30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لئے ۔ ‘‘ ([1])
٭٭٭٭٭٭٭
باب نمبر12: اِخْلَاص کابیان
اللہ رب العزّت قرآنِ مجیدمیں ارشاد فرماتاہے :
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں ۔ (پ۲۷، الذریت:۵۶)
یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ(۵۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اے میرے بندو جو ایمان لائے بے شک میری زمین وسیع ہے تو میری ہی بندگی کرو ۔ (پ۲۱، العنکبوت:۵۶)
پیارے اسلامی بھائی!اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے توفیق دے تجھ پر لازم ہے کہ عبادت میں رکاوٹ ڈالنے اوراس راہ میں آڑے آنے والے امورسے خودکوبچاکر اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت پرکمرباندھ لے ۔ اوریادرکھ!عبادت بغیر علم کے درست نہیں ۔ اوربغیراِخلاص کے علم وعبادت کاکچھ فائدہ نہیں ۔ لہٰذاتیرے لئے اِخلاص ضروری ہے کیونکہ یہ اَعمال کامدار ہے اوراسی اَصل پراِعتمادہے ۔
حضرتِ سیِّدُناامام ابوقاسم عبدالکریم ہوازن قشیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’اخلاص یہ ہے کہ عبادت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کسی اورکاارادہ نہ کیا جائے ۔ یعنی توعبادت کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ کاقرب حاصل کرنے کاارادہ کرے کوئی اورمقصدنہ ہو، نہ مخلوق کے لئے بناوٹ ہونہ لوگوں سے تعریف کی خواہش اورنہ ہی لوگوں کی محبت ہوبلکہاللہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب کے علاوہ کوئی دوسری بات پیش نظرنہ ہو ۔ ‘‘
مزیدارشادفرماتے ہیں :’’یہ کہنابھی درست ہے کہ مخلوق کی نگاہوں سے اپنے عمل کوپاک رکھنے کانام اخلاص ہے ۔ ‘‘ ([2])
٭٭٭٭٭٭٭
باب نمبر13: ریاکاری
پیارے اسلامی بھائی!ریاکاری سے بچ کیونکہ یہ اَعمال کوبرباداورثواب کو ضائع کردیتی، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی اورغضب کا باعث بنتی ہے اورحضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کا نام شرکِ اَصغر رکھا ہے ۔ ([3])
ریاکارقاری، شہیداورسخی کااَنجام:
حضور نبی ٔکریم، ر ء وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق میں سے سب سے پہلے تین بندوں کوجہنم میں ڈالا جائے گا:ایک وہ قاری جس نے اس لئے قرآن پڑھا کہ لوگ اسے قاری کہیں ، دوسرا وہ شہیدجس نے اس لئے قتال کیاکہ لوگ اسے بہادر کہیں اورتیسرا وہ سخی جس نے اس لئے مال صدقہ کیا کہ لوگ اسے سخی کہیں ۔ ‘‘ ([4])
جن اَعمال کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّکاقرب حاصل ہوتاہے مثلاً نماز، روزہ وغیرہ ان کے ذریعے مخلوق کے دِل میں اپنی قدرومنزلت چاہنے کانام ریاہے ۔
جب تُواپنے دل میں ریا محسوس کرے تو عمل ترک کرکے اِخلاص طلب نہ کر کیونکہ اس طرح توتُوشیطان کوخوش کرے گابلکہ تجھ پرغوروفکرکرناضروری ہے
بقیہ حاشیہ …عبادات کا شوق ذکر الہی میں لذت و ذوق وغیرہ ۔ ‘‘(مرا ۃ المناجیح، ج۷، ص۲۸، ۲۹)
مدنی مشورہ:بھوک کے فضائل جاننے ، کم کھانے کی عادت بنانے اورڈھیروں ڈھیر علمی، تحقیقی، طبی، شرعی معلومات کاخزانہ پانے کے لئے ’’دعوت اسلامی‘‘کے اِشاعتی ادارے ’’مکتبۃ المدینہ‘‘کی مطبوعہ1548صفحات پرمشتمل کتاب ’’فیضان سنت‘‘کے باب’’آدابِ طعام‘‘ اور ’’پیٹ کاقفل مدینہ‘‘ کامطالعہ بے حدمفیدرہے گا ۔ علمیہ
[1] ۔ ۔ ۔ جامع الترمذی، کتاب الزہد، باب ماجاء فی راھیۃ…الخ، الحدیث:۲۳۸۷، ج۴، ص۱۶۸.
[2] ۔ ۔ ۔ الرسالۃ القشیریۃ، باب الاخلاص، ص۲۴۲.
[3] ۔ ۔ ۔ المعجم الکبیر، الحدیث:۴۳۰۱، ج۴، ص۲۵۳.
[4] ۔ ۔ ۔ سنن النسائی، کتاب الجہاد، باب من قاتل لیقال…الخ، الحدیث:۳۱۳۴، ص ۵۱۰ مفھوماً.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع