30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرکے فرمایا کہ اس نے بنی اسرئیل کے کسی شخص سے ایک ہزار دینار بطور قر ض مانگے تو اس شخص نے مطالبہ کیا : ’’ میرے پاس کوئی گواہ لاؤ تا کہ میں انہیں گواہ بنالوں ۔‘‘ تو قَرْض دار نے کہا : ’’ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی گواہی کافی ہے۔‘‘ قَرْض خواہ نے کہا : ’’کوئی ضامن لے کر آؤ ۔‘‘ قَرْض دار نے کہا : ’’اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی ضمانت کافی ہے۔‘‘قَرْض خواہ نے کہا : ’ ’تم سچ کہتے ہو۔‘‘ پھر اس نے ایک مقررہ مدت تک کے لئے اس شخص کو ایک ہزار دینار دے دیئے ۔پھر یہ شخص سمندری سفر پر روانہ ہوگیااور اپنا کام پورا کرکے کسی کشتی کو تلاش کرنے لگا تاکہ اس پر سوار ہوکر مقررہ مدت پوری ہونے تک قَرْض کی ادائیگی کے لئے اس شخص کے پاس جائے مگر اسے کو ئی کشتی نہ ملی۔ (بالآخر)اس نے ایک لکڑی لی اور اس میں سور اخ کرکے ایک ہزار دینا ر اور قَرْض خواہ کے نام ایک خط اس سوراخ میں ڈالا اور اسے بند کردیا۔ پھروہ لکڑی لے کر سمندر کے کنارے آیا اور یہ دُعا مانگی : ’’ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! تُوجانتا ہے کہ جب میں نے فلا ں شخص سے ایک ہزار دینار قر ض مانگا تو اس نے مجھ سے گو اہ مانگا تھا تو میں نے کہاتھا کہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی گو اہی کافی ہے تو وہ تیرے گو اہ ہونے پر راضی ہوگیاتھا پھر اس نے مجھ سے ضامن طلب کیا تو میں نے کہا تھاکہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی ضمانت کافی ہے تو وہ تیر ی ضمانت پرراضی ہوگیا اورتو یہ بھی جانتا ہے کہ میں نے کشتی کے حصول کے لئے کو شش کی تا کہ یہ مال اس کے مالک تک پہنچا سکو ں مگر میں اس میں کامیاب نہ ہو سکا ، لہٰذا! اب میں اس امانت کو تیرے سپرد کررہا ہو ں ۔‘‘یہ کہہ کر اس نے لکڑی کو سمندر میں پھینک دیا اور اپنے شہر جانے کے لئے کشتی کی تلا ش میں دوبارہ نکل کھڑ ا ہوا ۔ دوسری جانب وہ شخص جس نے اسے قر ض دیا تھا ، دوسرے کنارے پر آیا کہ شاید کوئی سفینہ اس کے مال کو لے کر آئے ۔اچانک اس نے اسی لکڑ ی کو دیکھا جس میں قَرْض دار نے مال چھپایا تھا۔ اس نے وہ لکڑی اٹھا لی تا کہ گھر میں ایند ھن کے طور پر استعمال کر سکے۔ جب اس نے لکڑی کو کاٹاتو اس میں سے مال اور (اس کے نام لکھی گئی)تحر یر برآمد ہوئی۔اس کے بعد قَرْض دار ایک ہزار دینار لے کر آیا اور کہنے لگا : ’’اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں تیرامال واپس کرنے تیرے پاس آنے کے لیے مسلسل کَشتی کی تلا ش میں تھا مگر مجھے آنے کے لئے کوئی کَشتی نہ مل سکی۔‘‘ یہ سن کر قَرْض خواہ نے کہا : ’’ بے شک اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے تیر ی طر ف سے وہ مال ادا کردیا ہے جو تو نے لکڑی میں ڈال کربھیجا تھا۔‘‘یہ سن کر وہ اپنے ایک ہزار دینار لے کر خوشی خوشی لوٹ گیا۔(صحیح البخاری، کتاب الکفالۃ، باب الکفالۃ فی القرض۔۔۔الخ ، ج۲، ص۷۳، الحدیث : ۲۲۹۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۶۵)یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنا
یتیموں پر رحمت وشفقت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا بے حد اجروثواب کا باعث ہے حتی کہ ان کے سر پر شفقت ومحبت سے ہاتھ پھیرنے کا بھی ثواب ملتا ہے ، لہٰذااگر کوئی مانع شرعی نہ ہو تَو کسی یتیم کے سر پر شَفقَت سے ہاتھ پھیریئے کہ ہاتھ کے نِیچے جِتنے بال آئیں گے ہر بال کے عِوَض ایک ایک نیکی مِلے گی۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابواُمَامَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاکہ جواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے کسی یتیم [1]؎کے سر پر ہاتھ پھیرے گاتوجس جس بال پر سے اس کا ہاتھ گزرے گا اس کے عِوَ ض ہاتھ پھیرنے والے کے لئے نیکیاں لکھی جائیں گی اورجو اپنے زیر کفالت یتیم (لڑکے یالڑکی)کے ساتھ اچھا سلوک کریگا میں اور وہ جنت میں اس طرح ہونگے۔پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی شہاد ت اور بیچ والی انگلیوں کو جدا کردیا ۔(مسند احمد، حدیث ابی امامہ الباھلی، الحدیث ۲۲۲۱۵، ج۸، ص۲۷۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۶۶) تَلْبِیہ پڑھنا
حضرت ِ سَیِّدُنا جابر بن عبد اللّٰہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَرْوی ہے کہ حسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : جومُحرِم (یعنی احرام باندھنے والا )دن کی اِبتداء سے غروب آفتاب تک تلبیہ پڑھتاہے توسورج غروب ہوتے وَقْت اس کے گناہوں کو ساتھ لے جاتاہے اور وہ شخص گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتاہے جیسا اس دن تھا جس دن اسکی ماں نے اسے جنا تھا۔
(سنن ابن ماجہ، کتا ب المناسک، باب الظلال للمحرم، ج۳، ص۴۲۴، الحدیث : ۲۹۲۵)
تلبیہ : لَبَّیْکْ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکْ لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکْ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْک لاَشَرِیْکَ لَکْ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۶۷) بیت اللّٰہ میں داخل ہونا
اللّٰہ تَعَالٰی اِرشاد فرماتاہے :
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ(۹۶) فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ ﳛ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًاؕ (پ۴ ، اٰل عمرٰن : ۹۶۔۹۷)
ترجمہ کنز الایمان : بے شک سب میں پہلا گھرجولوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے بَرَکت والا اور سارے جہان کا راہنما اس میں کھلی نشانیاں ہیں ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو اس میں آئے امان میں ہو۔
حضرت ِ سَیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مَرْوی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جو بیتُ اللّٰہ میں داخل ہو ا وہ بھلائی میں داخل ہوگیا اوربرائی سے پاک ہو کر مغفرت یافتہ ہوکر نکلا۔
(صحیح ابن خزیمۃ، کتاب المناسک، باب استحبا ب دخول الکعبۃ۔۔۔الخ ، ج۴، ص۳۳۲، الحدیث : ۳۰۱۳)
حطیم میں داخل ہونا کعبہ شریف میں داخل ہونا ہے
کعبہ معظمہ کی شمالی دیوار کے پاس نِصْف دائرے کی شکل میں فَصِیل (یعنی باؤنڈری )کے اندر کا حصہ ’’حَطِیم‘‘ کہلاتا ہے۔زمانۂ جاہلیت میں جب قریش نے کعبہ اَزسر نو تعمیر کیا، خرچ کی کمی کے باعث اتنی زمین کعبہ معظمہ سے باہرچھوڑ دی۔ اس کے گرد اگرد ایک قوسی اَنداز کی چھوٹی سی دیوار کھینچ دی اسی کو حطیم کہتے ہیں ۔ یہ مسلمانوں کی خوش نصیبی ہے کہ اس میں داخل ہونا کعبہ معظمہ ہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع