30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قبضۂ قدرت میں میری جان ہے !میں پلکیں اٹھاتاہوں تویہ گمان کرتاہوں کہ شاید انہیں جھکانے سے پہلے مجھے موت آجائے اورجب کھانے کا لقمہ لیتاہوں توخیال کرتاہوں کہ شاید اسے نگلنے سے پہلے موت سے ہمکنارہوجاؤں ۔ ‘‘ ([1])
اورکبھی جب حضورپرنور، شافع یوم النشورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تَیَمُّم کے لئے دیوار پرہاتھ مارتے توعرض کی جاتی:’’یارَسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کے قریب میں پانی موجود ہے ۔ ‘‘توارشاد فرماتے : ’’میں نہیں جانتا کہ اس تک پہنچ سکوں گا یا نہیں ۔ ‘‘ ([2])
امیرالمومنین حضرتِ سیدناابوبکرصدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہیہ شعرپڑھاکرتے تھے :
کُلُّ اِمْرَیٍٔ مُصْبِحٌ فِیْ اَھْلِہٖ وَالْمَوْتُ اَدْنٰی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہٖ
ترجمہ:ہرشخص اپنے گھر والوں میں اس حال میں صبح کرتاہے کہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے ۔ ([3])
امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کافرمان عالی:
حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنااِما م محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’جان لو! بے شک موت کسی مخصوص وقت، مخصوص حالت اورمخصوص عمر میں نہیں آتی، وہ ضرور آکر رہے گی ۔ پس دنیاکے لئے تیاررہنے سے موت کے لئے تیاررہنابہتر ہے ۔ ‘‘ ([4])
٭٭٭٭٭٭٭
باب نمبر11: چوتھی رکاوٹ اوراس کا حل
حرام اورمشتبہ چیزیں کھاناایک ایساعمل ہے جولا محالہ بندے کو اِطاعت ِ الٰہی سے پھیرکر مَعْصِیَت کے راستے پرگامزن کردیتاہے ۔ چنانچہ،
حلال کی برکت اورحرام کی نحوست:
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جو حلال رزق کھاتاہے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے اَعضاء اِطاعت کرتے ہیں اورجو حرام کھاتاہے ، نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے اَعضاء گناہ ہی کرتے ہیں ۔ ‘‘ ([5])
ایک روایت میں ہے کہ’’جوچاہے کھااسی جیسے عمل کرے گا(یعنی حلال طاعت پرابھارتاہے توحرام برائی کی دعوت دیتاہے ) ۔ ‘‘ ([6])
ایک عارِف فرماتے ہیں :’’لوگوں کابغیرتحقیق وتفتیش کے ایک لقمہ کھاناانہیں حق سے محروم اوردائرۂ وِلایت سے خارج کردیتاہے ۔ ‘‘
مشتبہ اورحرام کھانے والااگرعبادت کرے بھی توقبول نہیں ہوتی کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشادفرماتاہے :
اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ(۲۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اللہ اسی سے قبول کرتا ہے جسے ڈر ہے ۔ (پ۶، المائدہ:۲۷)
حدیث مبارک میں ہے کہ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ پاک ہے اورپاک ہی کوقبول فرماتا ہے ۔ ‘‘ ([7])
اے بھائی!حرام کھانے سے بچ کیونکہ حرام سے بچنافرض ہے اورشُبہ والا کھاناکھانے سے بھی ہاتھ کھینچ لے کہ یہ تقویٰ ہے ۔ رزق حلال طلب کرنافرض ہے ، فرائض کے بعد یہ بہت اہم فریضہ ہے اوررزق حلال حاصل کرکے اس میں سے میانہ روی سے کھااورپہن اوراسراف نہ کرکیونکہ حلال اِسراف کونہیں اٹھاتا ۔ پیٹ بھر کرکھانانہ کھا کیونکہ حلال سے پیٹ بھرناہربرائی کی اِبتداہے توحرام کا کیا عالم ہوگا ۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنامقدام بن معدیکرب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں میں نے سیِّدُالمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ’’کسی آدمی نے پیٹ سے زیادہ بُرابرتن کوئی نہیں بھرا([8])، انسان کے لئے چندلقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کوسیدھارکھیں ، پھراگرزیادہ کی ضرورت ہو تو ایک تہائی کھانے کے لئے ، ایک تہائی پانی کے لئے اورایک تہائی سانس کے
[1] ۔ ۔ ۔ شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد، الحدیث:۱۰۵۶۴، ج۷، ص۳۵۵.
[2] ۔ ۔ ۔ المعجم الکبیر، الحدیث:۱۲۹۸۷، ج۱۲، ص۱۸۴.
[3] ۔ ۔ ۔ احیاء علوم الدین، کتاب آداب السماع والوجد، بیان الدلیل علی…الخ، ج۲، ص۳۳۸.
[4] ۔ ۔ ۔ بدایۃ الھدایۃ للغزالی، آداب النوم، ص۱۰.
[5] ۔ ۔ ۔ المدخل، ج۲، الجزء الرابع، ص۲۴۱بتغیر قلیل.
[6] ۔ ۔ ۔ النصیحۃ الکافیۃ، النصیحۃ ﷲ، الفرع الرابع الباطل، ص۱۳.
[7] ۔ ۔ ۔ صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ…الخ، الحدیث:۱۰۱۵، ص۵۰۶.
[8] ۔ ۔ ۔ مفسرشہیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :’’زیادہ پیٹ بھرنے سے مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ۔ نوے فیصدبیماریاں پیٹ سے ہوتی ہیں ۔ پھر اس سے سخت غفلت پیدا ہوتی ہے ۔ دل میں نور نہیں آتا ۔ ‘‘کچھ آگے جاکرفرماتے ہیں :’’ صوفیاء فرماتے ہیں کہ قدرے بھوکا رہنے میں دس فائدے ہیں جسمانی صحت ۔ دل کی صفائی طبیعت کی ہشاشی بشاشی ۔ یعنی چستی دل کی نرمی طبیعت میں انکسار و عجز تکبرو غرور کا ٹوٹنا گناہوں کی کمی درمیانی درجہ کی نیند…بقیہ اگلے صفحے پر ۔ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع