30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں تقسیم کیاجاسکتاہے :(ا)…جہالت(۲)…ایمان کی کمزوری (۳)… لمبی امیدیں اور(۴)…حرام اورمشتبہ چیزوں کاکھالینا ۔
ہم اِنْ شَاءَ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ان چاروں میں سے ہرایک پرمختصرمگرجامع گفتگو کرتے ہوئے ان کی مذمت بیان کریں گے پھران سے بازرہنے اورخلاصی پانے کا طریقہ بتائیں گے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق ۔
٭٭٭٭٭٭٭
باب نمبر8: پہلی رکاوٹ اوراس کاحل
جہالت ہربُرائی کی جڑاورہرنقصان کاسبب ہے ۔ جہالت اورجاہلوں کے بارے میں سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادہے :’’دنیالعنتی ہے اورجواس میں ہے وہ لعنتی ہے سوائے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذِکر، عالم اورطالب ِعلم کے ([1]) ۔ ‘‘ ([2])
مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جہالت کوپیداکیاتواس سے فرمایا:’’آگے آ ۔ ‘‘ تووہ پیچھے چلی گئی ۔ پھرفرمایا:’’پیچھے جا ۔ ‘‘تووہ آگے آگئی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے اپنی عزّت وجلال کی قسم!تومجھے مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسند ہے ، میں ضرورتجھے اپنی مخلوق کے بدترین لوگوں میں رکھوں گا ۔ ‘‘ ([3])
امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے
ہیں :’’جہالت سے بڑاآدمی کاکوئی دُشمن نہیں ۔ آدمی جس چیز سے جاہل ہوتاہے اس کا دُشمن بن جاتا ہے ۔ ‘‘
جہالت کی مذمت دلائل عقلیہ ونقلیہ سے ثابت ہے جوکسی پرمخفی نہیں ۔ جاہل نہ چاہتے ہوئے بھی عبادات چھوڑدیتااورگناہ کربیٹھتاہے ۔ کیونکہ اسے ان عبادات کا علم نہیں ہوتاجنہیں بجالانے کا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے حکم اِرشادفرمایاہے اور معصیت سے بھی بے خبرہوتاہے جس سے اِجتناب کااسے حکم ہوتاہے ۔
جاہل علم کی روشنی سے جہالت کی تاریکیوں سے نجات حاصل کرسکتاہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّشیخ علی بن ابوبکررَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ پراپنی رحمتیں نازل فرمائے انہوں نے کیا خوب فرمایا:
اَ لْـجَھْلُ نَـا رٌ لِـدِ یْـنِ ا لْمَرْ ءِ یُـحْـرِ قُـہٗ
وَا لْـعِلْـمُ مَـا ءٌ لِـتِلْـکَ ا لنـَّـارِ یُـطْـفِیْـھَا
ترجمہ:جہالت ایسی آگ ہے جوآدمی کے دین کو جلاڈالتی ہے او رعلم ایساپانی ہے جو اس آگ کوبجھادیتاہے ۔
پیارے اسلامی بھائی!تم پربہت وسیع علم حاصل کرناضروری نہیں بلکہ جتنااللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پرفرض فرمایاہے اتناعلم حاصل کرو، وہ علوم جن سے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے ، جن کے ذریعے فرائض کی ادائیگی اورحرام سے بچنے کاطریقہ معلوم ہوتاہے ، جن کی فوری ضرورت ہے انہیں فی الفورحاصل کرناضروری ہے اورجن کی فوری ضرورت نہیں ان میں تاخیرکی گنجائش ہے ۔
حضرتِ سیدنامالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّارفرمایاکرتے تھے : ’’جو صرف اپنی اصلاح کے لئے علم حاصل کرے اسے تھوڑاعلم بھی کافی ہے اور جو لوگوں کی بھی اصلاح چاہے تولوگوں کی ضروریات توبہت زیادہ ہیں ۔ ‘‘ ([4])
[1] مفسرشہیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں:’’جوچیزشورسول (عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)سے غافل کردے وہ دُنیاہے ۔ یاجوشورسول(عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی ناراضی کا سبب ہو وہ دنیاہے ۔ بال بچوں کی پرورش، غذا، لباس، گھروغیرہ حاصل کرنا سنت انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام)ہے یہ دُنیا نہیں ۔ اس معنی سے واقعی دُنیا اور دُنیا والی چیزیں لعنتی ہیں ۔ اللہ(عَزَّوَجَلَّ) کے ذِکر سے مراد ساری عبادات ہیں یعنی اللہ(عَزَّوَجَلَّ) کا ذِکر، اللہ(عَزَّوَجَلَّ) کے محبوب بندے علماء طلباء اگرچہ دُنیا میں ہیں مگر دُنیا نہیں ہیں ۔ یہ تو اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے محبوب ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کا ذِکر ہر عبادت ہر سعادت کا سر ہے جیسے بدن کے لئے جان ضروری ہے ۔ ایسے ہی مومن کے لئے ذِکْرُ اللہ لازمی ہے ۔ ذِکْرُاللّٰہ سے دُنیا کی بقاء آسمان و زمین کا قیام ہے ( مرقات) جب ذاکرین فنا ہوجائیں گے تو قیامت آجاوے گی ۔ ‘‘(مراٰ ۃ المناجیح، ج۷، ص۱۷، ملخصاً)
[2] ۔ ۔ ۔ سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب مثل الدنیا، الحدیث:۴۱۱۲، ج۴، ص۴۲۸.
[3] ۔ ۔ ۔ نزہۃ المجالس، باب فی فضل العقل، ج۲، ص۱۳۹.
[4] ۔ ۔ ۔ الزہدللامام احمدبن حنبل، زہدمحمدبن سیرین، الحدیث:۱۸۸۵، ص۳۲۶.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع