دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aasan Nekiyan | آسان نیکیاں

book_icon
آسان نیکیاں

میں داخل ہونا ہے جو بِحَمْدِ اﷲِ تعالٰیبے تکلُّف نصیب ہوسکتا ہے۔(بہار شریعت، جلد اول ص ۱۰۹۴ملخصا) لیکن خیال رہے کہ بیتُ اللّٰہ  کی عمارت میں داخل ہونا نصیب ہویا حطیم میں دونوں صورتوں میں دوسروں کو دھکے دینے سے بچئے اور اسلامی بھائی اپنے جِسْم کو اسلامی بہنوں سے مَس ہونے (یعنی چھو جانے)سے بچائیں جبکہ اسلامی بہنیں بھی یہی احتیاط کریں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۸) آب زم زم پینا

        آبِ زَم زَم کی کیا بات ہے!اِس کو بہ نیّتِ عبادت دیکھنے سے ایک سال کی عبادت کا ثواب ملتا ہے اور اس کو پی کر جو بھی دُعا مانگی جائے وہ قَبول ہوتی ہے۔

(المسلک المُتَقسِّط المعروف مناسک الملاّ علی قاری، ص۴۹۵ )

قیامت کی پیاس سے تحفظ کے لئے پی رہا ہوں

         حضرت ِ سَیِّدُنا عبد اللّٰہ بن مبارک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  زم زم شریف کے کنویں پر آئے اورایک ڈول پانی پینے کے بعد قبلہ رخ ہوکر دُعامانگی :  ’’اے اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  ! مجھے عبد اللّٰہ بن مُؤَمِّل نے ابو زبیر سے انہوں نے جابر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م ) سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث بیان کی ہے کہ صاحب ِجُود و نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’آبِ زم زم اسی کے لئے ہے جس کے لئے اسے پیا جائے۔‘‘ لہٰذا میں قیامت کی پیاس سے تحفّظ کے لئے اسے پی رہا ہوں ۔‘‘

(المتجر الرابح، ، ثواب ماء زمزم، ص۴۳۳،  الحدیث  : ۸۹۳وشعب الایمان، باب فی المناسک، ج۳، ص۴۸۱ ،  الحدیث  : ۴۱۲۸)

نفع بخش علم، وسیع رزق اورتندرستی مانگتے

        حضرت ِ سَیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما جب آب زم زم پیتے تو یہ دُعا مانگتے : اَللّٰھُمَّ اَسْئَلُکَ عِلْماً نَافِعاً وَّ رِزْقاً وَّاسِعاً وَّ شِفَاءً مِّنْ کُلِّ دَ آءٍ ترجمہ :   اے اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  ! میں تجھ سے نفع دینے والا علم، وسیع رِزْق اور ہر بیماری سے شفا کا سوال کرتا ہوں ۔(المستدرک ، کتاب المناسک ، باب ماء زمزم لماشرب لہ ، ج۲، ص۱۳۲ ،  الحدیث  : ۱۷۸۲)

یہ زم  زم  اُس لئے ہے جس لئے اس کو پئے کوئی

اِسی زم زم میں جنّت ہے اسی زم زم میں کوثر ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

صحت مند ہوگئے

         فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہے  : ’’زمزم کھانے کی جگہ کھانااوربیماری سے شفا ہے ۔‘‘(المصنف لابن ابی شیبہ، کتاب الحج، باب فی فضل زمزم،  الحدیث ۲، ج۴، ص۳۵۸)حضرت سَیِّدُناابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، ابتدائے اسلام میں جب صحابہ(علہیم الرضوان) چالیس (40)تک نہ پہنچے تھے، اس زمانے میں مکہ معظمہ آئے۔ وہاں نہ کسی سے شَناسائی(یعنی جان پہچان) نہ کسی سے ملاقات ۔ایک مہینہ کامل وہی زمزم شریف پیا ، حالت یہ ہوئی کہ پیٹ کی بلٹیں اُلٹ پڑیں ۔(یعنی خوب توانائی آگئی)   (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ،  الحدیث ۲۴۷۳، ص۱۳۴۲) اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

پیٹ بھر کر پینا چاہئے

        آبِ زم زم جب بھی پینا نصیب ہو اِس کو پیٹ بھر کر پینا چاہئے۔ مُحْسنِ اہلسنّت صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مَولانامُفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  فرماتے ہیں ، وَہاں جب پیو پیٹ بھر کر پیو ۔حدیث پاک میں ہے :  ہم میں اور مُنافِقوں میں یہ فرق ہے کہ وہ زم زم کُوکھ (یعنی پیٹ )بھر کر نہیں پیتے۔

(بہارِ شریعت حصّہ۶ج ۱ص۱۱۰۵، سنن ابن ماجہ ، کتاب المناسک، باب الشرب من زم زم ،  الحدیث  ۳۰۶۱، ج۳ص۴۸۹)

یہ آب ِ زم زم ہے

        ایک مرتبہ تبلیغ ِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اِسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیۃ اور تخصص فی الفقہ کے اِسلامی بھائی امیرِاہلِسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی خدمت میں حاضِر تھے ۔اس دوران آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے کھڑے ہوکر پانی پیا ۔پھر وضاحت کرتے ہوئے کچھ اس طرح سے فرمایا : یہ آبِ زم زم ہے، اس لئے میں نے کھڑے ہوکر پیا اور آپ کو بتانے میں میری ایک نیت یہ بھی ہے کہ کہیں کوئی اِسلامی بھائی بدگُمانی میں مبتلا نہ ہو جائے۔(بدگمانی، ص۵۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۶۹)مصیبت چھپانا

        مصیبت بسا اوقات مومِن کے حق میں رَحمت ہوا کرتی ہے اور صَبر کر کے عظیم اَجر کمانے اور بے حساب جنَّت میں جانے کا موقع فراہم کرتی ہے، حضرتِ  سَیِّدُنا ابن عبا س رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر اس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں کو اس کی شکایت نہ کی تو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  پر حق ہے کہ اس کی مغفرت فرمادے ۔(مجمع الزوائد ، کتاب الزھد،  الحدیث ۱۷۸۷۲، ج۱۰، ص۴۵۰)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! زخم ، بیماری، گھبراہٹ، نیند اُچٹ جانا، تنگدستی اورہر طرح کے جانی یا مالی نقصانوں اور پریشانیوں پر صبر کرتے ہوئے بلاوجہ دوسروں پر ظاہر کرنے سے بچ کر مغفرت کی بشارت کے حقدار بنئے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن