30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے زیادہ پڑھے ۔(صحیح مسلم ، کتا ب الذکروالدعاء ، باب فضل التہلیل والتسبیح، ص۱۴۴۵، الحدیث : ۲۶۹۲)
٭ دو کلمے سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحٰنَ اللّٰہِ الْعَظِیْم زَبان پر ہلکے ، میزان پر بھاری اور رحمن عَزَّ وَجَلَّ کو پسند ہیں ۔
(صحیح مسلم، کتا ب الذکروالدعا، باب فضل التہلیل والتسبیح، ص۱۴۴۶، الحدیث : ۲۶۹۴)
ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کروں گا
٭جو صبح کے وَقْت یہ پڑھے : ’’رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَ بًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا‘‘ [1]؎ تو میں اسے اپنے ہاتھ سے پکڑکرجنت میں داخِل کرنے کی ضمانت دیتا ہوں ۔
(مجمع الزوائد، کتا ب الاذکار ، ج۱۰ ، ص۱۵۷، الحدیث : ۱۷۰۰۵)
٭ حضرت ِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تمام نبیوں کے سَرْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے پاس سے گزرے تو میں پودے لگارہا تھا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریافت فرمایا : ’’ اے ابو ہریرہ ! تم کیا لگارہے ہو؟‘‘میں نے عَرْض کی : ’’پودے لگا رہا ہوں ۔‘‘ فرمایا : ’’کیا میں تجھے ان سے بہتر پودوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟‘‘ پھر فرمایا : وہ سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَ کْبَر ہیں ، ان میں سے ہر ایک کے بدلے جنت میں ایک پودا لگا دیا جاتاہے۔( ابن ماجہ، کتا ب الادب ، ج۴، ص۲۵۲، الحدیث : ۳۸۰۷)
٭ جوان کلمات کو پڑھے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے بیس لاکھ نیکیا ں لکھے گا : لَا ٓاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَ ہٗ لَا شَرِیْکَ لَـــــــــہٗ اَحَدًا صَمَدًا لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ وَ لَمْ یَکُنْ لَّـــــہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ۔ [2]؎ (مجمع الزوائد، کتا ب الاذکار، ج۱۰، ص۹۵ ، الحدیث : ۱۶۸۲۷)
٭ بیشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے کلام میں سے چار کلمات سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرکو چن لیا ہے ۔چنانچہ ! جو سُبْحٰنَ اللّٰہِِ کہتاہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے بیس گناہ مٹادئیے جاتے ہیں اور جو اَللّٰہُ اَ کْبَر کہتاہے اسے بھی یہی فضیلت حاصل ہوتی ہے اور جو لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتاہے اس کی بھی یہی فضیلت ہے اور جودل سے اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰــلَمِیْن کہتاہے اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اسکے تیس گناہ مٹادئیے جاتے ہیں ۔(المستد رک ، کتا ب الدعا ء والتکبیر۔۔۔الخ، باب فضیلۃ التسبیح، ج۲ ، ص۱۹۲ ، الحدیث : ۱۹۲۹ )
روزانہ ایک ہزار نیکیاں کمانے کا طریقہ
٭حضرت ِ سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ہم سرکارِ والا تَبار، شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی با رگا ہ میں حاضِر تھے کہ آپ نے فرمایا : ’’کیا تم میں سے کوئی رو زانہ ایک ہزار نیکیا ں کما نے سے عا جِز ہے!‘‘ حا ضِر ین میں سے ایک شخص نے عَرْض کی : ’’ ہم میں سے کوئی ایک ہزار نیکیا ں کیسے کما سکتا ہے ؟‘‘ فرمایا : اگروہ سو مرتبہ تسبیح (یعنی سُبْحٰنَ اللّٰہِ)کہے تو اسکے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھی جا تی ہیں یا ایک ہزار گناہ مٹا دئیے جا تے ہیں ۔(صحیح مسلم کتا ب الذکرو الدعاء ، باب فضل التہلیل والتسبیح، ص۱۴۴۷، الحدیث : ۲۶۹۸)
٭ سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَا ٓاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَ کْبَرُ وَ لَاحَوْ لَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہپڑھا کرو کیو نکہ یہ با قیات صالحا ت (یعنی باقی رہنے والی نیکیاں )ہیں اور گناہوں کو اس طر ح جھاڑدیتی ہیں جس طرح درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے اور یہ جنت کے خزانو ں میں سے ہیں ۔ (مجمع الزوائد، کتا ب الاذکار، ج۱۰، ص۱۰۴، الحدیث : ۱۶۸۵۵ )
٭ حضرت ِ سَیِّدُنا ابو ذَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے فرمایا : اے ابو ذَر! کیامیں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کے بارے میں نہ بتا ؤں ؟ میں نے عَرْض کی : ’’ ضرو ر بتایئے۔‘‘ ارشا د فرمایا : وہ لَا حَوْلَ وَ لَا قُــــــوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ ہے۔(سنن ابن ماجہ ، کتاب الادب ، ج۴ ، ص۲۶۰، الحدیث : ۳۸۲۵ )
دس نیکیوں کا اِضافہ اور دس گناہوں کی معافی
٭ جس نے صبح کے وَقْت لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَــــــہٗ لَـــــــہُ الْمُلْکُ وَلَـــــہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍٔ قَدِیْرٌپڑھا تو یہ اس کے لئے اولادِ اسماعیل (علیہ السلام )سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگااور اس کے لئے اسکے عِوَض دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے دس گناہ مٹادئیے جائیں گے اور اس کے دس دَرَجات بلند کردئیے جائیں گے اور وہ شام تک شیطان سے حفاظت میں رہے گا اور اگر شام کے وَقْت پڑھاتو اسے صبح تک یہی فضیلت حاصل ہوگی ۔(سنن ابی داوٗد ، کتا ب الأدب ، باب مایقول اذا اصبح ، ج$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع