30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماں باپ کی عزّت کی بھی توفیق خُدا دے (وسائلِ بخشش ، ص۱۰۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۷۶)والدین کی قبروں پر جمعہ کے دن حاضِری دینا
خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ رَحمت نشان ہے : جو اپنے ماں باپ دونوں یا ایک کیقَبْر پر ہر جمعہ کے دن زیارت کیلئے حاضِر ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے گناہ بخش دے گا اورماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے والا لکھ دیاجائے گا۔(نوادر الاصول للحکیم الترمذی ص۷۳حدیث۹۷ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۷۷)نمازِ جنازہ پڑھنا
جب جب موقع ملے مسلمان کے جنازے میں شرکت کرکے ثواب کا خزانہ سمیٹنا چاہئے۔رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عظمت نشان ہے : جو کسی مسلمان کے جنازے میں ایمان کے ساتھ اجروثواب کی نیت سے شریک ہوا اور نَمازجنازہ ادا کرنے اور تدفین تک جنازے کے ساتھ رہا تو دو قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ان میں سے ہر قیرا ط احد پہاڑ کے برابر ہوگا اور جو نَماز پڑھ کر تدفین سے پہلے لوٹ آیا تووہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا۔(مسلم ، کتاب الجنائز، ص۴۷۱، رقم۹۴۵ : )ایک اور حدیث پاک میں ہے : بندے کو اپنی موت کے بعد سب سے پہلے جو جزاء دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے جنازے میں شریک تمام اَفراد کی مغفرت کردی جاتی ہے ۔ (مجمع الزوائد ، کتاب الجنائز ، باب اتباع الجنازۃ …الخ، رقم۴۱۳۴، ج۳، ص۱۳۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۷۸)عاجزی کرنا
حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ رفعت نشان ہے : جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے عاجزی اِختیار کرتاہے اللّٰہ تَعَالٰی اسے بلندی عطافرماتا ہے۔
(مسلم ، کتاب البر والصلۃ ، الحدیث ۲۵۸۸ ، ص۱۳۹۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!انسان کی پیدائش بدبودار نُطفے(یعنی گندے قطرے) سے ہوتی ہے اَنجامِ کار سڑا ہوا مُردہ ہے اور اس قدر بے بس ہے کہ اپنی بھوک ، پیاس، نیند، خوشی ، غم ، یادداشت، بیماری یا موت پر اسے کچھ اِختیار نہیں ، اِس لئے اسے چاہئے کہ اپنی اصلیّت ، حیثیت اور اوقات کو کبھی فراموش نہ کرے، وہ اس دنیا میں ترقّیوں کی منزلیں طے کرتا ہوا کتنے ہی بڑے مقام ومرتبے پر کیوں نہ پہنچ جائے ، خالقِ کون و مکاں عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے۔صاحبِ عقل انسان تواضع اور عاجزی کا چلن اِختیار کرتا ہے اور یہی چلن اس کو دنیا میں بڑائی عطا کرتا ہے ورنہ اس دنیا میں جب بھی کسی انسان نے فِرعونیت ، قارونیت اورنَمرودیت والی راہ پکڑی ہے بسا اوقات اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے دنیا ہی میں ایساذلیل وخوار کیا ہے کہ اُس کا نام مقامِ تعریف میں نہیں بطورِ مذمت لیا جاتا ہے ۔ لہٰذاعقل و فہم کا تقاضہ یہ ہے کہ اِس دنیا میں اونچی پرواز کے لئے انسان جیتے جی پیوندِ زمین ہوجائے اور عاجزی و اِنکساری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے پھر دیکھے کہ اللّٰہ ربُّ العزت اُس کو کس طرح عزت وعظمت سے نوازتاہے ا ور اُسے دنیا میں محبوبیت اور مقبولیت کا وہ اعلیٰ مقام عطا کرتا ہے جو اُس کے فضل و کرم کے بغیر مل جانا ممکن ہی نہیں ہے۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : تواضُع(یعنی عاجزی)اِختیار کرو اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھا کرو اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے بڑے مرتبے والے بندے بن جاؤ گے اور تَکَبُّر سے بھی بَری ہو جاؤ گے۔
(کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال، الحدیث : ۵۷۲۲، ج۳، ص۴۹)
لکڑیوں کا گٹھاخود اٹھا کر لائے
ایک بارحضرت سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے باغ سے جلانے والی لکڑیوں کا گٹھا خود اٹھا کر لائے حالانکہ ان کے پاس کئی غلام تھے جو یہ کام کرسکتے تھے ۔ کسی نے ان سے پوچھا : آپ ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )نے اپنے کسی غلام کو کیوں نہ اٹھانے کو کہا! جواب دیا : میں یہ کرسکتا تھا مگر میں خود کو آزمانا چاہتا تھا کہ آیا میں ایسا کرسکتا ہوں یا نہیں !اور کہیں میرا نفس اس کام کو ناپسند تو نہیں کرتا ! (کتاب اللمع فی التصوف(مترجم) ، ص ۲۰۴ )
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
فخرو غُرور سے تُو مولیٰ مجھے بچانا
یاربّ! مجھے بنا دے پیکر تُو عاجِزی کا (وسائلِ بخشش ، ص۱۹۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۷۹)نیک مسلمان سے حسن ظن رکھنا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کل بدگمانی کا مرض عام ہے ، اس مرض سے بچنے کے لئے حسنِ ظن رکھنے کی عادت بنالینا بے حد ضروری ہے اور مسلمان کے بارے میں اچھا گمان کرناباعثِ ثواب بھی ہے ، فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَۃِ یعنی حسنِ ظن عمدہ عبادت ہے ۔ (سُنَنِ ابوداود ج ۴ص۳۸۷ حدیث۴۹۹۳ ) مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیثِ پاک کے مختلف مَطالِب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : یعنی مسلمانوں سے اچھا گُمان کرنا ، ان پر بدگُمانی نہ کرنا یہ بھی اچھی عبادات میں سے ایک عبادت ہے ۔
(مراٰۃ المناجیح ج ۶ص۶۲۱)
مجھے غیبت و چغلی و بدگمانی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع