30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فِرِشتے عَرْض کرتے ہیں : ’’تیری تسبیح پڑھتے ہیں اور تیری پاکی، بڑائی، حمد اور عظمت بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اللّٰہ تَعَالٰی فرما تاہے : ’’کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟‘‘فِرِشتے عَرْض کرتے ہیں : ’’تیری قسم! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔‘‘ پھررب تَعَالٰی فرماتا ہے : ’’اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو کیاکرتے ؟ ‘‘فِرِشتے عَرْض کرتے ہیں : ’’اگروہ تجھے دیکھ لیتے تو تیری بہت زیادہ عبادت کرتے اور زیادہ شوق سے تیری پاکی اور بُزُرگی بیان کرتے۔‘‘ پھر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ پوچھتاہے کہ ’’وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں ؟‘‘ فِرِشتے عَرْض کرتے ہیں : ’’تجھ سے جنت مانگتے ہیں ۔‘‘ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے : ’’کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے؟‘‘ فِرِشتے عَرْض کرتے ہیں : ’’اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! نہیں دیکھا۔‘‘ رب عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے : ’’اگر وہ دیکھ لیتے تو کیا کرتے ؟‘‘ وہ عَرْض کرتے ہیں : ’’اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو شدت کے ساتھ اسے پانے کی خواہش کرتے، ا سکی طلب میں شدیدکوشش کرتے اور اس میں زیادہ رغبت رکھتے۔‘‘ پھر اللّٰہ تَعَالٰی فرماتاہے : ’’وہ کس چیزسے پناہ مانگتے ہیں ؟‘‘ فِرِشتے عَرْض کرتے ہیں : ’’وہ جہنم سے پناہ مانگتے ہیں ۔‘‘ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے : ’’کیا انہوں نے جہنم کو دیکھا ہے؟‘‘فِرِشتے عَرْض کرتے ہیں : ’’اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! نہیں دیکھا۔‘‘ رب تَعَالٰی فرماتاہے : ’’اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو کیا کرتے؟‘‘ فِرِشتے عَرْض کرتے ہیں : ’’اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو شدت کے ساتھ اس سے فرار اِختیار کرتے اوراس سے خوف کھاتے۔‘‘ تو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے : ’’میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ بیشک میں نے ان کو بخش دیا ۔‘‘ ان میں سے ایک فرشتہ عَرْض کرتا ہے : ’’فلاں شخص ان میں سے نہیں بلکہ وہ اپنی کسی ضرورت کے تحت آیا تھا؟‘‘ تو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے : ’’وہ ایسے لوگ ہیں جن کا ہم نشین بھی محرو م نہیں رہتا۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الدعوات، ج۴، ص۲۲۰، الحدیث : ۶۴۰۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حُصولِ ثواب کا ایک اہم ذریعہ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعات بھی ہیں ، آپ بھی اپنے شہر میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کیجئے ، اس سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت سے ہمیں ثواب کا عظیم خزانہ ہاتھ آسکتا ہے کیونکہ الحمدللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اِس سنّتوں بھرے اِجتماع کے جَدْوَل میں یہ چیزیں شامل ہیں : ٭ تلاوتِ قراٰنِ کریم ٭ نعتِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ٭ سنّتوں بھرا بیان ٭ دُرودِ پاک٭ ذکرُاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ٭ اِجتماعی دُعا ٭ صلوٰۃ وسلام ٭ نمازِ باجماعت٭ تربیتی حلقے ٭ نمازِ تَہَجُّد٭ مناجات ٭ باجماعت نمازِ فَجْر٭ مَدَنی حلقہ( جس میں قراٰن کریم کی چند آیات کی تلاوت ہوتی ہے اور ترجمۂ کنزُالایمان اور تفسیر خزائنُ العِرفان پڑھ کر سنائی جاتی ہے اس کے بعد فیضانِ سنت سے دَرْس ہوتا ہے ، اور شجرہ قادِرِیہ رضویہ ضِیائیہ عطَّاریہ کے دُعائیہ اشعار پڑھے جاتے ہیں ) ٭ اِشراق وچاشت کے نوافِل ادا کرنے اور صلوٰۃ وسلام کے بعد سنّتوں بھرے اِجتماع کے اِختِتام پر بہت سے عاشِقانِ رسول3دن ، 12دن، 30دن بلکہ کئی خوش نصیب تو بارہ بارہ ماہ کے لئے ’’ دعوتِ اسلامی‘‘ کے مَدَنی قافلوں میں راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کے سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں ۔
سنتوں کی لُوٹنا جا کے متاع
ہو جہاں بھی سنتوں کا اجتماع (وسائلِ بخشش ، ص۶۷۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
نیکیوں پر استقامت پانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر آپ ابھی تک دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ ماحول سے دور ہیں تو مَدَنی مشورہ ہے کہ آج ہی اس مَدَنی ماحول سے ہمیشہ کے لئے وابستہ ہوجائیے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نیکیوں پر اِستقامت پانے میں بہت مدد ملے گی کیونکہ عبادات پر اِستقامت اِختیار کرنا اس وَقْت تک دُشوار محسوس ہوتا ہے جب تک ہمارے سامنے کوئی شخص انہیں اِستقامت سے اپنائے ہوئے نہ ہو چنانچہ اگر ہم مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجائیں گے تو ہمیں کثیر اسلامی بھائی اِجتماعی طور پر عبادات پر اِستقامت پذیر دکھائی دیں گے جس کی بَرَکت سے حیرت انگیز طور پر ہم بھی کسی قسم کی مَشَقَّت کے اِحساس کے بغیر عبادات کرنے اور گناہوں سے بچنے پر اِستقامت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ۔دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے کیسے کیسے بگڑے ہوئے لوگوں کی زندگی میں مَدَنی اِنقلاب برپا ہوگیا ، اس کی ایک جھلک اس مَدَنی بہار میں مُلاحَظہ کیجئے :
جھڈو (ضلع میرپور خاص باب الاسلام سندھ) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب ہے : میں ایک بدمعاش تھا، لوگوں پر ظُلْم کرنا میری عادت میں شامل تھا۔ اپنے مضبوط اور طاقتور جِسْم پرایسا مغرور تھاکہ کسی کو خاطر میں نہ لاتاتھا۔ گلے کے بٹن کھول کر اکڑ کر چلنا، بدنگاہی کرنا، کسی کو مُکا تو کسی کو لات مارنا، کسی کو گالیاں دینا تو کسی کا مذاق اُڑانا میرا معمول تھا۔ بدقسمتی سے مجھے دوست بھی اپنے جیسے ہی میسر تھے جوان غلط کاموں پر مجھے سمجھانے کے بجائے میری حوصلہ افزائی کرتے۔ فلمیں ڈرامے دیکھنے اور گانے باجے سننے کابھی شائق تھا۔ مجھے اپنی غلطیوں کا احساس تک نہ تھا۔ زندگی کے ’’انمول ہیرے ‘‘غفلت کی نذر ہو رہے تھے۔ میری سعادتوں کی مِعراج کا سفر اس طرح شروع ہوا کہ ایک روز میری ملاقات دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی سے ہوئی، جنہوں نے محبت بھرے اَنداز میں مجھے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ ان کے ’’میٹھے بول ‘‘ میرے کانوں میں دیر تک رس گھولتے رہے چنانچہ میں نے ہامی بھر لی، مگر دل میں پیدا ہونے والے مختلف وَسْوَسوں کی وجہ سے نہ جا سکا۔ وہ اسلامی بھائی مجھے مسلسل مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی دعوت پیش کرتے رہے، یہاں تک کہ ایک دن میں نے شرکت کی سعادت حاصل کر ہی لی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے معطّر معطّر ماحول کی بَرَکت سے مجھے گناہوں بھری زندگی سے نَجات مل گئی۔ میں نے توبہ کرلی اور نیکیوں کا عامِل بن گیا، سنّت کے مطابق چہرے پرداڑھی سجائی اورمَدَنی لباس زیب تَن کرلیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِ عَزَّ وَجَلَّ تادمِ تحریر ذیلی مشاورت کے خادِم (نگران) کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کرنے میں کوشاں ہوں ۔
تِرا شُکْر مولا دیا مَدَنی ماحول نہ چُھوٹے کبھی بھی خدا مَدَنی ماحول
سلامت رہے یا خُدا مَدَنی ماحول بچے بَدنظر سے سدا مَدَنی ماحول (وسائلِ بخشش ص۶۰۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع