30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمہ:(۱)…دُنیاکو معززومحترم سمجھنے والابروزِقیامت حقیروذلیل ہوگا ۔
(۲)…اورجواسے ذلیل وحقیرسمجھے گااسے وہاں عزت وبزرگی حاصل ہوگی ۔
حضرتِ سیِّدُناضراربن ضمرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دُنیا اوراس کی زِینت سے گھبراتے تھے ، رات اوراس کے اندھیرے سے سکون پاتے تھے ۔ میں گواہی دیتا ہو ں کہ میں نے بعض دفعہ اِنہیں دیکھاکہ جب رات کی تاریکی شدت اختیارکرجاتی ، ستارے چمکنے لگتے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سانپ کے ڈسے ہوئے کی طرح بیقرارہوجاتے اورغمزدہ کی طرح رونے لگتے اوراپنی داڑھی مبارک پکڑ کر ارشاد فرماتے :’’اے دُنیا! تو مجھے دھوکا دینا چاہتی ہے ، میری طرف بن سنورکرآئی ہے ، جا!کسی اورکودھوکادے میں تو تجھے تین طلاقیں دے چکاہوں ۔ کیونکہ تیری عمرقلیل، تیری مجلس حقیراور تو بڑی خطرناک ہے ، ہائے ! ہائے !زادِ راہ قلیل، سفرطویل اورر استہ پُرخطرہے ۔ ‘‘([1])
حلال کاحساب اورحرام پرعذاب ہے :
ایک بزرگ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’آدمی مسکین ہے ایسے گھر (یعنی دُنیا)پرراضی ہوگیاجس کے حلال کاحساب اورحرام پرعذاب ہے کہ اگراس کی کوئی حلال نعمت لے گاتواس کاحساب لیاجائے گااوراگرحرام لے گاتواس پر عذاب دیا جائے گا ۔ ‘‘([2])
خلیفہ مامون الرشیدنے کہا:کسی شاعرنے دنیاکی حقیقت کوحسن بن ہانی سے زیادہ اچھے طریقے سے بیان نہیں کیا ۔ حسن بن ہانی نے کہا:
اِذَاامْتَحَنَ الدُّنْیَا لَبِیْبٌ تَکَشَّفَتْ لَہُ عَنْ عَدُوٍّ فِیْ ثِیَابِ صَدِیْق
وَمَاالنَّاسُ اِلَّاھَالِکٌ وَابْنُ ھَالِکٍ وَذُوْنَسَبٍ فِی الْھَالِکِیْنَ عَرِیْق
ترجمہ:(۱)…جب کوئی عقلمنددُنیاکوغورسے ملاحظہ کرتاہے تو اُسے دوست کے لباس میں دُشمن نظرآتاہے ۔
(۲)…لوگ تباہ ہوجائیں گے ، انکی حقیراولاد اورقریبی رشتہ دار بھی بربادہوجائیں گے ۔
٭٭٭٭٭٭٭
سیِّدُنایحیٰی بن معاذرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے اقوال
{1}…حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن معاذرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’دُنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھو اوراس سے بے رغبتی اختیارکرلواوربوقت ضرورت ہی اس میں سے کچھ لو ۔ ‘‘
{2}…آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’میں نے دُنیاکواس لئے چھوڑ دیاکہ اس کی کلفت بہت اورفائدہ کم ہے ، جلدی ختم ہوجاتی ہے اوراس کے طلبگاروں میں حسدبہت زیادہ پایاجاتاہے ۔ ‘‘
{3}…آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’دُنیاشیطان کی دُکان ہے جو اس سے کچھ لے لیتاہے یہ اُس کاپیچھاکرتاہے یہاں تک کہ اسے پکڑلیتاہے ۔ ‘‘([3])
ساری کی ساری دُنیابھی اس قابل نہیں کہ اس پر ایک لمحہ کے لئے بھی کچھ رنج وغم کیاجائے پھراس میں سے اپناقلیل حصہ پانے کے لئے تمہاراعمربھرفکرمند رہناکیساہے ؟
بعض صالحین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْنفرماتے ہیں :
وَمَنْ یَحْمَدُالدُّنْیَالِعَیْشٍ یَسُرُّہُ فَسَوْفَ لِعُمْرِیْ عَنْ قَرِیْبٍ یَلُوْمُھَا
اِذَااَدْبَرَتْ کَانَتْ عَلَی الْمَرء حَسْرَۃً وَاِنْ اَقْبَلَتْ کَانَتْ کَثِیْرًاھَمُوْمُھَا
ترجمہ:(۱)…مجھے میری عمرکی قسم!جودُنیاکی تعریف اس عیش کی وجہ سے کرتاہے جواسے خوش کرتا ہے تو عنقریب وہ اسے ملا مت بھی کرے گا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع