30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آلودگی سے پاکیزہ فرمادیا، ان کے ہاتھوں خوارق عادات کرامات کا ظہور فرمایا، انہیں غیب پرمطلع فرمایا([1])، ان پر رحمت کانزول فرماکران کی دُعاؤں کو قبولیت کا سہراپہنایاتولوگ ان کے اَنواروتجلیات سے فیض یاب ہوکران کی پیروی
کرنے لگے ، حلِ مشکلات کے لئے بارگاہِ الٰہی میں ان کا وسیلہ پیش کرنے لگے ، ان کے صدقہ وطفیل اپنی آفتوں اورمصیبتوں کے ٹلنے کاسوال کرنے لگے ، ان کی قدم گاہوں سے سفارش طلب کرنے لگے اوران کے مزارات کی مٹی سے برکت حاصل کرنے لگے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں عظمت وشان سے نوازا، ان کے دلوں کواپنے نورسے مُنَوَّرفرمایااوراپنی خالص محبت ومعرفت سے لبریزکیا، انہیں تنہائیوں میں اپنے ذِکرسے تسکین بخشی تووہ لوگوں سے بے پرواہ ہوگئے ، جنت ِنعیم میں ان کے لئے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں تیارفرمائیں ، ان سے اپنے دیدار کاوعدہ فرمایااور اللہ عَزَّوَجَلَّکاان سے راضی ہوناسب سے بڑااِنعام ہے ۔ اللہ جَلَّ شَانُہٗ قرآنِ پاک میں ارشادفرماتاہے :
ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۵۷)
ترجمۂ کنزالایمان:یہی بڑی کامیابی ہے ۔ (پ۲۵، الدخان:۵۷)
ایک مقام پرارشادفرماتاہے :
لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ(۶۱)
ترجمۂ کنزالایمان:ایسی ہی بات کے لئے کامیوں کو کام کرنا چاہیے ۔ (پ۲۳، الصّٰفّٰت:۶۱)
٭٭٭٭٭٭٭
{…علم سیکھنے سے آتا ہے …}
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’علم سیکھنے سے ہی آتاہے اورفقہ غوروفکرسے حاصل ہوتی ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ جس کے ساتھ بھلائی کاارادہ فرماتا ہے اسے دین میں سمجھ بوجھ عطافرماتاہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جوعلم والے ہیں ۔ ‘‘
(المعجم الکبیر، ج۱۹، ص۵۱۱، الحدیث:۷۳۱۲)
باب نمبر5: گناہوں کی ہلاکت خیزیاں
اس باب میں گناہوں کی دنیوی اوراخروی سزائیں مثلاًتباہی وبربادی، ذلت ورُسوائی وغیرہ بیان کی جائیں گی ۔ چنانچہ،
قرآن پاک میں بیان کی گئی سزائیں :
اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے :
اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَؕ-لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى(۷۴)
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے تو ضرور اس کے لئے جہنم ہے جس میں نہ مرے نہ جئے ۔ (پ، ۲۰، طہٰ:۷۴)
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَاؕ-سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ(۴)
ترجمۂ کنزالایمان:یا یہ سمجھے ہوئے ہیں وہ جو بُرے کام کرتے ہیں کہ ہم سے کہیں نکل جائیں گے کیا ہی بُرا حکم لگاتے ہیں ۔
’’ یَسْبِقُوْنَا‘‘سے مرادعاجزکرکے بچ نکلناہے ۔ (پ، ۲۰، العنکبوت: ۴)
وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ(۳۶) (پ۲۲، الاحزاب:۳۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو حکم نہ مانے اللہ اوراس کے رسول کاوہ بے شک صریح گمراہی بہکا ۔
{1}…حضورنبیٔ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:
[1] شیخ طریقت امیراہلسنت بانیٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی منفردتصنیف’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘میں نقل فرماتے ہیں: ’’اولیائے کرام نَفَعَنَاللّٰہُ تَعَالٰی بِبَرَکَاتِہِمْ فِی الدَّارَیْن( اللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں جہاں میں ان کیبرکتوں سے ہمیں مالامال کرے )کوبھی کچھ علوم غیب ملتے ہیں مگربوساطت رُسل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام (یعنی رسولوں کے ذریعے )معتزلہ(نامی باطل فرقہ)خَذَلَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی( اللہ تعالیٰ ان کو غارت کرے ) کہ صرف رسولوں کے لئے اطلاع غیب مانتے اوراولیائے کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے علوم غیب کااصلاً (بالکل) حصہ نہیں مانتے گمراہ مبتدع(بدعتی)ہیں ۔ ‘‘ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص۲۴۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع