سوال:اگر کسی شخص کا یہ ذہن بنا ہوا ہو کہ ’’اگر اسے پیچھے سے کوئی آواز دے گا تو اس کا فلاں کام بگڑ جائے گا‘‘ایسا ذہن رکھنا کیسا ہے؟
جواب:ایسی سوچ رکھنا بَدشگونی ہے،اِس سے توبہ کرنا ضَروری ہے۔ اِس سے بچنے کے لیے ہر ایک کو مکتبۃُ المدینہ کی کتاب ’’بَدشگونی‘‘ ( ) کا مُطالعہ کرنا چاہیے۔اِس کتاب کو پڑھنے سے ایسی ایسی باتیں معلوم ہوں گی جو لوگوں میں پائی جاتی ہیں حالانکہ ان سے بچنا چاہیے ۔
سوال: موبائل میں قرآنِ پاک ،تَفاسیر،بہارِ شریعت اور فتاویٰ رضویہ وغیرہ دِینی کتب موجود ہوں تو کیا موبائل کو قرآنِ پاک پر رکھ سکتے ہیں؟
جواب:جی نہیں!قرآنِ پاک پر کوئی بھی چیز نہیں رکھ سکتے۔
سوال:وہ نمازیں جو حالتِ مَرض میں نہیں پڑھیں تو کیا وہ نمازیں مُعاف کہلائیں گی؟
جواب:جی نہیں!حالتِ مَرض میں بھی نمازیں مُعاف نہیں ہیں ۔جو مَریض قیام پر قادِر ہے اور سجدہ بھی کر سکتا ہے تو وہ بیٹھ کر نماز نہیں پڑھے گا۔جس مَریض کی جتنی اِستطاعت ہو اُسی اِستطاعت کے مُطابق اُسے نماز پڑھنی ہو گی۔ ( )
سوال:مَرد اور عورت کی نماز کا طریقہ الگ الگ کیوں ہے؟ (وسال ،حسن ابدال)
جواب:نماز کے علاوہ اور بھی بہت سے اَحکام ایسے ہیں جن میں مَرد اور عورت کا فرق رکھا گیا ہے۔جو شریعت نے بتایا ہے اسی پر عمل کیا جائے گا مثلاً مَرد کے اِحرام کا طریقہ عورت کے اِحرام کے طریقے سے بالکل مختلف ہے۔یوں ہی عورت کے لیے کچھ مخصوص اَیّام ہیں جن میں انہیں نماز مُعاف ہوتی ہے جبکہ مَردوں کا مُعاملہ ایسا نہیں ہے ۔ عورتوں کے لیے پَردہ کرنا فرض ہے جبکہ مَردوں کے لیے پَردہ کرنا فرض نہیں ہے۔یہ تمام اَحکامات اللہ پاک اور اس کے رَسُول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف سے دیئے گئے ہیں۔
سوال:اگر کسی شخص پر کئی روزوں کی قضا ہو تو وہ کس طرح اپنے روزوں کی قضا مکمل کرے گا؟(شاہ نواز)
جواب:جتنا جلدی ممکن ہو قضا روزے مکمل کر لینے چاہئیں ۔البتہ روزوں کی قضا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جتنے دِنوں کے قضا روزے یاد ہیں اتنے روزے رکھ لے۔اگر یاد نہیں کہ کتنے روزے قضا ہیں تو ظَنِّ غالب کر کے روزوں کی گنتی کا حساب لگائے اور پھر ان کی قضا کرے۔( )یاد رہے کہ سال میں پانچ دِن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنا حرام و گناہ ہے اور وہ عید الفطر(یکم شوال) اور عید الاضحیٰ (۱۰ تا ۱۲ ذوالحجہ)کے دِن ہیں اور پانچواں دن ۱۳ ذوالحجہ ہے۔ ()
سوال:کیا سَرف کا ذائقہ منہ میں جانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب:جی نہیں!اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔اِسی طرح دُھواں اور آٹے کا غبار جو خود ہی حلق میں چلا جائے،ان سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ()
سوال:نمازِ فجر میں اگر کسی روزہ دار شخص کے منہ میں حلق سے پانی آجائے پھر اسی پانی کو حلق میں واپس لے جائے تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟
جواب:جی نہیں! روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ (اِس موقع پر مفتی صاحب نے فرمایا:)یہ قے کے مسئلے کی طرح ہے کہ کھٹا پانی منہ میں آجاتا ہے اور یہ منہ بھر نہیں ہوتا لہٰذا اِس سے روزہ فاسد نہیں ہو گا۔ یوں ہی جو کھٹی ڈکار آتی ہے اس سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوتا۔( ) (امیرِ اہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا:)بعض لوگ اِفطار پارٹی یا دعوتوں میں جاتے اور بہت زیادہ کھا کر آتے ہیں،انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے،کھانے میں اِحتیاط کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ رَمَضانُ المبارک میں جو کچھ کھاؤ سب ہضم ہو جائے گا ایسا نہیں ہے۔
سوال:اگر بحالتِ روزہ کسی شخص کی ناک میں ویلڈنگ کا دُھواں چلا جائے تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟
جواب:جی نہیں! روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ ہاں اگر خود منہ قریب کر کے اسے کھىنچے گا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ ( )
سوال:کیا بغیر سحری کیے خالی پیٹ روزہ رکھ سکتے ہیں؟
جواب:سحری کرنا سنَّت ہے۔بغیر سحری کے بھی روزہ رکھا جا سکتا ہے۔بالفرض اگر کسی کی آنکھ صبح دیر سے کھلی ہے اور سحری کا وقت بھی ختم ہو چکا ہے ،تو اب خالی پیٹ روزہ رکھنا فرض ہے۔
سوال:اگر کسی شخص نے ناپاکی کی حالت میں روزہ رکھ لیا اور غسلِ جنابت بھی نمازِ فجر کا وقت ختم ہونے کے بعد کیا تو کیا ایسے شخص کا روزہ ہو جائے گا؟
جواب:جی ہاں! روزہ تو ہو جائے گا لیکن نمازِ فجر قضا کرنے پر گناہ گار ہو گا۔جب بھی کسی پر غسلِ جنابت ہو تو اسے چاہیے کہ جَلد غسل کر لے کیونکہ جہاں جنبی شخص ہوتا ہے وہاں رَحمت کے فرشتے نہیں آتے۔( ) (اِس موقع پر مفتی صاحب نے فرمایا:) رَحمت کے فرشتے نہ آنے کی صورت یہ ہے کہ جب غسلِ جنابت کی وجہ سے نماز ضائع ہوتی ہو۔حدیثِ پاک میں ہے:حضرتِ سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ اَقدس میں عرض کی:جسے رات میں غسلِ جنابت طاری ہو تو کیا وہ رات ہی میں غسل کرے گا؟آپ نے رُخصت دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا:اسے چاہیے کہ نماز کا سا وُضو کر لے اور جس حِصّے پر نجاست ہو اُسے دھو لے۔( ) غسل صبح بھی کیا جا سکتا ہے ۔
سوال:رَمَضانُ المبارک میں اگر کسی پر غسل فرض ہو جاتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ روزے کی وجہ سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا مُعاف ہو گیا،کیا یہ دُرُست ہے؟
جواب: رَمَضانُ المبارک مىں بھی فرض غسل میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا مُعاف نہیں ہے۔فرض غسل میں پانی ناک کی ہڈی تک چڑھانا ہوتا ہے لیکن اتنی شدّت سے پانی نہیں کھینچا جائے گا کہ دماغ تک پہنچ جائے کیونکہ روزہ یاد ہونے کی صورت میں اگر پانی دماغ تک گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔( )روزے کی حالت میں غرغرہ کرنے سے بچنا چاہیے،بغیر غرغرہ کے ہی حلق کی جڑ تک پانی پہنچایا جائے گا۔دانتوں کی کھڑکیوں کو بھی مکمل صاف کرنا ہے کہ کوئی بھی چیز باقی نہ رہ جائے یہ غسل میں فرض ہے۔( )جبکہ وضو میں کلی کرنا سنَّتِ مؤکدہ ہے۔( )
سوال:دِل میں رَمَضانُ المبارک کی جُدائی کا غم کیسے پیدا کیا جائے؟
جواب: رَمَضانُ المبارک کے جو فَضائل و فَوائد ہیں انہیں یاد رکھا جائے کہ اِس مبارک مہینے میں نیکیوں کا اَجر بڑھ جاتا ہے، اللہ پاک کی رَحمت چھما چھم برستی ہے ،مغفرت کے پَروانے تقسیم ہوتے ہیں اور رَمَضَانُ المبارک میں ہر روز اِفطار کے وقت 10 لاکھ اَفراد جہنم سے آزاد کیے جاتے ہیں۔( ) اِسی مہینے میں جمعہ کے دِن کی ہر ساعت میں 10 ،10 لاکھ اَفراد جہنم سے آزاد کیے جاتے ہیں۔( ) رَمَضَانُ المبارک میں مَساجد کی رونق بڑھ جاتی ہے ،تَراویح کا سماں ہوتا ہے اور ہر طرف قرآنِ پاک کی تلاوت گونج رہی ہوتی ہے۔ جب یہ مہینا رُخصت ہو جائے گا تو پھر ہر جگہ سُونا سُونا ماحول ہو جائے گا۔ اِس طرح کی باتیں اپنے ذہن میں دُہرائیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ رَمَضانُ المبارک کی محبت دِل میں قرار پکڑ جائے گی اور غمِ رَمَضان بھی نصیب ہو جائے گا۔
سوال:عیدُ الفطر کیوں منائی جاتی ہے؟
جواب:جو لوگ رَمَضان ُالمبارک میں تَراویح پڑھتے ہیں،مشقتیں بَرداشت کرتے ہیں تو انہیں مغفرت کے پَروانے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے اللہ پاک کی طرف سے ایک خوشی کا دِن ہے، جس دِن وہ خوشی مناتے ہیں۔ عید کی رات کو لَیْلَۃُ الْجَائِزَہ (اِنعام والی رات)بھی کہتے ہیں۔( )
قرآنِ مجید کلامِ الٰہی ****
کتاب کا نام مصنف/مؤلف/متوفیٰ مطبوعات
کنزالایمان اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۲ھ
بخاری امام ابو عبدُ اللہ محمد بن اسماعیل بخاری،متوفی۲۵۶ھ دارالکتب العلميۃ بیروت ۱۴۱۹ھ
مسلم امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری، متوفی۲۶۱ھ دارالکتاب العربی بیروت۱۴۲۷ھ
ترمذی امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی، متوفی۲۷۹ھ دار الفکر بیروت۱۴۱۴ھ
ابو داود امام ابو داود سلیمان بن اشعث سجستانی، متوفی۲۷۵ھ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۱ھ
نسائی امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب نسائی، متوفی۳۰۳ھ دار الکتب العلميۃ بیروت ۱۴۲۶ھ
شعب الایمان امام ابو بکر احمد بن حسین بن علی بیہقی، متوفی۴۵۸ھ دار الکتب العلميۃ بیروت ۱۴۲۱ھ
فردوس الاخبار شیرویہ بن شہردار بن شیرویہ الدیلمی، متوفی ۵۰۹ھ دارالفکربیروت۱۴۱۸ھ
جمع الجوامع امام ابو الفضل جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابو بکر سیوطی، متوفی۹۱۱ھ دار الکتب العلميۃ بیروت ۱۴۲۱ھ
ابن حبان ابوحاتم محمد بن حبان تمیمی الدارمی، متوفی۳۵۴ھ دارالکتب العلمیۃ بیروت
نُزهة القاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی ،متوفی۱۴۲۰ھ فرید بک سٹال لاہور
مراٰة المناجیح حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور
شمس المعارف الکبریٰ حضرت شیخ ابو العباس احمد بن علی بونی ،متوفی ۶۲۲ھ کوئٹہ
درمختار علاؤالدین محمد بن علی حصکفی،متوفی۱۰۸۸ھ دارالمعرفۃبیروت۱۴۲۰ھ
رد المحتار سید محمد امین ابن عابدین شامی،متوفی۱۲۵۲ھ دارالمعرفۃ بیروت۱۴۲۰ھ
فتاویٰ ھندية ملانظام الدین، متوفی۱۱۶۱،وعلمائے ھند دارالفکربیروت۱۴۱۱ھ
فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ رضا فاؤنڈیشن لاہور۱۴۲۷ھ
فتاویٰ امجدیہ مفتی محمد امجد علی اعظمی، متوفی۱۳۶۷ھ مکتبہ رضویہ کراچی
بہارِشریعت مفتی محمد امجد علی اعظمی، متوفی۱۳۶۷ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۹ھ
ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت مفتی اعظم ہند محمد مصطفےٰ رضا خان، متوفی۱۴۰۲ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۳۰ھ
دلائل الخیرات ابو عبدُ اللہ محمد بن سلیمان الجزولی، متوفی۸۷۰ھ مکتبۃ المدینہ کراچی
فیضانِ نماز امیر اہلِ سنَّت علامہ مولانا محمدالیاس عطارقادری رضوی مکتبۃ المدینہ کراچی