دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aasan Nekiyan | آسان نیکیاں

book_icon
آسان نیکیاں

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۷۰) صبر کرنا

        سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  جب اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ    مخلوق کو جمع فرمائے گا توا یک منا دی ندا کرے گا :  ’’اہل فضل کہا ں ہیں ؟ ‘‘ تو کچھ لوگ کھڑے ہونگے جو تعدا د میں نہایت قلیل ہونگے ۔جب یہ جلد ی سے جنت کی طرف بڑھیں گے تو فِرِشتے ان سے ملیں گے اور کہیں گے : ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم تیزی سے جنت کی طرف جا رہے ہو تم کون ہو؟ ‘‘تو وہ جواب دیں گے کہ ہم اہل فضل ہیں ۔فِرِشتے پوچھیں گے :  تمہارا فضل کیا ہے؟ وہ جواب دیں گے :  جب ہم پر ظُلْم کیا جا تا تھا تو ہم صبر کرتے تھے اور جب ہم سے برا ئی کا برتا ؤ کیا جا تا تھا تو اسے برداشت کرتے تھے۔ پھران سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ او راچھے عمل والو ں کا ثواب کتنااچھا ہے۔ (التر غیب والترھیب، کتاب الادب ،  الحدیث  ۱۸، ج۳، ص۲۸۱)

صبر کسے کہتے ہیں ؟

        صَبْر کا مطلب یہ ہے کہ پریشانی کے موقع پرزَبان تو زَبان! منہ بنا کر یا دیگر اعضاء کے اشارے سے بھی بے چینی اور بے قراری کا اظہار نہ کیا جائے۔چُنانچِہ مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان  علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں :  صَبْر کے معنی ہیں ’’ روکنا‘‘۔ شریعت میں کامیابی کی اُمّیدسے مصیبت پر بیقرار نہ ہونے کو صَبْر کہتے ہیں ۔صَبْر کی تین قسمیں ہیں (۱) مصیبت میں صَبْر کرنا (۲) عبادت اور اطاعت کی مشقتوں پرصَبْر کرنااور ان پر قائم رہنا (۳) نفس کو گناہ کی طرف مائل ہونے سے روکنا ۔ اس کو یوں سمجھو کہ مصیبت میں دل چاہتا ہے کہ بیقراری اور بے چینی کا اظہار کرے اب دل کو قابو میں رکھنا اور راضی برضا رہنا پہلی قسم کا صَبْر ہے ۔ سردی کے موسم میں ٹھنڈے پانی سے وُضو کرنے کی ہمت نہیں پڑتی، اسی طرح زکوٰۃ نکالنے کو جی نہیں چاہتا اب دل پر جبر کر کے ان کاموں کو کر گزرنا دوسری قسم کاصَبْر ہے۔گانے بجانے کی طرف دل مائل ہے ہم دیکھتے ہیں کہ سُود خور بڑے مزے سے پیسے کما رہے ہیں ہمارا دل بھی چاہتا ہے کہ یہ حرکت کریں اب دل کو روکنا اور ادھر نہ جانے دینا تیسری قسم کا صَبْر ہے ۔(تفسیر نعیمی ج۱ص۳۳۷۔۳۳۸)   

ہے صبر تو خزانۂ فردوس عاشقو!

لب پہ تمہارے شکوہ بھلا کیسے آسکے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

صبر کرکے اَجر کمانے کے بعض مواقع

میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! آج کل ہماری حالت کس قدر بَد سے بَد تر ہوتی جارہی ہے، ہم تو معمولی سی تکلیف بھی برداشت کرنے کی کوشش نہیں کرتے، یعنی اگر آسانی سے ثواب حاصل ہورہا ہوتا ہے جب بھی ہم اُسے ضائع کردیتے ہیں ، ہمیں قدم قدم پر صبر کا ثواب کمانے کا موقع ملتا ہے۔ مثلاً

 (۱) راستے میں پڑے ہوئے کیلے کے چھلکے پر پاؤں پھسل گیا یا ٹھوکر لگ گئی تو شکوہ کرنے اور دوسروں کو کوسنے کے بجائے اگر صبر کریں تو اجر ملے گا۔ ظاہر ہے اُول فول بکنے سے نہ تو چوٹ صحیح ہوگی نہ ہی ثواب ملے گا بلکہ نقصان ہی نقصان ہوگا۔(۲) راہ چَلتے کسی کا دھکّا لگ گیا، بجائے اُس سے الجھنے کے صبر کرلیا جائے۔ (۳) کسی گاڑی سے ٹکرا گئے۔ (۴) گاڑی چلانے والے نے کوئی بات اُلٹی سیدھی کہہ دی۔(۵) ہم راہ چل رہے تھے، سڑک پر ’’ٹریفک جام ‘‘ ہوگیا، سخت گرمی بھی ہے ، ہارن کی آوازوں سے کان پھٹے جارہے ہیں ، ( ایسے وَقْت لوگ بہت بڑبڑاتے ، گالیاں بکتے ہیں ، حالانکہ ایسا کرنے سے ٹریفک بحال نہیں ہوجاتا۔ کاش ! ذرا خاموش رہتے تو صَبر کرنے کا ثواب تو مل جاتا)(۶)کسی نے آواز کَس دی ۔(۷) کَنکر مار دیا۔ (۸) طعنہ زنی کی، (۹) گھر میں بھائی بہنوں نے مذاق اڑایا۔ (۱۰) پڑوسی نے حُسنِ سُلوک نہیں کیا یا کوئی زِیادتی کی۔(۱۱) مسجد میں جُوتے چوری ہوگئے۔(۱۲) جیب کٹ گئی۔  (۱۳) کسی نے اُوپر سے کُوڑا ڈال دیا۔(۱۴) کسی نے بات کاٹ دی۔(۱۵) آپ نے سُنّتوں بھر ابیان کیا، کسی نے بے جا تنقید کردی یا آواز و اَنداز کی ہنسی اُڑائی ۔ (۱۶) کِسی کے یہاں مہمان ہوئے اور اُس نے چائے پانی کا نہیں پوچھا۔(۱۷) سُنَّت کے مُطابق کھا پِی رہے تھے تو کسی نے طنز کردیا۔(۱۸) کبھی گھر میں بجلی چلی گئی۔(۱۹) پانی بند ہوگیا۔ (۲۰) مالک مکان یا کِرایہ دار نے ظُلم کیا۔(۲۱) بس وغیرہ میں بِھیڑ میں کسی نے آپ کے پاؤں پر اپنا پاؤں رکھ دیا۔(۲۲) کوئی سگریٹ پی رہا ہے یا کسی قسم کی بدبو سے جب تکلیف پہنچی (۲۳) اپنی گاڑی وغیرہ میں کوئی نقصان ہوگیا۔ (۲۴) کوئی پُرزہ ٹوٹ گیا۔(۲۵) پنکچر ہی ہوگیا۔(۲۶) راستے میں کیچڑ کی وجہ سے پریشان ہوگئے۔(۲۷) کھانے وغیرہ میں نمک مِرچ کم و بیش ہوگیا۔(۲۸) کوئی کڑوی چیز مُنہ میں آگئی، جیسے بادام کی کڑوی گِری ۔ (۲۹) کھانا گرم نہیں تھا اور طبیعت گرم کھانا چاہتی تھی۔(۳۰) ٹھنڈے پانی کی خواہش تھی مگر سَادہ پانی مِلا(۳۱) چائے یا پان وغیرہ کی خواہش تھی مگر مُیّسر نہیں آیا، جِس سے طبیعت میں کچھ پریشانی ہوئی۔(۳۲) کسی نے گالی دے دی، (۳۳) کوئی ایسی بات کہہ دی جو ناگوار خاطر ہوئی۔(۳۴) خرید و فروخت کے مواقع پر ناگوارمعاملہ پیش آگیا۔ (۳۵) کاروبار کم ہوا، (۳۶) کسی نے دھوکا دے دیا۔   

 (۳۷) سیٹھ بدمزاج ہے یا نوکر بداخلاق ہے۔(۳۸) کسی نے تُھوک پھینکا اور اپنے اوپر آپڑا۔ (۳۹) کسی وجہ سے پاؤں پھسل گیا یا گر گئے تو لوگ ہنسے یا خود چوٹ کھائی۔ (۴۰) کسی نے غلط فہمی میں کچھ تلخ باتیں سُنا دیں ، وغیرہ وغیرہ، اس قسم کے معاملات عموماً روزمرّہ پیش آتے رہتے ہیں ، ایسے مواقع پر صبر کرلیجئے اور اَجر کمائیے، اِن مواقع پر عُموماً بے صبرے لوگ بڑبڑاتے ، گالیاں تک بکتے سُنے جاتے ہیں ، اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔ بے جا بے صبری کا مُظاہرہ کرنے سے تکلیف یا پریشانی تو دُور نہیں ہوتی، پھر صبر کرکے خزانۂ اَجر کیوں نہ حاصل کیا جائے۔(از افاداتِ امیر اہلسنّت)

آدمی حوصلہ ہارے نہ پریشانی میں         ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں

ڈوب سکتی نہیں موجوں کی طغیانی میں      جِس کی کِشتی ہو محمد کی نگہبانی میں

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن