30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گا(سچ کوسچ اورجھوٹ کوجھوٹ کردکھائے گا) ۔ ‘‘
{5}…حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا: ’’دُنیاکوآقانہ بناؤورنہ یہ تمہیں اپناغلام بنالے گی ۔ اپناخزانہ اس کے پاس جمع کرواؤجواسے ضائع نہ کرے کیونکہ جس کے پاس دُنیاکاخزانہ ہواسے آفت کا خوف ہوتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خزانے والے کوآفت کاڈرنہیں ہوتا ۔ ‘‘([1])
مجھ سے بڑھ کرکوئی مال دارنہیں :
{6}…حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰرُوْحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامارشاد فرمایا کرتے تھے کہ’’میراسالن بھوک، میراشعارخوف، میرالباس اُون، سردیوں میں میری انگیٹھی سورج کی دھوپ، میراچراغ چاندہے ، میری سواری میرے پاؤں ہیں ، میراکھانااورپھل وہ ہے جسے زمین اُگاتی ہے ۔ میں رات سوتاہوں توپاس کچھ نہیں ہوتا، صبح اٹھتاہوں توبھی پاس کچھ نہیں ہوتااورروئے زمین پرمجھ سے بڑھ کر کوئی مال داربھی نہیں ۔ ‘‘([2])
{7}…حضرتِ سیِّدُناعیسیٰ رُوْحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا:’’تعجب ہے اس شخص پرجوموت سے غافل ہے جبکہ موت اس سے غافل نہیں ۔ تعجب ہے دنیاکے اس امید وارپرموت جس کی تلاش میں ہے اورتعجب ہے اس مکان بنانے والے پرجس کامسکن قبرہے ۔ ‘‘([3])
خشیتِ الٰہی اورجنت کی محبت:
{8}…آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامفرماتے ہیں :’’بے شک خشیتِ الٰہی اورجنت کی محبت بندے کودُنیاکی رنگینیوں سے دورکرکے اس میں مشقت پر صبر کرنے کا حوصلہ پیداکرتے ہیں اوربے شک جَوکھانااورکُوڑے کے ڈھیرپرکتوں کے ساتھ سوجانا بھی جنت کی طلب میں کم ہے ۔ ‘‘([4])
{9}…حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے حواریوں (یعنی صحابہ) سے فرمایاکرتے تھے :’’اے حواریو!میں نے تمہارے لئے دُنیا کو منہ کے بل گرادیا ہے ، لہٰذا میرے بعد اسے نہ اُٹھانا ۔ ‘‘ ([5])
{10}…حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حواریوں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے عرض کی کہ’’آپ عَلَیْہِ السَّلَام کس طرح پانی پرچل لیتے ہیں حالانکہ ہم تونہیں چل پاتے ؟‘‘ارشاد فرمایا:’’تمہارے نزدیک دِرہم ودِینا رکا کیا مقام ہے ؟‘‘ حواریوں نے عرض کی:’’ اچھااوربہت بلند ۔ ‘‘ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا: ’’لیکن میرے نزدیک تویہ پتھراورمٹی کے ڈھیلے کی طرح ہیں ۔ ‘‘([6])
{11}…حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ایک پتھر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے کہ ابلیس آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس آیااورکہا: ’’اے عیسیٰ!تم بھی دُنیا کی طرف مائل ہوگئے ۔ ‘‘آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے پتھر اُٹھاکراسے مارا اور فرمایا: ’’میرے پاس دُنیامیں سے صرف یہی ہے ۔ ‘‘([7])
{12}…ایک دن شدیدبارش، گرج اوربجلی کے موسم میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامنے ایک خیمہ میں داخل ہونے کا ارادہ فرمایالیکن اس میں ایک عورت تھی جس کی وجہ سے داخل نہ ہوئے ۔ پھرایک غارکی طرف آئے تواس میں کچھ درِندے پناہ لئے ہوئے تھے ۔ یہ دیکھ کربارگاہِ خداوندی میں عرض کی: ’’اے مالک ومولیٰعَزَّوَجَلَّ! تونے سب کے لئے ٹھکانابنایالیکن میرے لئے کوئی ٹھکانا نہیں بنایا ۔ ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپعَلَیْہِ السَّلَامکی طرف وحی فرمائی کہ ’’تیرا ٹھکانا میری رحمت کے سائے میں ہے
[1] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، بیان ذم الدنیا، ج۳، ص۲۵۰.
[2] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، باب بیان المواعظ…الخ، ج۳، ص۲۶۲.
[3] ۔ ۔ ۔ فتوح الشام، ذکرفتوح قلعۃرأس العین، الجزء الثانی، ص۱۳۹، دون قولہ ولبانی الخ.
[4] ۔ ۔ ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۲۰۰مالک بن دینار، الحدیث:۲۸۰۳ ۔ ۲۸۰۴، ج۲، ص۴۱۸ ۔ ۴۱۹.
[5] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب ذم الدنیا، بیان ذم الدنیا، ج۳، ص۲۵۰.
[6] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل...الخ، بیان ذم المال...الخ، ج۳، ص۲۸۷.
[7] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب الفقروالزہد، بیان درجات الزہد...الخ، ج۴، ص۲۸۲، مفہومًا.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع