30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّوَجَلَّسے دنیاکی دشمنی ان معنوں میں ہے کہ یہ اس کے بندوں کو اس کے راستے پرچلنے نہیں دیتی ۔ اسی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّنے جب سے اسے تخلیق فرمایا ہے اب تک اس کی طرف نظرنہیں فرمائی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دوستوں کی دُشمن اس طرح ہے کہ ان کے سامنے سج دھج کے آتی اوراپنا بناؤسنگاران پرظاہرکرتی ہے جس کی وجہ سے انہیں اس کوچھوڑنے کے لئے صبر کا کڑواگھونٹ پیناپڑتاہے ۔ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دُشمنوں کی دُشمن ان معنوں میں ہے کہ انہیں اپنے مکرو فریب اور چال بازیوں سے اپنے جال میں جکڑلیتی ہے یہاں تک کہ وہ اس پر بھروسہ اور اِعتماد کر بیٹھتے ہیں ۔ پھرانہیں پہلے سے زیادہ اپنا محتاج بناڈالتی ہے تووہ دُنیاپر حسرت کرتے ہیں ، ان کے جگرپاش پاش ہوجاتے ہیں پھرہمیشہ کے لئے سعادت مندی سے محروم ہوجاتے ہیں وہ دُنیاکی فریب کاریوں اورخرابیوں سے بچنے کیلئے مدد طلب کرتے ہیں لیکن انکی مدد نہیں کی جاتی بلکہ ان سے کہا جاتا ہے :
قَالَ اخْسَــٴُـوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ(۱۰۸)
ترجمۂ کنزالایمان:رب فرمائے گا دُھتکارے (خائب وخاسر) پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو ۔
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ٘-فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠(۸۶) (پ۱، البقرۃ:۸۶)
ترجمۂ کنزالایمان:یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیاکی زندگی مول لی تو نہ ان پر سے عذاب ہلکاہواور نہ ان کی مدد کی جائے ۔ ([1])
دُنیاکی مذمت میں آیات، اَحادیث اوراَقوال بے شمارہیں تاہم جن کی طرف ہم نے اشارہ کردیاہے وہ اس میں کافی ثابت ہوں گے ۔ ان میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے عبرت اورنصیحت ماننے والوں کے لئے نصیحت ہے ۔
وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ(۱۳) (پ۲۴، المؤمن :۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اورنصیحت نہیں مانتا مگر جو رجوع لائے ۔
٭٭٭٭٭٭٭
ہم اس خاتمہ کے آخرمیں دُنیاکی مذمت اوراس کی حقیقت کے بارے میں زاہدوں کے سرداراوران پراللہ عَزَّوَجَلَّکی حجت حضرتِ سیِّدُناعیسیٰرُوْحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرامین بیان کرکے اسے مکمل کرتے ہیں ۔ چنانچہ،
{1}…حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اِرشاد فرمایا:’’ دُنیاایک پُل ہے ، اسے عبورکرواس کی آباد کاری میں نہ لگو([2]) ۔ ‘‘([3])
{2}…آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامفرماتے ہیں : ’’اے دُنیا کے طلبگار!تودُنیا اس لئے حاصل کرتاہے کہ اس کے ذریعے نیکی کرے گاتو (سن!)تیرااسے چھوڑ دینا ہی سب سے بڑی نیکی ہے ۔ ‘‘([4])
{3}…آپ عَلَیْہِ السَّلَامفرماتے ہیں :’’جیسے آگ اورپانی ایک برتن میں جمع نہیں ہوسکتے ایسے ہی کسی مومن کے دِل میں دُنیا و آخرت کی محبت جمع نہیں ہوسکتی ۔ ‘‘([5])
{4}…آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا: ’’دُنیاموجودہ سامان ہے جس سے نیک وبدسب کھاتے ہیں اورآخرت سچاوعدہ ہے جس میں قدر ت والا بادشاہ فیصلہ فرمائے
[1] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب ذم الدنیا، ج۳، ص۲۴۸.
[2] ۔ ۔ ۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیدناامام ابوحامدمحمدبن محمدغزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی اس کے تحت فرماتے ہیں:’’یہ ایک واضح مثال ہے کیونکہ دنیاآخرت تک پہنچانے والاایک راستہ ہے ۔ پنگھوڑاوہ پہلانشان ہے جوپل کے شروع میں ہوتاہے اورقبراس کاآخری نشان ہے اوران دونوں کے درمیان محدودمسافت ہے ۔ بعض لوگ نصف پل طے کرتے ہیں کچھ لوگ اس کاتہائی حصہ طے کرتے ہیں اوربعض لوگ اس کادو تہائی طے کرتے ہیں اورکچھ لوگوں کے لئے ایک قدم کی مسافت باقی رہ گئی لیکن وہ اس بات سے غافل نہیں اورکیاحالت ہوگی حالانکہ عبورکرناضروری ہے اورجب تم نے پل کو عبورکرناہے توپھراس پر مکان بنانااوراسے زینت دیناانتہائی درجہ کی جہالت اوررُسوائی ہے ۔ ‘‘ (احیاء علوم الدین، ج۳، ص۲۶۶)
[3] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب ذم الدنیا، بیان صفۃ الدنیابالامثلۃ، ج۳، ص۲۶۶.
[4] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، بیان ذم الدنیا، ج۳، ص۲۵۵.
[5] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، بیان ذم الدنیا، ج۳، ص۲۵۲.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع