30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نظررحمت سے محروم ہونے اوراس کے ناراض ہونے کی علامت یہ ہے کہ بندہ گناہوں میں مبتلاہوجاتاہے ۔ گناہوں پر اصرار کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی مول لیتاہے ، وہ شیطان کایارہوتاہے اور اہلِ اِیمان اس سے بیزارہوتے ہیں ۔
اے میرے بھائی!اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرکے اس کی ناراضی اوراس کے عذاب کاحقدارنہ بن جب تیرانفس تجھے گناہوں کی طرف بلائے توتُواسے یاد دِلاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تیرے معاملات سے باخبراورتجھے دیکھ رہاہے اوراس کے درد ناک عذاب اوربڑے عقاب سے اسے ڈراجس کی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نافرمانوں کو وعید سنائی ہے اوراگرعذاب وعقاب نہ بھی ہو توکیایہ کم ہے کہ بندہ گناہوں کی وجہ سے سابقین کو ملنے والے بلند مراتب اورنیکوں کوعطاکئے جانے والے ثواب سے محروم رہتاہے اورکیوں نہ ہوکہ گناہوں میں رُسوائی ، دوزخ کا عذاب، جَبَّارو قَہَّار عَزَّوَجَلَّکی ناراضی اوراس کا ایساغضب ہے جس کے آگے تمام زمین وآسمان والے قائم نہ رہ سکیں ۔ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عافیت کاسوال کرتے ہیں ۔
باب نمبر6: عبادت واِطا عت کا بیان
اللہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیب ، حبیب لبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جونیکی پرخوش اوربرائی پرغمگین ہوتاہے ، وہ (کامل)مومن ہے ۔ ‘‘ ([1])
پیارے اسلامی بھائی!جب تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی عبادت کی توفیق عطا فرمائے توتوبہت خوش ہو ۔ اوراس ربِ لم یزل عَزَّوَجَلَّ کابہت شکربجا لاجس نے اپنی عبادت کی وجہ سے تجھے عزت بخشی اوراس کے لئے تجھے چن لیا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دُعاکیاکرکہ جن نیک اعمال کوبجالانے کی اس نے تجھے توفیق دی ہے انہیں اپنے فضل سے قبول بھی فرمالے ۔
امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمارشاد فرماتے ہیں :’’عمل کرنے سے زیادہ اس کے قبول ہوجانے کی سعی کروکیونکہ عملِ مقبول کم نہیں ہوتا ۔ ‘‘ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادات بجالانے کے معاملے میں ہمیشہ اپنی سستی اورکوتاہی کا اِعتراف کرواگرچہ اس میں تمہاری جدوجہد زیادہ ہو کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کاحق تم پر بہت بڑاہے ۔ اس نے تمہیں عدم سے وجود بخشا اور تم پرنعمتوں کی بارشیں برسائیں ، تم پراپنافضل وکرم فرمایا، اس کی عطاکردہ قوت وطاقت سے ہی تم اس کی اِطاعت کرتے ہواوراسی کی دی ہوئی توفیق اور رحمت سے اس کی عبادت بجا لاتے ہو ۔
تم پر ضروری ہے کہ جن کاموں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے منع فرمایاہے ان کا اِرتکاب کرکے اپنے دامن ایمان کوداغ داراوردِل کوسیاہ نہ کرواورجب بھی کوئی گناہ ہوجائے توجلدی سے توبہ کرلواوراچھی توبہ کرو، خوب ندامت کااِظہاراور کثرت سے اِسْتِغْفَار کرو، اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ہمیشہ ڈرتے رہوکیونکہ مومن ہروقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے لرزتارہتاہے اگرچہ مخلص ہوکراچھے طریقے سے طاعت وعبادت بجا لاتاہو ۔ تم جانتے ہوکہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکے معصوم اوراولیاء عُظَّام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے محفوظ ہونے کے باوجودبھی ان کے خوفِ خدااور خشیت کاکیاعالم ہوا کرتا ، وہ نیکیاں کرتے اور گناہوں سے بچتے تھے ۔
اے بندے !تجھے اس معاملے میں زیادہ ڈرنااورپرہیزکرناچاہئے کیونکہ انبیاء کرام واولیاء عُظَّام عَلَیْہِمُ السَّلَام رحمتِ خداوندی کی وسعت کوتجھ سے زیادہ جانتے تھے ، تجھ سے زیادہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پرحسنِ ظن رکھتے تھے ، اس کے عفوو کرم کی طلب میں تجھ سے زیادہ سچے تھے اوراس کے فضل وکرم کے تجھ سے زیادہ امیدوار تھے ۔ لہٰذاتوان کی پیروی کر نجات اورسلامتی پائے گا، ان کے راستے کی اتباع کر کامیاب ہوجائے گااورنفع پائے گا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ لے لے کیونکہ جواس کی پناہ لیتاہے وہ سیدھی راہ کی ہدایت پاتاہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭
باب نمبر7: عبادت کی رکاوٹیں اوراُ ن کا حل
چونکہ دُنیاکی بنیادمصیبتوں اورآفتوں پررکھی گئی ہے ، میلی کچیلی چیزوں سے اسے گوندھاگیاہے ، مصروفیات اورغفلتوں سے اسے بھردیاگیاہے جس کی وجہ سے اطاعت وعبادت کی رکاوٹیں زیادہ ہوگئیں اورمعصیت پرآمادہ کرنے والے عوامل کی تعدادمیں بھی کافی حدتک اضافہ ہوگیا ۔ تاہم بنیادی طورپرانہیں چار چیزوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع