30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔ میں ایک ہزاربڑی آنکھوں والی حوروں سے تیرانکاح فرماؤں گااوراہلِ جنت کوایک ہزارسال تک تیرے ولیمے کی دعوت کھلاؤں گا ۔ ‘‘([1])
{13}…حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا:’’ اے آدمی!اگرتوبقدرِضرورت طلب کرے توتھوڑی دنیاتجھے کفایت کرے گی اوراگرضرورت سے زائدجمع کرناچاہے توپھرساری دُنیابھی تجھے کفایت نہیں کرے گی ۔ اس لئے تم طلب دُنیاکی وجہ سے خودکوہلاک نہ کرو اور جو کچھ دُنیا میں ہے اسے چھوڑکراس پرغالب آجاؤ ۔ تم دُنیامیں برہنہ آئے تھے اوربرہنہ ہی جاؤ گے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ایک، ایک دن کارزق مانگاکرواوریادرکھو! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دُنیا کو قلیل پیدافرمایاہے اوراب جواس کاحصہ رہ گیاہے وہ بہت ہی کم ہے ۔ اس کا صاف پانی پیاجاچکاہے اورگدلا باقی ہے ۔ ‘‘
{14}…حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا: ’’جان لو!یہ دُنیاتنگی اوردھوکے کا گھر ہے ۔ اس میں اس شخص کی طرح رہو جو اپنے زخم کا علاج کرتااوردواکی سختی برداشت کرتاہے کیونکہ اسے مرض سے شفاو عافیت کی امید ہے ۔ دُنیاکاسامنے ہونااورآخرت کاغائب ہوناتمہیں دھوکے میں نہ ڈالے ۔ ‘‘
{15}…حضرتِ سیِّدُناعیسیٰ رُوْحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا: ’’تعجب ہے تم دُنیاکے لئے کوشش کرتے ہوحالانکہ دُنیامیں بغیرکوشش کے بھی رزق مل جاتاہے اورآخرت کے لئے عمل نہیں کرتے جہاں بغیرعمل کے تمہیں کچھ نہیں ملے گا ۔ ‘‘([2])
{16}…ایک مرتبہ دنیاعورت کی شکل میں حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامکے سامنے ظاہرہوئی جوہرطرح کی زیب وزینت سے آراستہ تھی ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامنے اس سے پوچھا:’’کیاتیراکوئی شوہر ہے ؟‘‘ اس نے کہا:’’میرے بہت شوہرہیں ۔ ‘‘پھرپوچھا:’’کیاان سب نے تجھے طلاق دے دی ہے یاوہ مرگئے ہیں یاتُونے انہیں ہلاک کرڈالاہے ؟‘‘کہا: ’’میں نے سب کو ہلاک کرڈالا ۔ ‘‘ارشادفرمایا:’’کیاتجھے ان میں سے کسی کا غم نہیں ہے ؟‘‘بولی :’’وہ میری وجہ سے غم کرتے تھے ، مجھے ان کاکوئی غم نہیں ہے ۔ وہ مجھ پرروتے تھے میں ان پرنہیں روتی ۔ ‘‘حضرتِ سیِّدُناعیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشادفرمایا: ’’تیرے باقی شوہروں پرتعجب ہے کہ وہ تیرے گزرے ہوئے شوہروں سے عبرت حاصل نہیں کرتے ۔ ‘‘
دنیاسے کنارہ کشی افضل عبادت ہے :
{17}…حضرتِ سیِّدُناعیسیٰ رُوْحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جواللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کر رہے تھے جبکہ ایک شخص سو رہا تھا ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَا منے اس سے فرمایا:’’اے شخص!اُٹھ اوراپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کر ۔ ‘‘اس نے عرض کی:’’میں ان سے افضل عبادت، دنیاسے کنارہ کشی کرچکاہوں ۔ ‘‘ارشاد فرمایا:’’بہت خوب!سوجا!توان عبادت کرنے والوں پرفوقیت لے گیاہے ۔ ‘‘([3])
اَ ولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کامختصرتعارف:
{18}…کسی شخص نے حضرت سیِّدُناعیسیٰ رُوْحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اَوْلیا کے بارے میں پوچھاجن پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ کچھ غم؟توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشادفرمایا:’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دُنیاکے با طن کی طرف نگاہ کی جب دوسرے لوگوں نے اس کاظاہر دیکھا اور دُنیا کے انجام کومدنظررکھاجب دوسرے لوگ اس کی رنگینیوں میں کھو گئے ۔ انہیں جس چیزسے ہلاکت کاخوف ہوااسے مات دی اورجس چیزکے بارے میں محسوس ہوا کہ وہ اِنہیں چھوڑدے گی انہوں نے خودہی اُسے چھوڑدیا ۔ دُنیاکی جوچیزبھی ان کے سامنے آئی اُسے ٹھکرادیا ۔ دُنیاکی رفعت سے دھوکانہیں کھایابلکہ اسے اپنی نظروں سے گرادیا ۔ دُنیاان کے لئے پرانی ہوگئی تواُنہوں نے اسے نیانہیں کیا ۔ ویران ہوگئی توآبادنہیں کیا ۔ ان کے سینوں میں مرگئی توزندہ نہیں کیابلکہ دنیاکی عمارت ڈھاکراس کے عوض اپنی آخرت بناتے ہیں ۔ اسے فروخت کرکے اس کے بدلے وہ خریدتے ہیں جوان کے لئے باقی رہے اورانہوں نے دُنیاداروں کو گرا پڑا دیکھا کہ ان پرکئی زمانے گزرگئے ، پس جس شے کی وہ امید رکھتے ہیں اس کے علاوہ کی آرزونہیں کرتے اورجن چیزوں سے وہ پرہیزکرتے ہیں ان کے سوا کوئی اورخوف نہیں رکھتے ۔ ‘‘ ([4])
٭٭٭٭٭٭٭
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع