30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیٹھنا٭ مجلس برخاست ہونے کی دُعا پڑھنا ٭ مسلمان سے محبت رکھنا٭ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا ٭ جانوروں پر رحم کھانا٭ مریض کی عِیادت کرنا ٭ مسلمان کی حا جت روائی کرنا٭ جائز سفارش کرنا٭ جھگڑے سے بچنا ٭ اِعتکاف کرنا٭ تعزیت کرنا ٭ تنگ دَسْت قَرْض دار کو مہلت دینایا اس کے قَرْض میں کچھ کمی کرنا٭ رشتے دار پر صَدَقہ کرنا ٭ تنگ دَست کا بقد رِ طاقت صَدَقہ کرنا٭ چھپا کرصَدَقہ د ینا٭ اہل خانہ پر خرچ کرنا ٭ سوال نہ کرنا٭ قَرْض د ینا٭ ادا کرنے کی نیت سے قَرْض لینا ٭ یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنا٭ تَلْبِیہ پڑھنا٭ بیت اللّٰہ میں داخل ہونا٭ آبِ زَم زَم پینا ٭ مُصیبت چھپانا٭ صَبْر کرنا٭ عَفْوو دَرگزر کرنا ٭ صلح کرنا ٭ شکر کرنا ٭ اپنی آخرت کے بارے میں غور وفکر کرنا٭ ماں باپ کو محبت بھری نگاہ سے دیکھنا ٭ والدین کی قبروں پر جمعہ کے دن حاضِری دینا٭ نمازِ جنازہ پڑھنا ٭ عاجِزی کرنا ٭ نیک مسلمان سے حسنِ ظن رکھنا ٭ عیب پوشی کرنا ٭ اِیصالِ ثواب کرنا ٭ دوسروں کے لئے دُعائے مَغْفِرت کرنا٭ دینی اِجتماعات میں شرکت کرنا ۔
یاد رہے !یہاں صِرْف وہ نیکیاں بیان کی گئی ہیں جن میں محنت ومَشَقَّت نہ ہونے کے برابر ہے یا پھرقدرے کم ہے ۔اب آسان نیکیوں کی تفصیل ملاحظہ کیجئے :
بلاشبہ اچھی نیت کرنا ایک ایسا عمل ہے جو محنت کے اِعتبار سے بے حد خَفِیف(یعنی چھوٹا)، لیکن اَجروثواب کے لحاظ سے حددَرَجہ عظیم ہے۔فرمانِ مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : سچّی نیّت سب سے افضل عمل ہے۔( اَ لْجَامِعُ الصَّغِیر ص۸۱حدیث۱۲۸۴)
نیّت، دل کے پُختہ اِرادے کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی چیز کا ہواور شریعت میں (نیّت) عبادت کے اِرادے کوکہتے ہیں ۔ (نُزہۃُ القاری ج۱ص۱۶۹)
کسی بھی نیک عمل کو کرتے وَقْت اچھی اچھی نیتیں کرلی جائیں تو اس کا ثواب بڑھ جاتا ہے ، عارف بِاللّٰہ حضرت شیخ عبدالحق مُحدِّث دہلوی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی لکھتے ہیں : ایک عمل میں جتنی نیّتیں ہوں گی اتنی نیکیوں کا ثواب ملے گا، مثلاًمحتاج قرابت دار کی مدد کرنے میں اگر نیت فقط لِوجہِ اللّٰہ (یعنی اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ) دینے کی ہوگی تو ایک نیت کا ثواب پائے گا اور اگر صِلہ رحمی کی نیّت بھی کرے گا تو دوہراثواب پائے گا۔(اشعۃاللمعات، ج۱، ص۳۶)میرے آقا امامِ اہلسنّت شاہ مولاناامام احمدرضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ جلد5صفحہ673 میں لکھتے ہیں : بے شک جو علمِ نیّت جانتا ہے ایک ایک فعل کو اپنے لئے کئی کئی نیکیاں کرسکتا ہے ۔(فتاویٰ رضویہ)
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نیت کے بارے میں ہمارا مَدَنی ذہن بناتے ہوئے ’’نیکی کی دعوت‘‘ صفحہ 116 پر لکھتے ہیں : اچّھی اچّھی نیّتیں کرنے کیلئے ضَروری ہے کہ ذِہن حاضِر رہے، جو اچّھی نیّتوں کا عادی نہیں ہے اُسے شُروع میں بہ تَکلُّف اس کی عادت بنانی پڑے گی لہٰذا اِبتِداء ً اِ س کیلئے سر جُھکائے ، آنکھیں بند کر کے ذِہن کو مختلف خیالات سے خالی کر کے یکسُو ہوجانا مُفید ہے۔ اِدھر اُدھر نظریں گُھماتے ہوئے، بدن سہلاتے کُھجاتے ہوئے، کوئی چیز رکھتے اُٹھاتے ہوئے یا جلد بازی کے ساتھ نیّتیں کرنا چاہیں گے تو شاید ہو نہیں پائیں گی۔ نیتوں کی عادت بنانے کیلئے اِن کی اَھمِّیَّت پر نظر رکھتے ہوئے آپ کو سنجیدَگی کے ساتھ پہلے اپناذِہن بنانا پڑے گا ۔
جب بھی کوئی کام کرنے لگیں تو ایک دَم شُروع مت کر دیجئے ، پہلے کچھ ٹھہر جایئے اور ذہن پر زور دیکر اچھی اچھی نیّتیں کر لیجئے۔(ماخوذ از ’’نیکی کی دعوت ‘‘ ص۱۱۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مَدَنی اِنعامات اوراچھی اچھی نیتیں
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اِس پُرفتن دور میں آسانی سے نیکیاں کرنے اورگناہوں سے بچنے کے طریقۂ کار پر مشتمل شریعت وطریقت کا جامِع مجموعہ بنام ’’مَدَنی اِنعامات‘‘بصورتِ سُوالات مُرتّب کیا ہے۔اِسلامی بھائیوں کیلئے 72، اسلامی بہنوں کیلئے 63، طَلَبۂ علمِ دین کیلئے 92 ، دینی طالِبات کیلئے 83، مَدَنی مُنّوں اورمَدَنی مُنّیوں کیلئے40جبکہ خُصُوصی اسلامی بھائیوں (یعنی گونگے بہروں ) کے لئے 27 مَدَنی اِنعامات ہیں ۔بے شمار اسلامی بھائی ، اسلامی بہنیں اورطَلَبہ مَدَنی اِنعامات کے مطابِق عمل کرکے روزانہ سونے سے قبل ’’فکرِمدینہ کرتے ہوئے ‘‘یعنی اپنے اَعمال کا جائزہ لے کر مَدَنی اِنْعامات کے جیبی سائز رسالے میں دیئے گئے خانے پُر کرتے ہیں ۔ان مَدَنی اِنْعامات کواِخلاص کے ساتھ اپنا لینے کے بعد نیک بننے اورگناہوں سے بچنے کی راہ میں حائل رُکاوٹیں اللّٰہ تَعَالٰی کے فضل وکرم سے اکثر دُور ہوجاتی ہیں اوراس کی بَرَکت سے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ پابند ِ سنّت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لئے کُڑھنے کا ذِہن بھی بنتا ہے ۔ان مَدَنی اِنعامات میں سے ایک مَدَنی اِنعام اچھی اچھی نیتیں کرنا بھی ہے ، چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 30صفحات پر مشتمل رسالے’’ 72 مَدَنی اِنعامات‘‘ کے صفحہ 3 پر مَدَنی اِنعام نمبر1 ہے : ’’ کیا آج آپ نے کچھ نہ کچھ جائز کاموں سے پہلے اچھی اچھی نیّتیں کیں ؟ نیز کم از کم دو کو اس کی ترغیب دلائی؟‘‘ [1]؎
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیت کے مَدَنی قافِلوں میں سفر اور روزانہ فکرِ مدینہ کے ذَرِیعے مَدَنی اِنعامات کارسالہ پُر کر کے ہرمَدَنی ماہ کے دس دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے ذ مّے دار کو جَمع کروانے کا معمول بنا لیجئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بطُفیلِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بُری نیّتوں سے نَجات اور اچّھی نیّتوں کی عادات نصیب ہو ں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع