30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِ سیِّدُناوہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :جنت کے 8 دروازے ہیں جب لوگ ان دروازوں پرپہنچیں گے توخازنِ جنت ان سے کہیں گے : ’’ہمیں اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی عزّت کی قسم!دُنیا سے بے رغبتی رکھنے اورجنت سے محبت کرنے والوں سے پہلے کوئی اس میں داخل نہیں ہوگا ۔ ‘‘([1])
حضرتِ سیِّدُنامحمد بن سیرین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن فرماتے ہیں :دو شخص زمین کے معاملے میں لڑ رہے تھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے زمین کو حکم فرمایاکہ ’’ ان دونوں سے کلام کر ۔ ‘‘چنانچہ، زمین کہنے لگی:’’اے مسکینو!تم سے پہلے تندرست لوگوں کے علاوہ ہزارمعذوربھی میرے مالک بن چکے ہیں ۔ ‘‘([2])
٭٭٭٭٭٭٭
سیِّدُ نا ابوحازِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے اَقْوَال
{1}…حضرتِ سیِّدُناابوحازِم مدنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں :’’دُنیاکی جو چیز بھی تمہیں خوش کرتی ہے اس کے ساتھ تکلیف ضرورہوتی ہے ۔ ‘‘([3])
{2}…دُنیافناہونے کی جگہ ہے ، اس کوقرار نہیں ، دنیاغم کاگھرہے ، خوشی کا نہیں ، تنگی کاگھر ہے خوشحالی کانہیں ۔ ([4])
{3}…حضرتِ سیِّدُناابوحازِم مدنیعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْغَنِی کی اہلیہ نے ان سے عرض کی کہ’’اچانک سردی ہوگئی ہے اورکھانا، لباس اورلکڑیوں کے سواہماراکوئی چارہ نہیں ہے ۔ ‘‘آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:’’ان کے بغیرتوچارہ ہے لیکن موت، پھر مرنے کے بعداُٹھائے جانے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے دربارمیں حاضر ہونے اوراس کے بعد جنت یا جہنم سے چھٹکارانہیں ہے ۔ ‘‘([5])
فاجردُنیاکی ہرچیزمیں سبقت لے گئے :
{4}…آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہمزیدفرماتے ہیں :’’تم دُنیاکی جس چیزکی طرف بھی ہاتھ بڑھاؤگے توکسی فاسق کواس کی طرف سبقت کرتاپاؤ گے ۔ ‘‘([6])
{5}…آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :’’اللہ عَزَّوَجَلَّکی یہ نعمت کہ اس نے دُنیاکومجھ سے دور رکھا، اس نعمت سے افضل ہے کہ وہ مجھے دنیاعطافرماتا (کیونکہ یہ نعمت جن لوگوں کوبھی ملی وہ اس کے سبب ہلاک ہوگئے ) ۔ ‘‘ ([7])
{6}…آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’دُنیاکاجوحصہ گزر گیا وہ ایک خواب ہے اورجوباقی ہے وہ آرزوئیں ہیں ۔ ‘‘([8])
اس مفہوم کوکسی شاعر نے یوں بیان کیاہے :
کَعَبُوْرِطِیْفٍ اَوْکَظِلِ زَائِلٍ اِنَّ اللَّبِیْبَ بِمِثْلِھَالَایُخْدَع
ترجمہ:یہ دُنیاگزرے ہوئے خواب وخیال یاڈھلنے والے سائے کی مثل ہے ۔ بے شک عقلمندشخص اس جیسی چیز سے دھوکا نہیں کھاتا ۔
ابوطیب متنبی نے کہا:
وَکَمْ مَنْ یَّعْشُقُ الدُّنْیَا قَدِیْمًا وَلٰکِنْ لَاسَبِیْلَ اِلَی الْوِصَال
نَصِیْبُکَ فِیْ حَیَاتِکَ مِنْ حَبِیْبٍ نَصِیْبُکَ فِیْ مَنَامِکَ مِنْ خَیَال
ترجمہ:(۱)…دُنیا کے کتنے ہی عاشق بوسیدہ ہوگئے لیکن پھربھی ان کے لئے وصال کی کوئی راہ نہیں ۔
[1] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب الفقروالزہد، بیان فضیلۃ الزہد، ج۴، ص۲۷۶.
[2] ۔ ۔ ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۱۹۳محمدبن سرین، الحدیث:۲۳۶۷، ج۲، ص۳۱۳.
[3] ۔ ۔ ۔ صفۃ الـصفوۃ، الرقم۱۸۵، ابوحازم سلمۃ بن دینار، ج۱، الجزء الثانی، ص۱۱۱.
[4] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب الفقروالزہد، بیان فضیلۃ الزہد، ج۴، ص۲۷۷، مفہومًا.
[5] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب الفقروالزہد، بیان فضیلۃ الزہد، ج۴، ص۲۷۷، مفہومًا.
[6] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب ذم الدنیا، بیان ذم الدنیا، ج۳، ص۲۵۹.
[7] ۔ ۔ ۔ صفۃ الصفوۃ، الرقم۱۸۵، ابوحازم سلمۃ بن دینار، ج۱، الجزء الثانی، ص۱۰۸.
[8] ۔ ۔ ۔ حلیۃ الاولیاء، الرقم۲۴۰، سلمۃ بن دینار، الحدیث:$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع