(1) خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ ٖ وسلَّم کی مبارک زُلفیں کبھی نصف (یعنی آدھے)کان مبارَک تک تو(2) کبھی کان مبارَک کی لَوتک اور(3)بعض اوقات بڑھ جاتیں تو مبارَک شانوں یعنی کندھوں کوجھوم جھوم کر چومنے لگتیں (الشمائل المحمدیۃ للترمذی ص۳۴ ، ۳۵ ، ۱۸)(4)ہمیں چاہئے کہ موقع بہ موقع تینوں سنّتیں ادا کریں ، یعنی کبھی آدھے کان تک تو کبھی پورے کان تک تو کبھی کندھوں تک زلفیں رکھیں (5) کندھوں کو چُھونے کی حد تک زلفیں بڑھانے والی سنَّت کی ادائیگی عُمُوماً نفس پرزیادہ شاق ( یعنی بھاری) ہوتی ہے مگر زندَگی میں ایک آدھ بار تو ہر ایک کویہ سنَّت ادا کرہی لینی چاہئے ، اَلبتّہ یہ خیال رکھنا ضَروری ہے کہ بال کندھوں سے نیچے نہ ہونے پائیں ، پانی سے اچّھی طرح بھیگ جانے کے بعد زُلفوں کی درازی(یعنی لمبائی) خوب نُمایاں ہو جاتی ہے لہٰذا جن دنوں بڑھائیں ان دنوں غسل کے بعدکنگھی کرکے غور سے دیکھ لیا کریں کہ بال کہیں کندھوں سے نیچے تو نہیں جا رہے (6)میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : عورتوں کی طرح کندھوں سے نیچے بال رکھنا مَرد کی لئے حرام ہے(تسہیلاً فتاوٰی رضویہ ج۲۱ص۶۰۰)(7) صَدرُالشَّریعہ ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں :مرد کویہ جائز نہیں کہ عورَتوں کی طرح بال بڑھائے ، بعض صوفی بننے والے لمبی لمبی لٹیں بڑھا لیتے ہیں جو اُن کے سینے پر سانپ کی طرح لہراتی ہیں اور بعض چوٹیاں گُوندھتے ہیں یا جُوڑے(یعنی عورَتوں کی طرح بال اکٹّھے کر کے گدّی کی طرف گانٹھ) بنالیتے ہیں یہ سب ناجائز کام اور خِلاف شَرع ہیں۔ تصوُّف بالوں کے بڑھانے اور رنگے ہوئے کپڑے پہننے کا نام نہیں بلکہ حُضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ ٖ وسلَّم کی پوری پَیروی کرنے اور خواہِشاتِ نفس کو مٹانے کا نام ہے۔ (بہارِشریعت حصّہ ۱۶ص۲۳۰)(8) عورت کا سر مُنڈوانا حرام ہے۔( خلاصہ ازفتاوٰی رضویہ ج۲۲ ص۶۶۴) (9)عورت کو سر کے بال کٹوانے جیسا کہ اِس زمانے میں نصرانی عورتوں نے کٹوانے شروع کردیے ناجائز و گناہ ہے اور اس پر لعنت آئی۔ شوہر نے ایسا کرنے کو کہا جب بھی یہی حکم ہے کہ عور ت ایسا کرنے میں گنہگار ہوگی کیونکہ شریعت کی نافرمانی کرنے میں کسی کا (یعنی ماں باپ یا شوہر وغیرہ کا)کہنا نہیں مانا جائے گا۔ (بہارِشریعت حصّہ ۱۶ص۲۳۱) (10) بعض لوگ سیدھی یا اُلٹی جانب مانگ نکالتے ہیں یہ سنّت کے خلاف ہے (11) سنّت یہ ہے کہ اگر سر پربال ہوں تو بیچ میں مانگ نکالی جائے (ایضاً ) (12)(سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ ٖ وسلَّم سے) بِغیر حج کبھی سرمُنڈوانا ثابت نہیں (فتاوٰی رضویہ ج۲۲ ص۶۹۰ ) (13)آج کل قینچی یا مشین کے ذَرِیعے بالوں کو مخصوص طرز پر کاٹ کر کہیں بڑے تو کہیں چھوٹے کر دیئے جاتے ہیں ، ایسے بال رکھنا سنَّت نہیں (14) فرمانِ مصطَفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ ٖ وسلَّم : ’’جس کے بال ہوں وہ ان کا اِکرام کرے۔‘‘ (سُنَنِ ابوداوٗد ج ۴ ص ۱۰۳ حدیث۴۱۶۳)یعنی ان کو دھوئے ، تیل لگائے اور کنگھا کرے (15) حضرت سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے سب سے پہلے مہمانوں کی ضِیافت کی اور سب سے پہلے ختنہ کیا اور سب سے پہلے مونچھ کے بال تراشے اور سب سے پہلے سفید بال دیکھا۔ عرض کی: اے رب! یہ کیا ہے؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: ’’اے ابراہیم! یہ وقار ہے۔‘‘ عرض کی: اے میرے رب! میرا وقار زیادہ کر۔ (موطا ج ۲ ص ۴۱۵ حدیث ۱۷۵۶ ) (16)دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘حصّہ 16 صَفْحَہ224پر ہے: محبوبِ ربُّ العباد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ ٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت بُنیادہے : ’’جو شخص قصداً (یعنی جان بوجھ کر)سفید بال اُکھاڑے گا قِیامت کے دن وہ نیزہ ہوجائے گا جس سے اس کو بھونکا جائے گا۔‘‘(کَنْزُ الْعُمّال ج ۶ ص۲۸۱رقم ۱۷۲۷۶)(17)بُچّی(یعنی وہ چند بال جو نیچے کے ہونٹ اور ٹھوڑی کے بیچ میں ہوتے ہیں اس) کے اَغَل بَغَل (یعنی آس پاس)کے بال مُونڈانا یا اُکھیڑنا بدعت ہے۔ (فتاوٰی عالمگیری ج۵ ص۳۵۸) (18) گردن کے بال مُونڈنا مکروہ ہے۔ (ایضاًص۳۵۷) یعنی جب سر کے بال نہ مُونڈائیں صرف گردن ہی کے مونڈائیں جیسا کہ بَہُت سے لوگ خط بنوانے میں گردن کے بال بھی مونڈاتے ہیں اور اگر پورے سر کے بال مونڈا دیے تو اِس کے ساتھ گردن کے بال بھی دفن کردی جائیں ، بال ، ناخن ، حیض کالَتّا (یعنی وہ کپڑا جس سے عورت حیض کا خون صاف کرے) خون۔ (ایضاً ص۲۳۱ ، عالمگیری ج۵ ص۳۵۸) (20) مرد کو داڑھی یا سرکے سفید بالوں کو سُرخ یا زرد رنگ کر دینامُستَحَب ہے ، اس کیلئے مہندی لگائی جا سکتی ہے (21) داڑھی یا سر میں مہندی لگا کر سونا نہیں چاہئے ۔ ایک حکیم کے بقول اس طرح مہندی لگا کر سوجانے سے سر وغیرہ کی گرمی آنکھوں میں اُتر آتی ہے جو بینائی کے لئے مُضر یعنی نقصان دہِ ہے۔ حکیم کی بات کی تَوثِیق یوں ہوئی کہ ایک بار سگِ مدینہ عفی عنہ کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اُس نے بتایا کہ میں پیدایشی اندھا نہیں ہوں ، افسوس کہ سر میں مہندی لگا کر سو گیا جب بیدار ہوا تو میری آنکھوں کانُور جا چکا تھا ! (22)مہندی لگانے والے کی مونچھ ، نچلے ہونٹ اور داڑھی کے خط کے کَنارے کے بالوں کی سفیدی چند ہی دنوں میں ظاہر ہونے لگتی ہے جو کہ دیکھنے میں بھلی معلوم نہیں ہوتی لہٰذا اگر بار بار ساری داڑھی نہیں بھی رنگ سکتے تو کوشِش کر کے ہر چار دن کے بعد کم از کم ان جگہوں پر جہاں جہاں سفیدی نظر آتی ہو تھوڑی تھوڑی مہندی لگا لینی چاہئے۔
ہزاروں سنّتیں سیکھنے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب (۱) 312 صفحات پرمشتمل کتاب بہارِ شریعت حصّہ 16 اور(۲) 120 صَفَحات کی کتاب ’’ سنّتیں اور آداب‘‘ہدِیّۃً حاصِل کیجئے اور پڑھئے۔ سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔
لوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو
ہوں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو ختم ہوں شامتیں قافِلے میں چلو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد