30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)…تیری زندگی میں محبوب چیزسے تیرااتنا ہی حصہ ہے جتنا تو سوتے میں خواب دیکھ لے ۔ ([1])
سیِّدُ نالقمانرَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ارشادات
{1}…حضرتِ سیِّدُنالقمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :’’جس نے دُنیاکو آخرت کے عوض فروخت کردیااس نے دُنیاوآخرت دونوں میں فائدہ اُٹھایااور جس نے دنیاکے بدلے آخرت کوبیچ دیااس نے دُنیا وآخرت میں خسارہ اٹھایا ۔ ‘‘([2])
{2}…حضرت سیِّدُنالقمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے کونصیحت کرتے ہوئے ارشادفرمایا: ’’اے میرے بیٹے !دُنیا ایک گہراسمندر ہے اور اس میں بے شمار لوگ ڈوب چکے ہیں ۔ اس میں تقویٰ تیری کشتی ہوناچاہیے ۔ اس کو ایمان سے بھر دو اور توکل کواس کا بادبان بناؤتاکہ تمہیں نجات حاصل ہواورمجھے نہیں معلوم کہ تم نجات پاؤ گے ۔ ‘‘([3])
٭٭٭٭٭٭٭
سیِّدُ نامَالِک بِن دِیْنَار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّارکے اَقْوَال
{1}…حضرتِ سیِّدُنامالک بن دِینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں : ’’جب جسم بیمارہوتاہے توکھانے ، پینے ، سونے اورآرام کرنے سے اسے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اسی طرح دِل پرجب دُنیاکی محبت غالب آجاتی ہے تواسے نصیحت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ ‘‘([4])
دُنیامیرے گھرمیں داخل نہ فرما:
{2}…حضرتِ سیِّدُنامالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
میں دُعاکرتاہوں ، تم آمین کہنا ۔ پھرآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دُعاکی: ’’اَللّٰھُمَّ لَا تُدْخِلْ بَیْتَ مَالِکٍ مِّنَ الدُّنْیَا لَا قَلِیْلٌ وَلَاکَثِیْر ۔ یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ مالک کے گھر میں دنیا داخل نہ فرما، نہ تھوڑی نہ زیادہ ۔ ‘‘([5])
{3}…حضرتِ سیِّدُنامالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق جب گھر سے نکلتے تو دروازے کو رسی سے باندھ دیتے اورفرماتے :’’اگرکتے نہ ہوتے تو میں اسے کھلاچھوڑ دیتا ۔ ‘‘
{4}…آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کر تے تھے کہ’’بندہ اس وقت تک صدیقین کا مرتبہ نہیں پاسکتاجب تک وہ اپنی زوجہ کوایسے نہ چھوڑدے گویاکہ وہ بیوہ ہواور اس کی پناہ گاہ کتوں کے ٹھکانوں کی طرح نہ ہو ۔ ‘‘([6])
{5}…ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنامالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِالْخَالِق ایک شخص کے سامنے سے گزرے جوکھجور کے پودے لگارہاتھا، آپ وہاں سے جلدگزرگئے ، پھرکچھ عرصے کے بعد دوبارہ وہاں سے گزراہواتودیکھاکہ وہ پودے پھل دارہوچکے ہیں ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کھجورلگانے والے کے بارے میں دریافت فرمایاکسی نے بتایاکہ وہ انتقال کرچکاہے ۔ اس وقت آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ اشعارکہے :
مُؤَمِّلُ دُنْیَالِتَبْقٰی لَہٗ فَمَاتَ الْمُؤَمِّلُ قَبْلَ الْاَمْل
یُرَ بِّیْ فَسِیْلًاوَیُعْنٰی بِہٖ فَعَاشَ الْفَسِیْلُ وَمَاتَ الرَّجُل
ترجمہ:(۱)…آدمی نے دُنیاسے اُمید لگائی کہ وہ اس کے پاس رہے گی لیکن اُمید وار اُمیدپوری ہونے سے پہلے ہی موت کاشکارہوگیا ۔
(۲)…اس نے کھجور کی پرورش ونگہداشت کی پھرکھجور کادرخت توباقی رہالیکن وہ شخص دُنیاسے چلاگیا ۔ ([7])
[1] ۔ ۔ ۔ شرح دیوان المتنبی، ج۱، ص۱۹۵.
[2] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب ذم الدنیا، باب بیان ذم الدنیا، ج۳، ص۲۵۶.
[3] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب ذم الدنیا، باب بیان ذم الدنیا، ج۳، ص۲۵۶.
[4] ۔ ۔ ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۲۰۰، مالک بن دینار، الحدیث:۲۷۷۳، ج۲، ص۴۱۲، بتغرٍ قلیلٍ.
[5] ۔ ۔ ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۲۰۰، مالک بن دینار، الحدیث:۲۸۰۶، ج۲، ص۴۱۹.
[6] ۔ ۔ ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۲۰۰، مالک بن دینار، الحدیث:۲۷۴۹، ج۲، ص۴۰۷.
[7] ۔ ۔ ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۲۰۰، مالک بن دینار، الحدیث:۲۸۷۷، ج۲، ص۴۳۴.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع