سوال:کیا مُسافر کی دُعا قبول ہوتی ہے؟(احمد رضا)
جواب:جی ہاں! مُسافر کی دُعا قبول ہوتی ہے۔ ( )
سوال:دیکھا گیا ہے کہ لوگ سوشل میڈیا کے ذَریعے اپنے واٹس ایپ اور فیس بک پر Status یا پوسٹ لگا دیتے ہیں، کیا اِن پر عمل کرنا بھی ضَروری ہوتا ہے؟
جواب:اگر کسی نے یہ پوسٹ لگائی ہے کہ’’دِن میں پانچ نمازیں فرض ہیں‘‘ تو ظاہر ہے اِس پر عمل کیا جائے گا۔ بہرحال عمل کرنے کا مدار کسی پوسٹ پر نہیں ہوتا،جس چیز کا کرنا فرض ہے وہ فرض ہے اور جو واجب ہے وہ واجب ہے۔
سوال:قرآنِ پاک میں ہے ’’مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘ تو اگر بیوی نے شوہر کو بھائی کہہ دیا یا شوہر نے بیوی کو بہن کہہ دیا تو کیا اِس صورت میں ان کا نکاح ٹوٹ جائے گا؟ (مظہر اقبال)
جواب:جی نہیں! نکاح نہیں ٹوٹے گا۔بیوی کا اپنے شوہر کو بھائی کہہ کر بُلانا اور شوہر کا اپنی بیوی کو بہن کہہ کر بُلانا شرعاً ممنوع ہے،( )ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ (اِس موقع پر مفتی صاحب نے فرمایا:) اگر کوئی شخص قرآنِ پاک کی اِس آیتِ مُبارَکہ ( اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ) ( ) ترجمۂ کنز الایمان:’’مسلمان مسلمان بھائی بھائی ہیں۔‘‘دَلیل بنا کر بھی کہتا ہے، تب بھی بیوی کو بہن اور شوہر کو بھائی کہنے کی ممانعت رہے گی۔
سوال:کیا جنّات بھی غوثِ پاک کے مُرید ہوتے ہیں؟
جواب:جی ہاں، جنّات بھی غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے مُرید ہوتے ہیں۔جنّات تو غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ سے ڈرتے بھی ہیں۔مزید معلومات کے لیے مکتبۃ المدینہ کے رِسالے ’’جنّات کا بادشاہ‘‘ ( ) کا مُطالعہ کیجئے۔
سوال:کیا رات کے 12 بجے بھی زَوال کا وقت ہوتا ہے؟
جواب:جی نہیں! رات کے 12 بجے زَوال کا وقت نہیں ہوتا۔زَوال دِن میں دوپہر کے وقت ہوتا ہے،اِس کا حساب سورج کے ڈھلنے پر ہوتا ہے اِسی وجہ سے وقتِ زَوال تبدیل ہوتا رہتا ہے ۔دِن کے 12 بجے ہی زَوال ہوایسا نہیں ہے۔
سوال:ذِکْرُ اللہ کرنے کی عادت کیسے بنائی جائے؟
جواب:اِنسان جس چیز کو سنجیدگی سے کرتا ہے اُسے کر لیتا ہے ۔جس طرح تین وقت کے کھانے کو سنجیدگی سے لیا ہوا ہے،یوں ہی جن لوگوں کا روزہ ہوتا ہے وہ اِفطار کا اِنتظار بہت ہی سنجیدگی سے کر رہے ہوتے ہیں کہ روزہ اِفطار ہو تو کھانا کھائیں۔بالکل اِسی طرح اگر کوئی شخص ذِکْرُ اللہ کو سنجیدہ ہو کر کرے گا تو ضرور اس کی ذِکْرُ اللہ کرنے کی عادت بن جائے گی۔ یوں بھی کیا جا سکتا ہے کہ کسی چیز پر لکھ کر دیوار پر لٹکا دیا جائے کہ دیکھنے سے یاد آجائے کہ مجھے ذِکْرُ اللہ کرنا ہے۔( )
(اِس موقع پر نگرانِ شُوریٰ نے فرمایا:)اپنے موبائل پر Reminder بھی لگایا جا سکتا ہے،اِس کے ذَریعے بھی ذِکْرُ اللہ کرنا یاد آجائے گا۔
سوال:کیا جنَّت میں بھی مسجد ہو گی؟
جواب:کَعْبَۃُ الْمُکَرَّمَہْ اور دُنیا کی تمام مَساجد جنَّت میں جائیں گی۔( ) جنَّت میں کسی کو نئی مسجد بنانے کی ضَرورت پیش نہیں آئے گی۔
سوال:اگر کوئی ایسا مسلمان ہے جس سے جان پہچان نہیں ہے تو کیا اُس سے بھی محبت کرنی چاہیے؟(محمد کامران، آسٹریلیا)
جواب:جی ہاں! عام مسلمان سے بھی محبت کرنی چاہیے۔قرآنِ کریم میں اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:( اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ) (2) ترجمۂ کنز الایمان:مسلمان مسلمان بھائی بھائی ہیں۔
سوال:کیا معمولی بیماری میں بھی کسی کی عیادت کرنی چاہیے؟
جواب:جی ہاں! بالکل کرنی چاہیے۔ جیسا رِشتہ ہوتا ہے عموماً ویسا ہی سلوک کیا جاتا ہے مثلاً اگر کسی کے گھر میں بچہ ویسے ہی خاموش بیٹھا ہوا ہے، ماں باپ آکر پوچھتے ہیں کہ بیٹا کیا ہوا؟ آپ کی طبیعت تو خراب نہیں ہے؟ اگر کسی کو کوئی معمولی بیماری مثلاً نزلہ ہو گیا ہے تب بھی ہمدردی کرتے ہوئے اسے پوچھ لینا چاہیے ،اِس سے اُس کا دل خوش ہو جائے گا اور وہ دِل سے دُعائیں دے گا۔ (اِس موقع پر مفتی صاحب نے فرمایا:)ایک مَرتبہ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اُمِ سائب یا اُمِ مسیب کے گھر تشریف لے گئے،فرمایا: تمہیں کیا ہوا کہ کانپ رہی ہو؟انہوں نے عرض کی :بخار ہے،اللہ پاک اِس میں بَرکت نہ دے۔ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:بخار کو بُرا مَت کہو!یہ بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے مَیل کچیل کو صاف کر دیتی ہے۔ ( )
سوال:بعض لوگوں کو دُرُست دِینی بات بتائی جائے تو بھی آگے سے ہَٹ دھرمی کا اِظہار کرتے ہیں،ان کا ایسا کرنا کیسا ؟
جواب: لوگ دُرُست دِینی بات کو ماننے سے اِنکار کرتے ہوں ایسا نہیں ہو گا۔ لوگ دِینی بات کی مخالفت نہیں کرتے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے جو دِینی بات بیان کرنے والا ہے اُس پر اِعتماد نہیں کرتے ہوں گے۔البتہ بعض لوگوں کی بحث کرنے کی عادت ہوتی ہے کہ دیکھو مسئلہ یوں نہیں بلکہ یوں ہو گا،ایسے لوگ دِینی مُعاملات میں اپنی رائے دے رہے ہوتے ہیں، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے یہ بہت خطرناک مُعاملہ ہے۔بعض تو دِینی بات کی مخالفت کرتے کرتے کُفر کے اندھیرے میں جا گِرتے ہیں۔ اگر کوئی باعمل عالِمِ دِین کوئی دِینی بات بتا رہا ہو تو اُس بات کو مان لینے میں ہی عافیت ہے۔