دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aashiq e Akbar | عاشق اکبر

Barooz e Qayamat Fikr e Ummat Ka Andaaz

book_icon
عاشق اکبر

بروزِ قِیامت فکرِ امَّت کا انداز

حضرتِ ابنِ عبّاس     رضی اللہ  تعالٰی  عنہما  سے روایت ہے ، حُضور شاہِ خیرُالْاَنام    صلَّی اللہ تعالٰی علیہ  واٰلہ ٖ  وسلَّم    فرماتے ہیں : قِیامت کے دن تمام انبیاءِ کرام (عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ) سونے کے منبروں  پر جلوہ گر ہوں گے  ، میرا منبر خالی ہو گا کیوں  کہ میں  اپنے رب کے حُضُور خاموش کھڑا ہوں  گا کہ کہیں  ایسا نہ ہو اللہُ       مجھے جنَّت میں جانے کا حکم فرما دے اور میری اُمّت میرے بعد پریشان پھرتی رہے۔ اللہُ تعالیٰ فرمائے گا:اے محبوب! تیری اُمّت کے بارے میں  وُہی فیصلہ کروں  گا جو تیری چاہت ہے ۔ میں  عرض کروں گا : اللھُمَّ عَجِّلْ حِسَابَھُمْ یعنی اے  اللہُ !ان کا حساب جلدی لے لے ( کہ میں  ان کو ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں ) یہ مسلسل عرض کرتا رہوں  گا یہاں  تک کہ مجھے دوزخ میں  جانے والے میرے اُمّتیوں  کی فہرست دے دی جائے گی ( جو جہنَّم میں  داخِل ہو چکے ہوں  گے ان کی شَفاعت کر کے میں  انہیں  نکالتا جاؤں  گا)یوں  عذابِ الہٰی کے لیے میری اُمّت کا کوئی فرد نہ بچے گا۔
  (کَنْزُ الْعُمّال ج۷ ص۱۴ رقم۳۹۱۱۱دارالکتب العلمیۃ بیروت) 
اللہُ ! کیا جہنَّم اب بھی نہ سرد ہو گا
رو رو کے مصطَفٰے نے دریا بہا دیئے ہیں
 اے عاشقانِ رسول!امَّت کے غمخوار آقا کے قدموں  پرنثار ہو جایئے اور زندگی ان کی غلامی بلکہ ان کے غلاموں  کی غلامی اور دعوتِ اسلامی اور اس کے مَدَنی قافِلوں  کے اندر سفر میں  گزار کر مرنے کے بعد ان کی شَفاعت کے حق دار ہو جایئے اوراپنا منہ بروزِ قِیامت نبیِّ رحمت  ، شفیعِ امَّت   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ  واٰلہ ٖ  وسلَّم    کودکھانے کے قابِل بنا لیجئے یعنی یہودو نصاریٰ کی سی شکل و صورت بنانی چھوڑ دیجئے  ، اپنے چہرے پر ایک مٹّھی داڑھی سجا لیجئے ، انگریزی بالوں  کے بجائے زلفیں  رکھ لیجئے اور ننگے سر گھومنے کے بجائے سبز عمامہ شریف کے ذَرِیعے اپنا سر ’’ سر سبز‘‘ کر لیجئے۔بس اپنے ظاہر و باطن پر مَدَنی رنگ چڑھا لیجئے۔
ڈر تھا کہ عصیاں  کی سزا اب ہو گی یا روزِ جزا
دی اُن کی رَحمت نے صدا یہ بھی نہیں  وہ بھی نہیں
  میرے آقا اعلٰیحضرت ،  اِمامِ اَہلسنّت ، ولیِّ نِعمت ، عظیمُ البَرَکت ،  عظیمُ المَرْتَبت ،  پروانۂِ شمعِ رِسا لت ، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت ،  حامیِّ سنّت ،  ماحِیِٔ بِدعت ،  عالِمِ شَرِیْعَت  ،  پیرِ طریقت ،  باعِثِ خَیْر وبَرَکت ،  حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن  ہمیں  سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں :
جو نہ بھولا ہم غریبوں  کو رضاؔ
یاد  اُس  کی  اپنی  عادت  کیجئے

کاش! ہم پکّے عاشقِ رسول بن جائیں  

حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر  رضی اللہ  تعالٰی  عنہ   کے قدموں  کی دُھول کے صدقے  کاش! ہم بھی سچّے اور پکّے عاشقِ رسول بن جائیں۔ کاش! ہمارا اُٹھنا بیٹھنا ،  چلنا پھرنا ،  کھانا پینا ،  سوناجاگنا ، لینا دینا ، جینا مرنا میٹھے میٹھے آقا ،  مدینے والے مصطَفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سُنَّتوں  کے مطابِق ہو جائے ۔ اے کاش!
فَنا اِتنا تو ہو جاؤں  میں  تیری ذاتِ عالی میں
جو مجھ کو دیکھ لے اُس کو ترا دیدار ہو جائے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنے اندر عشقِ حقیقی کی شمع روشن کیجئے ، اِنْ شَاء  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  ظاہر وباطن مُنَوَّر ہو جائے گا اور دُنیا و آخِرت میں  سُرخرُوئی قدم چومے گی۔
خوار جہاں  میں  کبھی ہو نہیں  سکتی وہ قوم
عشق ہو جس کا جَسُور ،  ( )  فَقْر ہو جس کا غَیُور
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                              صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر  رضی اللہ  تعالٰی  عنہ   کی اولاد کو’’ صِدِّیقی‘‘ بولتے ہیں  ،  ان کے پاؤں  کے انگوٹھے میں  آج بھی سانپ کے کاٹنے کا نشان نظر آنا ممکن ہے۔ مگر دِکھائی نہ دینے پر کسی صدِّیقی صاحِب کی صِدِّیقیَّت پر بد گمانی جائز نہیں  کہ ہر ایک میں  یہ علامت واضِح نہیں  ہوتی۔ سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ نے ایک صدِّیقی عالم صاحِب سے ’’انگوٹھے کا نشان‘‘ دکھانے کی درخواست کی تو کہا کہ میرے والِد صاحِب رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے کُھرچ کرظاہر کیا تھا مگر اب پھر چُھپ گیا ہے۔مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان  علیہ رحمۃُ الحنّان’’ مِراۃ ُالمناجیح ‘‘جلد8صَفْحَہ359پر فرماتے ہیں :’’بعض صالحین کو فرماتے سناگیا کہ جو شیخ صِدِّیقی(سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر  رضی اللہ  تعالٰی  عنہ   کے شہزادے جو کہ صَحابی تھے اُن یعنی) حضرت محمد بن ابوبکر(   رضی اللہ  تعالٰی  عنہما ) کی اولاد سے ہیں  ،  انہیں  سانپ یا تو کاٹتا نہیں  اگر کاٹے تو(زہر) اثر نہیں  کرتا۔(یہ) اُس لُعاب شریف کااثر ہے(جو کہ سرکارِ مدینہ   صلَّی اللہ تعالٰی علیہ  واٰلہ ٖ  وسلَّم    نے سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر  رضی اللہ  تعالٰی  عنہ   کے انگوٹھے پر غارِثور میں  سانپ کے ڈسنے کی جگہ لگایا تھا) اور ان کی اولاد کے پاؤں  کے انگوٹھے میں ’’ سیاہ تِل‘‘ ہو تا ہے حتّٰی کہ اگر ماں  باپ دونوں  کی طرف سے شیخ صِدِّیقی ہو تو دونوں  پاؤں  کے انگوٹھے میں  تِل ہو گا۔ میں  نے بَہُت(سے) صدِّیقی حَضَرات کے پاؤں  کے انگوٹھے میں  یہ تِل دیکھے ہیں۔ غَرَضیکہ یہ عجیب مُعجزات ہیں ‘‘ ( یعنی صدِّیقیوں  کو سانپ کانہ کاٹنا  ،  کاٹے تو زہر کا اثر نہ کرنا اور آج تک پاؤں  کے انگوٹھے میں  تِل کا پایا جانا یہ سب سرکارِ رسالت مآب    صلَّی اللہ تعالٰی علیہ  واٰلہ ٖ  وسلَّم    کے مبارَک لُعاب کے مُعجزات ہیں )
ضعیفی میں یہ قوّت ہے ضعیفوں ( )کو قَوی کر دیں
سہارا لیں   ضعیف  و  اَقوِیا( ) صدِّیقِ  اکبر   کا
(ذوقِ نعت)

صدّیقِ اَکبر نے مَدَنی آپریشن فرمایا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اپنے دل میں  عشقِ رسول کی شمع جلانے اور اپنا سینہ مَحَبّتِ رسول کا مدینہ بنانے کے لئے دعوتِ اِسلامی کے مدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے ، اِنْ شَاءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ  اِس مدَنی ماحول کی برَکت سے راہِ سنّت پر چلنے کی سعادت اور فیضانِ صِدِّیقِ اَکبر   رضی اللہ  تعالٰی  عنہ   کی برَکات نصیب ہوں  گی ۔ سنّتوں  کی تربیّت کی خاطر ہر ماہ کم از کم تین دن کیلئے مَدَنی قافلے میں  عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں  بھرے سفر کا معمول بنایئے  ،  مَدَنی مرکز کے عنایت ،  فرمودہ نیک بننے کے نسخے ’’ مَدَنی انعامات‘‘ کے مطابِق اپنی زندگی کے شب و روز گزاریئے نیز روزانہ رات کم از کم 12منٹ فکرِ مدینہ کیجئے اور اس میں  مَدَنی اِنعامات کا رسالہ پُر فرما لیجئے اِنْ شَاءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ   دونوں  جہانوں  میں  بیڑا پار ہوگا۔دعوتِ اسلامی کو کس قدر فیضانِ صِدّیق اَکبر   رضی اللہ  تعالٰی  عنہ   حاصل ہے اِس کا اَندازہ اِس مدَنی بہار سے لگائیے چُنانچِہ ایک عاشقِ رسول کا بیان اپنے انداز واَلفاظ میں  پیش کرنے کی کوشِش کرتا ہوں  :ہمارا مَدَنی قافِلہ’’ ناکہ کھارڑی‘‘ (بلوچستان ،  پاکستان ) میں  سنَّتوں  کی تربیّت کے لئے حاضِر ہو اتھا  ، مَد نی قافِلے کے ایک مسافِر کے سر میں  چار چھوٹی چھوٹی گانٹھیں  ہوگئی تھیں  جن کے سبب اُن کو آدھا سِیسی (یعنی آدھے سر) کا دَرد ہوا کرتا تھا۔جب درد اُٹھتا تو درد کی طرف والے چِہرے کا حصّہ سیا ہ پڑجاتا اور وہ تکلیف کے سبب اِس قَدَر تڑپتے کہ دیکھا نہ جاتا ۔ ایک رات اِسی طرح وہ درد سے تڑپنے لگے  ، ہم نے گولیاں  کِھلاکر اُن کو سُلادیا ۔صبح اُٹھے تو ہَشّاش بَشّاش تھے ۔ اُنہوں  نے بتایا کہ اَلْحَمْدُ للّٰہِ عَزَّوَجَلَّ  مجھ پر کرَم ہوگیا ،  میرے خواب میں  سرکارِ رِسالت مآب    صلَّی اللہ تعالٰی علیہ  واٰلہ ٖ  وسلَّم    نے مَع چار یارعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کرم بالائے کرم فرمایا۔
سرِبالیں اُنہیں  رَحمت کی اَدا لائی ہے
حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے
سرکارِمدینہ    صلَّی اللہ تعالٰی علیہ  واٰلہ ٖ  وسلَّم    نے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر    رضی اللہ  تعالٰی  عنہ   سے فرمایا :’’اِس کا درد ختم کردو۔‘‘ چُنانچِہ یارِ غار ویارِ مزار سیِّدُناصِدّیقِ ا کبر    رضی اللہ  تعالٰی  عنہ   نے میرا اِس طرح مَدَنی آپریشن کیا کہ میرا سَر کھول دیا اور میرے دِماغ میں  سے چار کالے دانے نکالے اور فرمایا: ’’بیٹا! اب تمہیں  کچھ نہیں  ہوگا۔‘‘ مَدَنی بہار بیان کرنے والے اسلامی بھائی کا کہنا ہے: واقِعی وہ اِسلامی بھائی بالکل تندُرُست ہوچکے تھے ۔ سفر سے واپَسی پر جب اُنہوں  نے دوبارہ ’’چیک اَپ ‘‘کروایا  تو ڈاکٹر نے حیران ہوکر کہا: بھائی !کمال ہے: تمہارے دِماغ کے چاروں  دانے غائب ہوچکے ہیں ! اِس پر انہوں  نے رو رو کر مَدَنی قافِلے میں  سفر کی بَرَکت اور خواب کا تذکِرہ کیا۔ ڈاکٹر بَہُت مُتأَثِّر ہوا۔ اُس اَسپتال کے ڈاکٹروں  سمیت وہاں  موجود 12 اَفراد نے12 دن کے مَدَنی قافِلے میں  سفر کی نیّتیں  لکھوائیں  اور بعض ڈاکٹروں  نے اپنے چِہرے پرہاتھوں  ہاتھ سرورِ کائنات    صلَّی اللہ تعالٰی علیہ  واٰلہ ٖ  وسلَّم    کی مَحَبَّت کی نشانی یعنی داڑھی مُبارک سجانے کی نیّت کی ۔
لوٹنے رحمتیں  قافِلے میں  چلو                                                                            سیکھنے سنتیں  قافِلے میں  چلو
ہے نبی کی نظر قافِلے والوں  پر                                                                   پاؤگے راحتیں  قافِلے میں  چلو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                              صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
ہم کو بو بکر و عمر سے پیار ہے  اِن شاء  اللہ اپنا  بیڑا  پار  ہے
  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں  ۔ تاجدارِ رسالت  ،  شَہَنْشاہِ نُبُوَّت  ،   مصطَفٰے جانِ رحمت ،  شمعِ بزمِ ہدایت  ، نوشۂ بزمِ جنّت    صلَّی اللہ تعالٰی علیہ  واٰلہ ٖ  وسلَّم     کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سی مَحَبَّت کی وہ   جنّت  میں  میرے ساتھ ہو گا ۔      
(مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵) 
سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا
جنّت میں  پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                              صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد

7 ... بہادُر ،  جرأت مند۔
8 ... کمزوروں
9 ... قوی کی جمع ۔ طاقتور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن