30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)…جب دُنیاکسی سے پیٹھ پھیرتی ہے تواس پرحسرت طاری ہوجاتی ہے اور سامنے آتی ہے تواس کے غموں میں اِضافہ ہوجاتاہے ۔ ([1])
ایک دفعہ خلیفہ ہارون الرشیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْدنے پانی مانگاتوپانی پیش کیاگیا، اس وقت دربارمیں حضرتِ سیِّدُناابن سمّاک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق بھی موجودتھے ، انہوں نے فرمایا:’’(اے خلیفہ)اگر آپ کوپانی نہ ملے توکیاآپ اسے اپنی ساری بادشاہت کے عوض خریدنے پرتیارہوجائیں گے ؟‘‘خلیفہ نے کہا:’’جی ہاں !‘‘ حضرتِ سیِّدُناابن سَمَّاک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق نے فرمایا:’’تف ہے ایسی دُنیا پرجس کی قیمت ایک گلاس پانی ہو ۔ ‘‘([2])
منقول ہے ، ایک لمبی عمرپانے والے شخص سے کہاگیاکہ’’ہمارے سامنے دُنیاکے اَوصاف بیان کرو!‘‘اس نے کہا:’’دُنیاایک ایسامکان ہے جس کے دو دروازے ہیں ، میں ایک دروازے سے اندرداخل ہوا اوردوسرے سے باہرنکل آیا ۔ میں نے تنگدستی کے سال بھی دیکھے اورفراخی کے بھی ۔ پیدا ہونے والے پیدا ہوئے اور مرنے والے مرے ۔ اور اگرپیداہونے والے پیداہی نہ ہوتے تو مخلوق نہ ہوتی اور اگرمرنے والے نہ مرتے تو دُنیا میں کوئی گنجائش نہ رہتی ۔ ‘‘([3])
ایک داناکاقول ہے کہ’’دُنیاویران اورخراب گھرہے اوراس سے زیادہ خراب وہ دِل ہے جواس کی تعمیرکرتاہے اورآخرت آبادگھرہے اوراس سے بھی زیادہ آبادوہ دِل ہے جواسے طلب کرتاہے ۔ ‘‘([4])
ایک داناشخص سے پوچھاگیاکہ ’’دُنیاکس کے لئے ہے ؟‘‘اُنہوں نے فرمایا: ’’جو اسے چھوڑ دے ۔ ‘‘پوچھاگیا:’’آخرت کس کے لئے ہے ؟‘‘اُنہوں نے فرمایا: ’’جواسے طلب کرے ۔ ‘‘([5])
کسی زاہدسے پوچھا گیاکہ’’آپ نے دُنیاکوکیساپایا؟‘‘فرمایا:’’جسم بوسیدہ ہوجاتے اورامید یں تازہ ہوجاتی ہیں ، موت قریب آجاتی ہے لیکن خواہشات دورچلی جاتی ہیں ۔ ‘‘پوچھاگیا:’’دُنیاداروں کاکیاحال ہے ؟‘‘فرمایا:’’جواسے پا لیتا ہے وہ تھک جاتاہے اورجونہیں پاتاوہ پریشان ہوجاتاہے ۔ ‘‘([6])
اللہ عَزَّوَجَلَّ قائل کابھلاکرے اس نے کیاخوب کہا:
اَرَی الدُّنْیَالِمَنْ ہِیَ فِیْ یَدَیْہِ عَذَابًاکُلَّمَاکَثُرَتْ عَلَیْہ
تُھِیْنُ الْمُکْرِمِیْنَ لَھَابِصُغْرٍ وَتُکْرِمُ کُلَّ مَنْ ھَانَتْ عَلَیْہ
اِذَااِسْتَغْنَیْتَ عَنْ شَیْئٍ فَدَعْہُ وَخُذْمَااَنْتَ مُحْتَاجٌ اِلَیْہ
ترجمہ:(۱)…میں نے دُنیاکودیکھاکہ جب بھی کسی کے ہاتھوں میں زیادہ آئی تو اس کے لئے عذاب بن گئی ۔
(۲)…جوشخص کسی معمولی چیزکے لئے دنیاکی عزت کرتاہے یہ اسے ذلیل ورُسوا کر دیتی ہے اورجو اسے ذلیل کرتاہے یہ اس کی عزّت کرتی ہے ۔
(۳)…جس چیزکی تجھے ضرورت نہ ہواسے چھوڑدے اورجس کی ضرورت پڑے اسے لے لے ۔ ([7])
حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنااما م محمدبن محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی ’’اِحْیَاءُ الْعُلُوْم‘‘ میں فرماتے ہیں:بے شک دُنیااللہ عَزَّوَجَلَّ کی ، اس کے دوستوں کی اور اس کے دُشمنوں کی بھی دُشمن ہے ۔
[1] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب ذم الدنیا، بیان ذم الدنیا، ج۳، ص۲۵۵.
[2] ۔ ۔ ۔ تاریخ الخلفاء، الرشیدہارون بن مہدی بن منصور، ص۲۹۳.
[3] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب ذم الدنیا، بیان ذم الدنیا، ج۳، ص۲۵۸، مفہومًا.
[4] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب ذم الدنیا، بیان ذم الدنیا، ج۳، ص۲۵۹.
[5] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب ذم الدنیا، بیان ذم الدنیا، ج۳، ص۲۵۹.
[6] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب ذم الدنیا، بیان ذم الدنیا، ج۳، ص۲۵۵.
[7] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب الامربالمعروف…الخ، الباب الثانی فی ارکان الامر …الخ، ج۲، ص۳۹۰.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع