30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیٹیگریز
کیٹیگریز
مصنف:
Ameer-e-Ahl-e-Sunnat
پبلشر: Maktaba-tul-Madina
تاریخ اشاعت:
January 2 ,2006
اپڈیٹ تاریخ:
October 2, 2024
کیٹیگری:
Fiqh-o-Usool-e-Fiqh
,
Haftawar Rasail
آن لائن پڑھیں صفحات: 16
پی ڈی ایف صفحات: 49
ISBN نمبر: N/A
یہ کتاب قربانی کے احکام کو عملی انداز میں سمجھاتی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ قربانی کی اصل حیثیت اور فضیلت کیا ہے، کن افراد پر یہ لازم ہوتی ہے اور کس حدِ مال کے بعد واجب بنتی ہے۔ اس کے ساتھ قربانی کے جانور کی صحت مند اور شرعی شرائط، عیوب سے پاک ہونے کی تفصیل، اور قربانی ادا کرنے کا درست طریقہ اور مسنون دعائیں بھی واضح کی گئی ہیں تاکہ عمل میں غلطی نہ رہے۔
قربانی ہر اُس مسلمان پر واجب ہوتی ہے جو عاقل، بالغ، مقیم اور صاحبِ نصاب ہو۔ یعنی وہ شخص جس کے پاس بنیادی ضروریات سے زائد اتنا مال ہو جو نصاب کے برابر ہو۔
• عاقل و بالغ ہونا ضروری ہے ۔مقیم ہونا شرط ہے مسافر پر واجب نہیں ہے۔
• صاحبِ نصاب ہونا لازمی ہے یہ نصاب وہی ہے جو زکوٰۃ کے لیے مقرر ہے
حدیث: جس کے پاس وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔(ابن ماجہ)
قربانی مالی عبادت ہے، اس لیے اس کا تعلق استطاعت سے ہے۔
قربانی کے واجب ہونے کے لیے نصاب کے برابر مال ہونا ضروری ہے، جو ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر ہو۔
تفصیل:
• نقد رقم، سونا، چاندی یا مالِ تجارت نصاب میں شامل ہو سکتا ہے ۔یہ مال ضروریاتِ زندگی سے زائد ہونا چاہیے
• قرض منہا کرنے کے بعد نصاب مکمل ہونا ضروری ہے ۔
• اگر کسی کے پاس نصاب ہے تو قربانی واجب ہے، چاہے زکوٰۃ لازم ہو یا نہ ہو ۔یہ حکم ہر سال لاگو ہوتا ہے
قربانی کا نصاب وہی ہے جو زکوٰۃ کے لیے مقرر ہے
قربانی کے جانور کے لیے شریعت نے چند واضح شرائط مقرر کی ہیں تاکہ عبادت بہترین طریقے سے ادا ہو۔
اہم شرائط:
• بکرا، بکری، گائے، بیل، اونٹ وغیرہ کی مقررہ عمر مکمل ہو ۔صحت مند اور طاقتور ہو ۔
• کسی بڑے عیب سے پاک ہو ۔مالک کی ملکیت میں ہو ۔
حدیث:نبی کریم ﷺ نے عیب دار جانور کی قربانی سے منع فرمایا (ابو داود)
قربانی میں بہترین جانور پیش کرنا اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔
قربانی اسلام کا عظیم شعار اور سنتِ ابراہیمی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور تقویٰ کے حصول کا ذریعہ ہے۔
قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے : " فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲)" (الکوثر: 2)
توتم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔
مزید قرآن میں فرمان باری تعالی ہے :
“لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ- "" (الحج: 37)
اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ اُن کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔
حدیث:
“قربانی کے دن اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل قربانی کرنا ہے ” ( ترمذی)
اہم مقاصد:اللہ کی اطاعت اور قرب حاصل کرنا ۔۔سنتِ ابراہیمی کو زندہ کرنا ۔معاشرے میں ایثار اور خدمت کو فروغ دینا ہے۔
قربانی کے جانور کا عیب سے پاک ہونا ضروری ہے، اور کچھ واضح عیوب ایسے ہیں جن کی صورت میں قربانی جائز نہیں ہوتی۔
اہم ممنوع عیوب:اندھا یا ایک آنکھ سے نابینا جانور ۔شدید لنگڑا جو چل نہ سکے ۔بہت زیادہ بیمار جانور ۔انتہائی کمزور (ہڈیوں میں گودا نہ ہو)
حدیث:نبی کریم ﷺ نے ان عیوب والے جانوروں سے منع فرمایا (ابو داود، ترمذی)
ہر وہ عیب جو جانور کی صحت یا گوشت پر واضح اثر ڈالے، وہ قربانی کے لیے مانع ہے۔