30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ (پ۲۶، الحجرات : ۹)
ترجمہ کنزالایمان : اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۷۳) شکر کرنا
رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عظمت نشان ہے : اَلطَّاعِمُ الشَّاکِرُ بِمَنْزِلَۃِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ یعنی کھانا کھا کر شکر کرنے والا اس روزے دار کی طرح ہے جس نے کھانے سے صبر کیا ہو۔(ترمذی ، ج۶، ص۲۱۹، الحدیث ۲۴۹۴)
یقیناشکراعلیٰ درجے کی عبادت ، عظیم سعادت اور اس میں نعمتوں کی حفاظت ہے۔شکر کا ایک درجہ یہ ہے کہ بندہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطاکردہ نعمتوں میں غور کرے ، اس کی عطا پر راضی ہو اور اُس کی کسی نعمت کی ناشکری نہ کرے جبکہ شکر کادوسر ادرجہ یہ ہے کہ زَبان سے بھی ان نعمتوں کا شکر کرے۔جب بھی ہمیں کوئی چھوٹی بڑی نعمت ملے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرنا چاہئے مثلاً نماز وَقْت پر باجماعت ادا کرنے کی سعادت ملی تو شکر ادا کریں ، کسی گناہ سے بچنے میں کامیاب ہوگئے تو شکرادا کریں ، شدید بھوک پیاس میں کھانے کو مل گیا تو شکر ادا کریں ، بیماری سے صحت یابی ملی تو شکر ادا کریں ، تپتی دھوپ میں سایہ میسر آگیا تو شکر ادا کریں ، گھر واپسی پر بیوی بچوں کو سلامت دیکھاتو شکر ادا کریں ، ولِیُّ اللّٰہ کے مَزار پر جانا نصیب ہوا تو شکر ادا کریں ، پیر ومرشِد کی بارگاہ میں بااَدَب حاضِری نصیب ہوئی تو شکر ادا کریں ، سونے کو آرام دہ بستر سرچھپانے کو گھر میسر ہے تو شکر ادا کریں الغرض ہر وہ جائز بات جس سے خوشی یا آرام ملے اس پر شکر ادا کرتے رہنے کی عادت ڈالنی چاہئے ۔شکر کے لئے کوئی الفاظ خاص نہیں ، اَلْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّ! کہہ لیجئے یا اپنی مادری زَبان میں شکر ادا کرلیجئے دونوں طرح دُرُست ہے۔اگر زَبان سے موقع نہیں ملا تو دل ہی دل میں شکر ادا کرلینا چاہئے ۔ حضرت سیِّدُناابو عبداللّٰہ محمد بن منکدرقرشی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی سے روایت ہے کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ دُعا کیا کرتے تھے : اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِک یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اپنے ذِکْر، شکر اور اچھی عبادت پر میری مدد فرما۔ [1]؎ (المصنف لابن ابی شیبہ ، کتاب الدعائ، باب ماکان یدعو …الخ ، حدیث ۱۱ج۷ص ۶۳ )
شکر ادا ہو کیونکر تیرا کہ محبوب کی اُمّت میں
مجھ سے نکمے کو بھی پیدا تو نے اے رحمن کیا (وسائلِ بخشش ، ص۳۸۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۷۴)اپنی آخرت کے بارے میں غور وفکر کرنا
اپنی آخرت کے بارے میں غور وفکر کرنا بھی عبادت ہے ، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ، ’’ فِکْرَۃُ سَاعَۃٍ خَیْرٌ مِّنْ عِبَادَۃِ سِتِّیْنَ سَنَۃً(امورِ آخرت میں )گھڑی بھر غور وفکر کرنا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے ۔‘‘ (کنزالعمال، ج۳ ، ص۴۸، رقم الحدیث ۵۷۰۷ ) حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ’’دنیا کی فکر دل میں اندھیرا جب کہ آخرت کی فکر روشنی ونور پیدا کرتی ہے۔‘‘(المنبھات علی الاستعداد لیوم المعاد ، ص ۴)حضرت سَیِّدُنا عامر بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : آخر ت میں سب سے زیادہ خوش وہ شخص ہو گا جو دنیا میں (آخرت کے بارے میں )سب سے زیادہ متفکر رہنے والا ہو اور آخرت میں سب سے زیادہ ہنسنا اسی کو نصیب ہو گا جو دنیا میں (خوف خدا عزوجل کے سبب) سب سے زیادہ رونے والا ہو اور بروز ِ قیامت سب سے زیادہ ستھرا ایمان اسی کا ہوگا جو دنیا میں زیادہ غور وفکر کرنے والا ہے ۔ (تنبیہ الغافلین۔باب التفکر۔ ص۳۰۸)حضرت سَیِّدُنا مکحول شامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی فرماتے ہیں : ’’انسان جب بستر پر آرام کرنے لگے تو اپنا محاسبہ کرے کہ آج اس نے کیااَعمال کئے؟ پھر اگر اس نے اچھے اَعمال کئے ہوں تو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر کرے اور اگر اس سے گناہ سَرزَد ہوئے ہوں تو توبہ واِستغفار کرے ۔ کیونکہ اگر یہ ایسا نہ کرے گا تو اس تاجر کی طرح ہوگا جو خرچ کرتا جائے لیکن حساب کتاب نہ رکھے توایک وَقْت ایسا آئے گا کہ وہ کنگال ہوجائے گا ۔‘‘(تنبیہ الغافلین، باب التفکر ، ص۳۰۹ )
کاش! کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا قبر و حشر کا ہر غم ختم ہو گیا ہوتا
آہ! سَلْبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے کاش! میری ماں نے ہی مجھ کو نہ جنا ہوتا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۷۵)ماں باپ کو محبت بھری نگاہ سے دیکھنا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں ماں باپ کی اَہَمِّیَّتسمجھنے کی توفیق بخشے۔ اٰمین۔آیئے!بِغیر کسی خَرچ کے بِالکل مُفْت ثواب کا خزانہ حاصِل کیجئے۔ خوب ہمدردی اور پیار ومَحَبَّت سے ماں باپ کادیدار کیجئے ، ماں باپ کی طرف بَنظرِرَحمت دیکھنے کے بھی کیا کہنے ! سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ رَحمت نشان ہے : جب اولاد اپنے ماں باپ کی طرف رحمت کی نظر کرے تواللّٰہ تَعَالٰی اُس کیلئے ہر نظر کے بدلے حجِّ مبرور(یعنی مقبول حج)کا ثواب لکھتاہے۔ صَحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عَرْض کی : اگرچِہ دن میں سومرتبہ نظر کرے !فرمایا : نَعَمْ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ
وَاَطْیَبُ یعنی ’’ہاں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ سب سے بڑا ہے اوراَطْیَب (یعنی سب سے زیادہ پاک) ہے۔‘‘ (شُعَبُ الْاِیمان ج۶ص۱۸۶حدیث۷۸۵۶ )یقینا اللہ عَزَّوَجَلَّہرشے پر قادِر ہے، وہ جس قَدَر چاہے دے سکتا ہے ، ہرگز عاجِز ومجبور نہیں لہٰذا اگر کوئی اپنے ماں باپ کی طرف روزانہ 100بار بھی رَحمت کی نظر کرے تو وہ اُسے 100مقبول حج کا ثواب عنایت فرمائے گا۔(سمندری گنبد، ص۶)
اُستاد کی کرتا رہوں ہر دم میں اِطاعت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع