30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
طلبِ حدیث کے لئے سفر کرنے کی فضیلت
علم حاصل کرنے کی فضیلت:
{1}…حضرتِ سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورانور، نُورمُجسَّم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں چین جاناپڑے کہ بے شک علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے (1)۔‘‘ (2)
ایک حدیث کے لئے مدینے سے شام کاسفر:
{4}…حضرتِ سیِّدُناکثیربن قیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُناابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ جامع مسجد دمشق میں بیٹھاہوا تھا کہ ایک شخص نے حاضرہوکرعرض کی:’’اے ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ! مجھے خبر ملی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حضورنبی ٔ کریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک حدیث بیان کرتے ہیں۔لہٰذا میں مدینہ منوَّرہ زَادَہَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعْظِیْمًا سے صرف وہ حدیث سننے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔‘‘حضرتِ سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’تم کسی اور کام کے لئے تونہیں آئے ؟ ‘ ‘ اس نے عرض کی: ’’جی نہیں۔‘‘فرمایا:’’تجارت کے لئے تونہیں آئے ۔‘‘ عرض کی: ’’جی نہیں۔‘‘ فرمایا: ’’صر ف یہی حدیث سننے کے لئے آئے ہو؟‘‘عرض کی :’’جی ہاں!‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیان فرمایاکہ میں نے حضورنبی ٔ پاک، صاحبِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم کوارشاد فرماتے سناکہ’’جو طلب ِ علم کے لئے کسی راستے پرچلاتو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے جنت کے راستے پرچلا دے گا اورفرشتے طالب ِ علم کی رضاکے لئے اپنے پربچھادیتے ہیں۔بے شک عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودہویں رات کے چاندکی تمام ستاروںپراورعالم کے لئے زمین و آسمان کی تمام مخلوق استغفار کرتی ہے حتیٰ کہ مچھلیاں پانی میں۔بے شک علما، انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں اورانبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام درہم ودِینار کا وارث نہیں بناتے بلکہ وہ توعلم کا وارث بناتے ہیں۔ جس نے اسے لے لیااس نے وافرحصہ لے لیا۔‘‘ (3)
{7}…حضرتِ سیِّدُنازِرّبن حُبَیْش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیںکہ میں حضرتِ سیِّدُناصفوان بن عسال مرادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا:’’کونسی چیزتمہیں یہاں لائی ہے ؟‘‘میں نے عرض کی:’’علم کی تلاش۔‘‘فرمایا:بے شک میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سناکہ’’جوشخص علم کی تلاش میں اپنے گھر سے نکلتا ہے فرشتے اس کی رضا کے لئے اپنے پربچھادیتے ہیں۔‘‘ (4)
گستاخی کااَنجام:
{8}…حضرتِ سیِّدُنایحییٰ زکریابن یحییٰ ساجی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی بیان کرتے ہیں کہ ہم بصرہ کی گلیوں میں ایک مُحدِّث کے گھرکی طرف جارہے تھے کہ ہم نے تیز تیزچلناشروع کردیا۔ہمارے ساتھ ایک مسخرہ اور بدنامِ زمانہ شخص بھی تھا۔ وہ بطورِ استہزا(یعنی مذاق کے )کہنے لگا:’’فرشتوں کے پروں سے اپنے پاؤں اٹھا لو کہیں انہیں روندنہ ڈالنا۔‘‘(اتناکہنے کے بعد)وہ ابھی اپنی جگہ سے ہٹابھی نہ تھاکہ اس کے دونوں پاؤں خشک ہوگئے اوروہ گرپڑا۔‘‘ (5)
علم کی تلاش میں رہو:
{9}…حضرتِ سیِّدُناابومطیع معاویہ بن یحییٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُناداؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ’’آپ لوہے کے جوتے بنالیںاورعصالے کرطلب ِ علم کے لئے نکلیں یہاں تک کہ عصاٹوٹ جائے اورجوتے پھٹ جائیں۔‘‘ (6)
1 حضرت سیِّدُناعلامہ عبدالرء وف مُناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ’’فیض القدیر، ج1، ص692‘‘ پراس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ’’علم حاصل کرواگرچہ اس کے حصول کے لئے دوررازمقامات کاسفرکرناپڑے جیساکہ چین۔پس جوعلم دین کے حصول میں پہنچنے والی مشقت پرصبرنہیں کرتا اس کی زندگی جہالت کی اندھیریوں میں گزرتی ہے اورجوصبرکرتاہے اس کی زندگی دنیاوآخرت میں عزت سے گزرتی ہے ۔‘‘امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: ’’علم مال ودولت سے بہترہے ۔‘‘
2 شعب الایمان للبیھقی ، باب فی طلب العلم ، الحدیث :۱۶۶۳، ج ۲، ص ۲۵۳.
3 جامع الترمذی ، کتاب العلم ، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ ، الحدیث :۲۶۹۱، ج ۴، ص ۳۱۲.
سنن ابی داود ، کتاب العلم ، باب الحث علی طلب العلم ، الحدیث :۳۶۴۱، ج ۳، ص ۴۴۴.
4 جامع بیان العلم وفضلہ ، باب ذکرحدیث صفوان بن عسال…الخ ، الحدیث :۱۴۹، ص ۵۱.
5 مرقاۃ المفاتیح ، کتاب العلم ، الفصل الثانی ، تحت الحدیث :۲۱۲، ج ۱، ص ۴۷۰.
6 المجالسۃوجواہرالعلم ، الجزء الثانی ، الرقم ۳۱۳، ج ۱، ص ۱۶۴ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع