وہ سمندر سے مل گیا تو پھر قطرہ قطرہ نہ ر ہاسمندر ہوگیا ، اب اسے سورج کی حرارت خشک نہیں کرسکتی۔ اب اسے ہوا کے جھکڑ پھیلا نہیں سکتے تو پھر یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہم ایسے ماحول سے وابستہ ہو جائیں کہ جس کے ساتھ وابستہ ہونے سے قطرہ سمندر بن جائے جس کی برکتیں ایسی لازوال اور بے مثال ہوں کہ جس کے ساتھ وابستہ ہونے سے ضلالت و گمراہی کے جھکڑاور باطل ولادینی قوتوں کی تپش سے امان مل جائے ۔اگر غور کریں تو عقل اس طرف بھی رہنمائی کرتی ہے کہ ہم ایسے بُلندو بالا پہاڑ کو دیکھیںجس کی چوٹی آسمان سے باتیں کررہی ہے۔ تو ہر عقلمند اس کی طرف دیکھتے ہی کہے گا کتنا بلند و بالا پہاڑ ہے مگر جب ہم اس پہاڑ سے ایک ذرّہ مٹی کا ہتھیلی پر رکھ کر اسی عقلمند سے پوچھیں کہ بتاؤ یہ کیا ہے؟ تو جواب ملے گا کہ یہ مٹی کا ذرہ ہے ۔جناب یہ ذرہ کیسے ہوگیا۔ ابھی تو پہاڑ تھا۔ ظاہر ہے جواب یہی ہوگا کہ پہلے یہ پہاڑ سے ملا ہوا تھا اس لئے یہ بھی پہاڑ تھا۔ جب اس سے جدا ہوا تو ذرۂ ناچیز کہلایا پس معلوم ہوا کہ کسی عالمگیر روحانی ماحو ل سے جدا ہونا اپنے آپ کو گھٹانا ہے جبکہ اس ماحول سے وابستہ رہنا اپنے آپ کو بڑھانا ہے پھر بھی ہم اگر اس ماحول سے دور بھاگیں تو یہ سراسر نادانی نہیں تو اور کیا ہے؟
آئیے ہم سب دعوتِ اسلامی کے ماحول کو وسیع سے وسیع تر بنانے کے لئے انتھک کوشش کریں کہ یہ ایک نیکیوں کا عالمگیر رُوحانی ماحول ہے اور اس نیکیوں کے ماحول کو مخلصانہ طور پر وسیع کرنا دونوں جہاں کی کامیابی و کامرانی ہے اس کے برعکس نیکیوں کے ماحول سے الگ تھلگ ہوجانا خسارے کا سبب ہے، عقلمند کے لئے اتنا ہی اشارہ کافی ہے کہ جب تک پتّا درخت سے تعلق قائم رکھتا ہے سرسبز و شاداب رہتا ہے جونہی پتادرخت سے تعلق ختم کرتا ہے تو درخت کے ماحول سے دور ہوجاتا ہے پھر اس کی تمام سرسبزی و شادابی دور ہوجاتی ہے بلکہ پاؤں کے نیچے روندا جاتا ہے۔
اللہ تبارک و تَعَالٰی کی بارگاہ بے کس پناہ میں عرض ہے کہ وہ اپنے محبوب، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وسیلۂ جلیلہ سے تمام مسلمانوں کو دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ ماحول سے مخلصانہ طور پر وابستہ ہونے کی اور اسے وسیع سے وسیع تر کرنے کے لئے بھرپور سعی کرنے کی توفیق ِرفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العلمین بجاہ سید المرسلین وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیرخلقہ محمد وعلٰی اٰلہ وصحبہ اجمعین۔
اچھے ماحول سے وابستہ ہونا باعثِ منفعت اور عین سعادت ہے
پیارے اسلامی بھائیو! کیا آپ نے نہیں دیکھا، مکھی دو طرح کی ہے ایک وہ جسے ہم شہد کی مکھی کے نام سے موسوم کرتے ہیں یہ مکھی اچھے ماحول کو اپناتی ہے، ہر عقل سلیم رکھنے والا شخص جانتا ہے کہ شہد کی مکھیاں چمنستان میں پھولوں کے ساتھ قرب حاصل کرتی ہیں اور انکے پھولوں کے ماحول سے وابستہ ہونے ہی کے نتیجے میں شہد پیدا ہوتا ہے جس کے منافع بے شمار ہیں، ارشادِ باری تَعَالٰی ہے۔
یَخْرُ جُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِؕ (پ ۱۴، النحل : ۶۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگ نکلتی ہے جس میں لوگوںکی تندرستی ہے۔
ظاہر ہے یہ اچھے ماحول ہی کی ضوفشانیاںہیں تومعلوم ہوا کہ اچھے ماحول سے وابستہ ہونے والے افراد جہاں خود قابلِ تعریف ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے بھی باعثِ منفعت ہوتے ہیں، اور جو اسلامی بھائی جس قدر اپنے دوسرے اسلامی بھائیوں کے لئے نفع بخش ہوگا اسی قدر اس کے مراتب و درجات بلند ہوتے جائیں گے۔ حدیث پاک میں وارد ہے۔
خَیْرُ النَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاسَ وَشَرُّ النَّاسِ مَنْ یََّضُرُّ النَّاسَ
(کشف الخفاء، حرف الخاء المعجمۃ، الحدیث : ۱۲۵۲، ج۱، ص۳۴۸۔مکاشفۃ القلوب، باب الخامس عشرفی الامربالمعروف...الخ، ص۴۸)
ترجمہ : ’’ لوگوں میں بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع دے اور لوگوں میں بدتر وہ ہے جو لوگوں کو تکلیف دے۔‘‘
پیارے اسلامی بھائیو! اچھے ماحول سے اچھی صُحبت میسر ہوتی ہے۔ اچھے ماحول سے وابستہ ہونے پر ظاہر و باطن کی اصلاح ہوتی ہے کیونکہ اچھا ماحول اچھی صحبت فراہم کرتا ہے اور کون نہیں جانتا کہ اچھی صحبت کے ثمرات و برکات نہایت ہی مفید ہوتے ہیں۔
علامہ جلال الدین رُومی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
صُحبت صالح ترا صالح کُند صُحبتِ طالح ترا طالح کُند
یعنی اچھوں کی صُحبت تجھے اچھا بنادے گی اوربُروں کی صحبت تجھے بُرا بنادے گی۔
حضرت مصلح الدین سعدی
شیرازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ گلستانِ سعدی میں فرماتے ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع