سوال:بعض لوگ طواف کے دَوران موبائل پر گھر والوں سے بات کر رہے ہوتے ہیں کیا ان کا ایسا کرنا دُرُست ہے؟
جواب:طواف کرنا عبادت ہے۔اِس میں تو بندگانِ خدا کو رو رو کر دُعائیں مانگنی چاہئیں اور پیارے پیارے آقا ،مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھنا چاہیے۔ دَورانِ عبادت موبائل اِستعمال کرنا دُرُست نہیں ہے۔اگر گھر والوں سے دَورانِ طواف بات کریں گے تو عبادت میں دِل کیسے لگے گا! عبادت تو یکسوئی سے کی جاتی ہے،اگر اس میں بھی دُنیا داری لائیں گے تو عبادت کا نور کیسے حاصل ہو گا؟ہاں اگر دَورانِ طواف کوئی شرعی مسئلہ معلوم کرنے کی حاجت پڑ گئی ہے تو وہ کسی عالِمِ دِین سے پوچھا جا سکتا ہے۔ (2)
سوال:بعض عامل حضرات اپنے پاس آنے والے مَریضوں کا اِس طرح علاج کرتے ہیں کہ’’ کالی مُرغی کی گردن کاٹ کر کچرے میں ڈال دو ، گائے کا کچا دِل مَریض کے سینے پر لگا کر کچرے میں ڈال دو ،انڈوں کو کچرے میں پھینک دو “اور یہ شرط لگاتے ہیں کہ واپس پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھنا، اگر پیچھے مُڑ کر دیکھو گے تو آپ کا مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا علاج کے نام پر اس طرح کھانے کی چیزیں پھینکوانا دُرُست ہے؟
جواب:وہ عملیات جو شریعت کے مُطابق ہوں وہ دُرُست ہیں اور جو عملیات شریعت کے مُطابق نہ ہوں وہ ناجائز ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں کو ضائع کرنا گناہ کا کام ہے۔معلوم نہیں عامل لوگ کہاں سے اِس طرح کے علاج نکال لاتے ہیں، جس میں کھانے پینے کی چیزوں کو پھینکنا ہوتا ہے ۔ غریب لوگوں کو یہ چیزیں کھانے کے لیے نہیں مل رہی ہوتیں اور عامل لوگ ان چیزوں کوکچرے میں ڈلوا رہے ہوتے ہیں۔بسا اوقات عورتیں بھی اس طرح کے علاج کر رہی ہوتی ہیں، اللہ پاک بہتر جانتا ہے کہ واقعی عاملہ ہوتی ہیں یا ان پر کسی جن کا سایہ آجاتا ہے تو وہ اس طرح بابا بن کر لوگوں کا علاج کر رہی ہوتی ہیں۔
سوال:دِینِ اِسلام میں اَحادیثِ مُبارکہ کی کیا اَہمیت ہے؟ (غلام مرتضیٰ، منڈی بہاء الدین)
جواب:دِینِ اِسلام میں اَحادیثِ مُبارکہ کی بہت اَہمیت ہے۔( ) قرآنِ پاک کو سمجھنا اَحادیثِ مُبارکہ پر مَوقوف ہے مثلاً قرآنِ پاک میں نماز کی فرضیت کا بیان ہے جبکہ فرائض، وِتر اور دِیگر واجبات کی جو رَکعتیں ہم پڑھتے ہیں،ان کا ثبوت اور پڑھنے کا طریقہ اَحادیثِ مُبارَکہ میں ہے۔
سوال:بغداد شریف میں کتنے مزارات ہیں؟
جواب:بغداد بہت بڑا شہر ہے،وہاں کے مزارات کو شمار کرنا مشکل کام ہے،لوگ مُردم شماری تو کرتے ہیں لیکن مزارات کو کوئی شمار نہیں کرتا۔بغداد شریف میں بہت بڑے بڑے قبرستان ہیں مثلاً زبیدہ قبرستان، الغزالی قبرستان وغیرہ وغیرہ ۔
سوال: سُوال بَرائے سُوال کرنا کیسا ہے؟ ( )
جواب:سُوال بَرائے سُوال کرنا فضول کام ہے، فضول سُوال کرنے کے بجائے عِلمی سُوال کیا جائے جس سے کسی کے علم میں فائدہ ہو۔( ) کئی سُوالات ایسے بھی کیے جاتے ہیں جو اَصلاً سُوال بنتے ہی نہیں۔ لوگ پھر بھی اپنے مزے کے لیے اِس طرح کے سُوالات کرتے ہیں۔اب اِس طرح کے سُوالات کرنے والوں کی نیّت کیا ہوتی ہے یہ اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے۔ (اس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے فرمایا:)بسااوقات خود ہمارے اپنے ایسے مَسائل ہوتے ہیں جن کی طرف ہماری توجہ نہیں ہوتی کہ ان کا حل معلوم کر لیا جائے،یوں ہی کئی عبادات ایسی ہیں جن کا ہمیں عِلم نہیں ہوتا، ان کے بارے میں سُوال کرنا زیادہ بہتر ہے،سُوال کرنے سے عِلم میں مزید ترقی بھی ہوتی ہے۔
سوال:عالِمِ دِین اور صوفی میں کیا فرق ہے؟
جواب:عالِم کی تعریف تو کتابوں میں ملتی ہے( ) مگر جہاں تک صوفی کی تعریف کا تعلق ہے تو کتابوں میں اس کی تعریف کہیں پڑھی نہیں۔البتہ جو شخص شریعت کا پابند ہوتا ہے اسے صوفی کہا جاتا ہے۔ ہمارے عُرف میں بعض جاہلوں کو بھی صوفی کہہ دیتے ہیں حالانکہ ان کی داڑھی بھی مکمل نہیں ہوتی۔ صوفی ہونے کے لیے عوام میں نیک مشہور ہونا شرط نہیں ہے، جو نیک ہے وہ صوفی بھی ہو ضَروری نہیں ۔ہاں ولی کے لیے عالِم ہونا شرط ہے۔اَولیائے کِرام رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِم کو صوفی کہنے میں حرج نہیں ہے۔موجودہ زمانے میں مذہبی لوگوں کو بھی صوفی کہا جاتا ہے ، بیرونِ ملک میں دعوتِ اسلامی کے اسلامی بھائیوں کو صوفی کہا جاتا ہے، اس کا تجربہ نگرانِ شوریٰ کو ہو گا یہ بیرون ملک جاتے رہتے ہیں۔ (اِس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے فرمایا:) آپ نے بجا فرمایا ہے، دعوتِ اسلامی کو بیرون ملک میں نیکی کی دعوت دینے اور اچھا سلوک کرنے کی بنا پر صوفی کہا جاتا ہے۔جب ہم نیکی کی دعوت دینے کے لیے انہیں اپنے قریب بلاتے ہیں تو وہ لوگ ہمارے قریب آجاتے ہیں ، ہم سے نیکی کی دعوت سنتے اور اسے قبول بھی کرتے ہیں اور اَلْحَمْدُ للہ کافی لوگ دائرۂ اِسلام میں بھی داخل ہو جاتے ہیں۔ (اِس موقع پر مفتی صاحب نے فرمایا:) دَر اَصل تصوف کی مختلف تعریفات کی گئی ہیں، جو ان تعریفات پر کَھرا اُترتا ہے مثلاً جس کا ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن بھی اس طرح پاک ہوکہ اس کے دِل میں کسی کے لیے بغض و کینہ وغیرہ نہ ہو تو اسے صوفی کہا جاتا ہے۔
سوال:لوگ ایک دوسرے کی جاسوسی میں لگے ہوتے ہیں ، کیا یہ دُرُست ہے؟ (عبد الکریم، اسٹریلیا)
جواب:ایک دوسرے کی جاسوسی میں لگے رہنا شرعاً منع ہے،اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا:( اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ- )( )ترجمۂ کنز الایمان:بےشک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ (اِس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے فرمایا:) دُنیا کا کوئی بھی شخص یہ نہیں چاہے گا کہ اس کے ذاتی مُعاملات میں کوئی دوسرا شخص دَخل اندازی کرے۔کچھ لوگ عوام کے لیے پیشوا کی حیثیت رکھتے ہیں،لوگ ان کی زندگی کے تمام مُعاملات کی جاسوسی میں لگے رہتے ہیں کہ وہ کس طرح کھاتے، پیتے، سوتے اور جاگتے ہیں؟ بسا اوقات ان شخصیات میں سے کوئی شخصیت اپنے گھر والوں کے ساتھ ہوتی ہے تو وہاں پر بھی لوگ اس کی جاسوسی کرنا نہیں چھوڑتے، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
سوال:بعض جگہ چھوٹے چھوٹے بچے چیزیں فروخت کر رہے ہوتے ہیں مثلاً ایک چیز بازار میں 30 روپے کی ہے تو وہ اسی چیز کو 50 روپے میں فروخت کر رہے ہوتے ہیں ، کچھ لوگ ان سے پیار و محبت میں 30 والی چیز 100 روپے میں بھی خرید لیتے ہیں جبکہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ چیز تو 30 روپے کی ہے اور تم 50 روپے کی فروخت کر رہے ہو، اس پر ان سے بحث کرنا شروع کر دیتے ہیں ،یہ اِرشاد فرما دیجئے کہ ہمارا ان بچوں کے ساتھ خرید و فروخت کا مُعاملہ کیسا ہونا چاہیے؟
جواب:اس طرح کی چیزیں فروخت کرنے والے عموماً غریب نہیں ہوتے بلکہ آج کے دَور میں یہ بھیک مانگنے کا اسٹائل ہے۔یہ لوگ پروفیشنل ہوتے ہیں ،پہلے یہ لوگ ایک روپے کی ماچس بیچا کرتے تھے اور لوگ ان کی غربت دیکھ کر 10 یا 20 روپے میں اس ایک روپے کی ماچس کو خریدا کرتے تھے۔بعض بھکاری اپنی جھوٹی معذوری کو تحریر کر کے ایک کاغذ تیار کر لیتے ہیں، پھر اس کاغذ کو دِکھا دِکھا کر لوگوں سے بھیک لیتے ہیں۔یہ World سطح پر بھکاری مافیا کہلاتی ہے۔ بہرحال اگر کسی کی اپنی30 روپے میں خریدی ہوئی چیز ہے اور وہ بغیر دھوکا دیئے اس چیز کو 50 روپے میں فروخت کر رہا ہےاس بارے میں کلام نہیں ہے۔
سوال:کیا آنکھیں بند کر کے دُعا مانگ سکتے ہیں؟
جواب:دُعا میں آنکھیں بند کرنا منع نہیں ہے۔آنکھیں بند کر کے اگر دُعا مانگنے میں خشوع و خضوع حاصل ہوتا ہے تو آنکھیں ضَرور بند کرنی چاہئیں۔
سوال:کیا منہ بولی بہن سے نکاح ہو سکتا ہے؟
جواب:جی ہاں! منہ بولی بہن سے نکاح ہو سکتا ہے جبکہ کوئی اور وجہ نکاح حرام ہونے کی نہ پائی جائے۔صرف منہ بولی بہن کہنے سے وہ حقیقتاً بہن نہیں بن جاتی۔
قرآنِ مجید کلامِ الٰہی ****
کتاب کا نام مصنف/مؤلف/متوفیٰ مطبوعات
کنزالایمان اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۲ھ
روح البیان مولی الروم شیخ اسماعیل حقی بروسی، متوفی۱۱۳۷ھ دار احیاء التراث العربی بیروت
بخاری امام ابو عبدُ اللہ محمد بن اسماعیل بخاری،متوفی۲۵۶ھ دارالکتب العلميۃ بیروت ۱۴۱۹ھ
ترمذی امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی، متوفی۲۷۹ھ دار الفکر بیروت۱۴۱۴ھ
معجم اوسط امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی ،متوفی۳۶۰ھ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۲ھ
مسند ابی یعلٰی ابویعلیٰ احمد بن علی موصلی،متوفّٰی۳۰۷ھ دار الکتب العلمیۃ بیروت
مراٰة المناجیح حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور
احیاء علوم الدین امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی،متوفی۵۰۵ھ دار صادر بیروت۱۴۲۰ھ
حلبی کبیر علامہ محمد ابراہیم بن حلبی، متوفی ۹۵۶ ھ مکتبه در سعادت
الفقیه والمتفقه ابوبکراحمد بن علی بن ثابت خطیب بغدادی، متوفی۴۶۲ھ دار ابن الجوزی، ۱۴۲۸ھ
درمختار علاؤالدین محمد بن علی حصکفی،متوفی۱۰۸۸ھ دارالمعرفۃبیروت۱۴۲۰ھ
رد المحتار سید محمد امین ابن عابدین شامی،متوفی۱۲۵۲ھ دارالمعرفۃ بیروت۱۴۲۰ھ
فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ رضا فاؤنڈیشن لاہور۱۴۲۷ھ
ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت مفتی اعظم ہند محمد مصطفےٰ رضا خان، متوفی۱۴۰۲ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۰ھ
فتاویٰ اہلِ سنَّت،(قسط9) دار الافتا اہل سنَّت مکتبۃ المدینہ کراچی