دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aasan Nekiyan | آسان نیکیاں

book_icon
آسان نیکیاں

                         کی آفات سے تُو بچا یاالٰہی      (وسائلِ بخشش ، ص۸۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 (۸۰)عیب پوشی کرنا

        اگر کسی مسلمان کا عیب معلوم ہوجائے تو بِلا مَصلحتِ شَرعی کسی دوسرے پر اس کا اظہار کرنے والا گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہے۔ مسلمانوں کا عیب چُھپانے کا ذِہن بنایئے کہ جوکسی کاعیب چُھپائے اس کیلئے جنّت کی بِشارت ہے، چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُناابو سعیدخُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَرْوی ہے :  جوشخص اپنے بھائی کی کوئی بُرائی دیکھ کراُس کی پردہ پوشی کردے تووہ جنّت میں داخِل کردیاجائیگا۔(مُسْنَدُ عَبْدِ بْنِ حُمَید ص۲۷۹ رقم۸۸۵ ) لہٰذا جب بھی ہمیں معلوم ہوکہ فُلاں نے مَعاذَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  زِنایالواطت کااِرتِکاب کیاہے، بدنِگاہی کی ہے، جھوٹ بولاہے، بدعہد ی یا غیبت کی ہے یاکوئی بھی ایسا جُرْم چُھپ کرکیاہے جس کوظاہِرکرنے میں کوئی شَرعی مَصلحت نہیں تو ہمیں اس کاپردہ رکھنا لازِم ہے اور دوسرے پر ظاہر کرنا گناہ ۔یقیناغیبت اور آبروریزی کا عذاب برداشت نہیں ہوسکے گا۔لیکن اگرکسی میں ایسا عیب موجود ہے جس سے دوسرے اسلامی بھائی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو محض اس نیت سے متعلقہ اسلامی بھائی کو اس عیب کے بارے میں بتادینا چاہیے تاکہ وہ اس نقصان سے بچ سکے مثلاً ایک شخص کی عادت ہے کہ وہ لوگوں کی رقمیں دھوکہ دہی سے ہڑپ کرجاتا ہے یا  قَرْض لے کر واپس نہیں کرتا تو جن جن کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو انہیں اس کے بارے میں بتادینے میں کوئی حرج نہیں ، اسی طرح اگر کسی نے کہیں رشتہ بھیجا ہے اور لڑکی والے آپ سے اس کے کردار وعمل کے بارے میں پوچھیں تو انہیں حقیقتِ حال سے آگاہ کردینا ضَروری ہے ، لیکن ان تمام صورتوں میں نیت دوسروں کو نقصان سے بچانے کی ہونی چاہئے کسی کو رُسوا کرنے کی نہیں ۔

اُٹھے نہ آنکھ کبھی بھی گناہ کی جانب         عطا کرم سے ہو ایسی مجھے حیا یاربّ

کسی کی خامیاں دیکھیں نہ میری آنکھیں اور     سنیں نہ کان بھی عیبوں کا تذکِرہ یاربّ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸۱) اِیصالِ ثواب کرنا

       سرکارِ نامدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اِرشادِ مشکبار ہے :  مُردے کا حال قبر میں ڈوبتے ہوئے انسان کی مانند ہے کہ وہ شدت سے انتظار کرتا ہے کہ باپ یا ماں یا بھائی یاکسی دوست کی دُعا اس کو پہنچے اور جب کسی کی دُعا اسے پہنچتی ہے تو اس کے نزدیک وہ  دنیاومَافِیْھا (یعنی دنیا اور اس میں جو کچھ ہے) سے بہتر ہوتی ہے۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  قبر والوں کو ان کے زندہ مُتعلِّقین کی طرف سے ہدیّہ کیا ہوا ثواب پہاڑوں کی مانند عطا فرماتا ہے، زندوں کا ہدیّہ (یعنی تحفہ) مُردوں کیلئے ’’دُعائے مغفرت کرنا‘‘ ہے۔ (شُعَبُ الاِْیْمَان، ج۶، ص۲۰۳، حدیث۷۹۰۵)

       فرض، واجب ، سنت ، نفل، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج ، بیان، دَرْس، مَدَنی قافلے میں سفر، مَدَنی اِنعامات، نیکی کی دعوت، دینی کتاب کا مطالعہ، مَدَنی کاموں کیلئے انفرادی کوشِش وغیرہ ہر نیک کام کاکسی اِنتقال کرنے والے یا زندہ شخص کو اِیصالِ ثواب کرسکتے ہیں ۔اِیصالِ ثواب کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ یہ امید ہے کہ اس نے جتنوں کو اِیصالِ ثواب کیا ان سب کے مجموعہ کے برابر اس کو ثواب ملے۔ مثلاً کوئی نیک کام کیا جس پر اس کو دس نیکیاں ملیں اب اس نے دس مُردوں کو اِیصالِ ثواب کیا تو ہر ایک کودس دس نیکیاں پہنچیں گی جبکہ اِیصالِ ثواب کرنے والے کو ایک سو دس اور اگر ایک ہزار کو اِیصالِ ثواب کیا تو اس کو دس ہزار دس  وَ عَلیٰ ھٰذَا الْقِیاس۔ (بہارشریعت ج۱حصہ۴ص۸۵۰ ملخصًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸۲)دوسروں کیلئے دُعائے مغفِرت کرنا

            رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  جو کوئی تمام مومن مردوں اور عورتوں کیلئے دُعائے مغفِرت کرتا ہے، اللّٰہعَزَّوَجَلَّاُس کیلئے ہر مومن مرد و عورت کے عِوَض ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔( مَجْمَعُ الزَّوَائِد، ج۱۰، ص۳۵۲، حدیث۱۷۵۹۸)

             شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  لکھتے ہیں : میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جھوم جائیے ! اربوں ، کھربوں نیکیاں کمانے کا آسان نسخہ ہاتھ آگیا! ظاہر ہے اس وَقْت روئے زمین پر کروڑوں مسلمان موجود ہیں اور کروڑوں بلکہ اربوں دنیا سے چل بسے ہیں ۔ اگر ہم ساری اُمت کی مغفرت کیلئے دُعا کریں گے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ   ہمیں اَربوں ، کھربوں نیکیوں کا خزانہ مل جائے گا۔ میں اپنے لیے اور تمام مؤمنین و مؤمنات کیلئے دُعاتحریر کردیتا ہوں ۔ (اوّل آخر دُرود شریف پڑھ لیں ) اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ  ڈھیروں نیکیاں ہاتھ آئیں گی۔

        اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَلِکُلِّ مُؤْمِنٍ وَّمُؤْمِنَۃٍیعنی اے  اللہ   میری اور ہر مومن ومومنہ  کی مغفرت فرما۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

آپ بھی اوپر دی ہوئی دُعا کو عَربی یا اُردو یا دونو ں زَبانوں میں ابھی اور ہو سکے تو روزانہ پانچوں نمازوں کے بعد بھی پڑھنے کی عادت بنالیجئے۔

بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل      نام غفار ہے تِرا یارب!

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸۳)دینی اجتماعات میں شرکت کرنا

         حضرت ِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَرْوی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  بیشک اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے کچھ فِرِشتے راستوں میں گھوم پھر کر اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا ذِکْر کرنے والوں کوتلاش کرتے ہیں ۔ جب وہ کسی قوم کو اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا ذِکْر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ اپنی منزل کی طرف آجاؤ۔ پھر وہ ان لوگوں کو آسمان دنیا تک اپنے پَروں سے ڈھانپ لیتے ہیں تو ان کا رب  عَزَّ وَجَلَّ  حالانکہ وہ خوب جانتا ہے پھر بھی ان سے پوچھتا ہے کہ ’’میرے بندے کیا کہتے ہیں ؟‘‘

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن