30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِتباعِ نفس حق سے روکتی اورلمبی امیدیں آخرت سے غافل کردیتی ہیں ۔ ‘‘ ([1])
حدیث پاک میں ہے :’’جس کی امیدیں لمبی ہوتی ہیں اس کے عمل بُرے ہوتے ہیں ۔ ‘‘ ([2])
طولِ اَمل کی وجہ سے جنم لینے والی خرابیاں :
دُنیامیں طویل عرصے تک زندہ رہنے کی امیدکوطولِ اَمل(یعنی لمبی امید)سے تعبیرکیاجاتاہے ۔ یہ جس میں پائی جاتی ہے اس کے نہایت بے وقوف اورا حمق ہونے کی دلیل ہوتی ہے ۔ کیونکہ وہ یقین کوچھوڑکروہم پراِعتمادکرلیتاہے حالانکہ اگر شام کے وقت اس سے پوچھاجائے کہ’’کیاتجھے یقین ہے کہ توصبح تک زندہ رہے گا؟ ‘‘ یاصبح کے وقت پوچھاجائے کہ’’کیاتجھے شام تک زندہ رہنے کایقین ہے ؟‘‘تو ضرور اس کاجواب نفی میں ہوگااس کے باوجودوہ دُنیاکے لئے ایسے کوشش کرتاہے جیسے اسے مرناہی نہیں ۔ یہاں تک کہ اگراسے کہہ دیاجائے کہ تم دُنیا میں ہمیشہ رہو گے تب بھی وہ اپنی اس حرص میں اضافہ کی گنجائش نہیں پائے گا ۔ پس جس کی یہ حالت ہو اس سے بڑااحمق کون ہوسکتاہے ۔ نیزلمبی امیدیں ان تمام بری عادتوں اور برے کاموں کی بنیادہیں جوبندے کواللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت وفرمانبرداری سے روک کر معصیت ونافرمانی میں دھکیل دیتے ہیں ۔ جیسے لالچ، بخل اور تنگ دستی کا خو ف ۔
لمبی اُمیدوں کی بڑی خرابیوں میں سے ایک خرابی یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے بندہ دُنیاسے محبت کرتاہے ، اسے بنانے اوراس کاسازو سامان جمع کرنے کی کوشش میں اپناقیمتی وقت بربادکرنے لگتاہے ۔ حالانکہاللہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیب، حبیب لبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاہے کہ ’’مجھے دُنیاکو ویران کرنے کے لئے بھیجا گیاہے اس لئے جو اس کوآباد کرے گا وہ مجھ سے نہیں (یعنی میرے طریقے پرنہیں ) ۔ ‘‘ ([3])
لمبی اُمیدوں سے پیداہونے والی خرابیوں میں سے ایک خرابی ٹال مٹول کرنا بھی ہے ، یہ ایسی بانجھ خصلت ہے جوکوئی نیکی نہیں کرنے دیتی ۔ کہاجاتاہے کہ ’’ جہنمیوں کی زیادہ ترچیخ وپکارٹال مٹول کی وجہ سے ہوگی ۔ ‘‘ٹال مٹول کرنے والا شخص طاعات بجالانے میں سستی دکھاتااورگناہوں سے توبہ کرنے میں تاخیر کرتارہتاہے یہاں تک کہ اسی حالت میں اسے موت آدبوچتی ہے ۔ قرآنِ حکیم میں ارشادہوتاہے :
فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍۙ-فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۰)
ترجمۂ کنزالایمان:پھرکہنے لگے اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا ۔ (پ۲۸، المنافقون:۱۰)
اس سے کہاجائے گا:
وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَاؕ-
ترجمۂ کنزالایمان:اورہرگزاللہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آ جائے ۔ (پ۲۸، المنافقون:۱۰)
ایک اورمقام پرارشادہوتاہے :
اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُؕ-فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠(۳۷) (پ۲۲، فاطر:۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اور کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جسے سمجھنا ہوتا اور ڈر سنانے والاتمہارے پاس تشریف لایا تھا تواب چکھوکہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔
پھروہ دُنیاسے ایسی حسرت وندامت لے کرجاتاہے جس کی کوئی انتہانہیں ۔
اے بھائی!اپنی اُمید یں کم کردے ، موت کونگاہوں کے سامنے رکھ اورلمبی امیدوں کوپس پشت ڈال دے ۔ لذتوں کاخاتمہ کرنے اورجماعتوں کوجداجداکر ڈالنے والی موت کویادکرکے امیدیں کم کرنے پرمددحاصل کر، اپنے ان رشتہ داروں اورواقف کاروں کویادکرجوتیرے سامنے موت کاشکارہوگئے ، موت بہت قریب ہے ، نگاہوں سے اوجھل ہے ، اس کاانتظارکیاجاتاہے ، موت کے کسی بھی وقت اچانک آ جانے کے خوف سے ہروقت اس کی تیاری میں لگارہ ۔
حضورنبی ٔغیب دان، سرورِذِیشان، مالک کون ومکانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (امت کی تعلیم کے لئے )ارشاد فرمایاکرتے تھے :’’قسم ہے اس ذات کی جس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع