30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہونے والی ٹھیکری(یعنی دنیا)کو اختیار کر رکھا ہے ؟‘‘([1])
{3}…آپ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہمزیدفرماتے ہیں :اگرمجھے دُنیادی جائے اور کہا جائے کہ’’اس میں سے حلال لے لواس کاتم سے کوئی حساب نہیں ہوگا ۔ ‘‘ تو میں پھربھی اس سے اس طرح نفرت کروں گاجس طرح تم میں سے کوئی مردار سے نفرت کرتاہے ، جب اس کے پاس سے گزرتاہے تواس سے اپنے کپڑے بچاتا ہے ۔ ([2])
امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فرماتے ہیں :
حضرتِ سیِّدُناامام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فرماتے ہیں :’’اگردنیا بازار میں ر کھاہواسامان ہوتاتوبھی میں اسے ایک روٹی کے عوض بھی نہ خریدتا کیونکہ میں اس میں موجود آفات کودیکھ چکاہوں ۔ ‘‘پھرآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے یہ اشعار پڑھے :
وَمَنْ یَجْھَلُ الدُّنْیَافَاِنِّیْ عَرَفْتُھَا وَسِیْقَ اِلَیْنَاعَذْ بُھَاوَعَذَابُھَا
فَلَمْ اَرَھَااِلَّاغُرُوْرًاوَّبَاطِلًا کَمَالَاحَ فِیْ ظَھْرِالْفُلَاۃِ سَرَابُھَا
وَمَاھِیَ اِلَّاجَیْفَۃٌ مُّسْتَحِیْلَۃٌ عَلَیْھَاکِلَابٌ ھَمُّھُنَّ اِجْتِذَابُھَا
فَاِنْ تَجْتَنِبْھَاعِشْتَ سَلْمًالِاَھْلِھَا وَاِنْ تَجْتَذِبْھَاجَاذَبَتْکَ کِلَابُھَا
ترجمہ:(۱)…کون ہے جودُنیاکونہیں جانتامیں تواسے جان چکاہوں ۔ اس کی مٹھاس اور اس کی تکالیف ہماری طرف بڑھادی گئیں ۔
(۲)…میں نے اِسے دھوکااورباطل پایاجیسے وہ ریت جودوپہرکے وقت جنگل بیابان میں دھوپ کی شدت کی وجہ سے پانی معلوم ہو ۔
(۳)…یہ ایک سڑے ہوئے مردارکی طرح ہے جس پر کتوں کو چھوڑدیاگیاہو جن کا کام اسے نوچنا اورپھاڑکھاناہے ۔
(۴)…اگر تو اس سے بچے گاتوسلامتی والی زندگی گزارے گااوراگراسے لینے کی کوشش کرے گا تو اس کے کتے تجھے نوچ ڈالیں گے ۔
حضرتِ سیِّدُنابشربن حارِث حافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی فرماتے ہیں :’’جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دُنیامانگتاہے وہ اس کے سامنے زیادہ دیرٹھہرنے کاسوال کرتاہے ۔ ‘‘([3])
حضرتِ سیِّدُنابشرحافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِییہ اشعارپڑھا کرتے تھے :
اَقْسَمُ بِاللّٰہِ لَرَضْخُ النَوٰی وَشَرْبُ مَاءِ الْقُلُبِ الْمَالِحَہ
اَحْسَنُ لِلْمُؤْمِنِ مِنْ حِرْصِہِ وَمِنْ سُوَالِ الْاَوْجِہِ الْکَالِحَہ
فَاسْتَغْنِ بِاللّٰہِ تَکُنْ ذَاغِنٰی مُغْتَبِطًابِالصَّفْقَۃِ الرَابِحَۃ
اَلْیَاْسُ عِزٌّوَالتُّقٰی سُؤْدَدٌ وَرَغْبَۃُ النَّفْسِ لَھَافَاضِحَہ
مَنْ کَانَتِ الدُّنْیَابِہِ بَرَّۃً فَاِنَّھَایَوْمًالَہُ ذَابِحَہ
ترجمہ:(۱)…اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم!مومن کے لئے کھجور کی گٹھلی صدقہ کرنا اورکھارا گدلا پانی پینا ۔
(۲)… اس کی حرص اوربے جاہ سوال کرنے سے بہتر ہے ۔
(۳)…اللہ عَزَّوَجَلَّسے غناطلب کرکے نفع بخش تجارت کی وجہ سے آسودہ اور خوشحال ہوجاؤ ۔
(۴)… اور دُنیاسے ناامیدی باعث عزت اورتقویٰ وپرہیزگاری باعث سرداری ہے جبکہ نفس کااس میں رغبت رکھنارُسوائی کاسبب ہے ۔
(۵)…دُنیاجس پرمہربان ہوتی ہے اسے ایک دن نقصان بھی ضرورپہنچاتی ہے ۔ ([4])
بعض اَسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی یہ اَشعار پڑھا کرتے تھے :
مُکَرِّمُ الدُّ نْیَامُھَانٌمُسْتَذَلٌ فِی الْقِیَامَۃ
وَالَّذِیْ ھَانَتْ عَلَیْہِ فَلَہُ ثَمَّ کَرَامَۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع