دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aasan Nekiyan | آسان نیکیاں

book_icon
آسان نیکیاں

بہنوں کو خوشحالی ملے انہیں بھوک پیاس اور تنگ دستی کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن یہ بہت کم اسلامی بھائیوں کو معلوم ہو گا کہ اگراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ   کی رضا کے لئے اپنے گھر والوں پر خرچ کیاجائے تو اس کا بھی ثواب ہے ، چنانچہ محض نیت دُرُست کرلینے کی صورت میں آسانی سے ثواب کمایاجاسکتا ہے ۔اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : جب کوئی شخص ثواب کی نیت سے اپنے اہل خانہ پر خرچ کرتاہے تو وہ اسکے لئے صَدَقہ ہوتاہے۔(صحیح مسلم ، کتا ب الزکاۃ ، باب فضل النفقۃ ، ص۵۰۲،  الحدیث  : ۱۰۰۲ )

 چادر زوجہ کو دے دی

        حضرت ِ سَیِّدُنا عمرو بن اُمَیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ حضرت ِ سَیِّدُنا عثمان بن عفان یا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما ایک اونی چادر کوخریدنے کے لئے بھاؤ طے کررہے تھے کہ میرا وہاں سے گزرہوا اور میں نے وہ چادر خرید کر اپنی بیوی سُخَیْلہ بنت عُبَیْدَہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا) کو اوڑھادی۔ جب حضرت ِ سَیِّدُنا عثمان یا عبدالرحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کا وہاں سے گزرہوا تو انہوں نے پوچھا : ’’ تم نے جو چادر خریدی تھی اس کا کیا ہوا ؟‘‘میں نے کہا، ’’ اسے میں نے سخیلہ بنت عبیدہ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا) پر صَدَقہ کردیا ہے۔‘‘ تو انہوں نے پوچھا : ’’جو کچھ تم اپنے گھروالوں پرخرچ کرتے ہوکیا وہ صَدَقہ ہے؟ ‘‘میں نے جواب دیا :  میں نے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔جب میری یہ بات رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے سامنے ذِکْرکی گئی تو فرمایا : ’’عمرو نے سچ کہاہے تم جو کچھ اپنے گھروالوں پر خرچ کرتے ہو وہ ان پر صَدَقہ ہی ہے۔‘‘

(التر غیب والتر ھیب ، کتاب النکاح  ، الترغیب فی النفقۃ۔۔۔الخ ، ج ۳ ، ص۴۳ ،  الحدیث  : ۱۵)

زوجہ کو پانی پلایا

          حضرت ِ سَیِّدُنا عِرباض  بن سارِیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے  رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو فرماتے ہوئے سنا : ’’جب کوئی شخص اپنی بیوی کو پانی پلاتاہے تو اسے اس کااجر دیا جاتاہے ۔‘‘تو میں اپنی بیوی کے پاس آیا اوراسے پانی پلایااور جو کچھ میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے سنا تھا، اسے بھی سنایا ۔

(مجمع الزوائد ، کتاب الزکاۃ ، باب فی نفقۃ الرجل ۔۔۔ الخ ، ج۳، ص۳۰۰،  الحدیث  : ۴۶۵۹)

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۲)سوال نہ کرنا

         دوسروں سے سوال کرنا مروّت کے خلاف ہے ، سوال سے بچئے اور جنت کی ضمانت کے حقدار بنئے ، چنانچہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :

 ’’جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ کسی سے سوال نہ کر ے گا تومیں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔‘‘ حضرت ِ سَیِّدُنا ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے عَرْض کی :  ’’ میں ضمانت دیتاہوں ۔‘‘ لہٰذا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کسی سے کچھ نہ مانگا کرتے تھے ۔ ایک روایت میں یہاں تک آیا ہے کہ اگر حضرت ِ سَیِّدُنا ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ گھوڑے پر سوار ہوتے اور آپ کا کوڑا نیچے گر جا تا تو کسی سے  اٹھانے کے لئے نہ کہتے بلکہ گھوڑے سے نیچے اتر کر خود ہی کوڑا اٹھا تے تھے ۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الزکاۃ، باب کراھیۃ المسئلۃ، ج۲، ص۴۰۰،  الحدیث  : ۱۸۳۷)

مجھے پیاس لگی ہے

  منقول ہے کہ مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کو جب پیاس لگتی تو فرماتے : مجھے پیاس لگی ہے ۔خدمت گار معاملہ سمجھ کر آپ کی بارگاہ میں پانی حاضِر کردیتے اور آپ کو سوال بھی نہ کرنا پڑتا ۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۳)  قَرْض د ینا

        عام طور پرہم قَرْض کا لین دین کرتے ہی رہتے ہیں لیکن بہت کم اسلامی بھائیوں کو معلوم ہوگا کہ قَرْض دینا بھی کارِ ثواب ہے ، چنانچہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  مِعرا ج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھاکہ صَدَقہ کاثواب دس گُناہے اور قر ض کا اٹھا رہ گُنا ۔

(سنن ابن ماجہ، کتاب الصدقات، باب القَرْض، ج۳، ص۱۵۴،  الحدیث  : ۲۴۳۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۶۴)ادا کرنے کی نیت سے قرض لینا

         حضرت ِ سَیِّدُنا عبد اللّٰہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰـلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  قَرْض کی ادا ئیگی تک قَرْ ض لینے والے کے ساتھ ہوتاہے جب تک وہ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی نافرمانی نہ کرے۔‘‘ حضرت ِ سَیِّدُنا عبد اللّٰہ بن جعفر رضی اللّٰہ تعالٰی  عنہما اپنے خا زن سے فرمایا کرتے :  جا ؤ میرے لئے قَرْض لے کر آؤ کیونکہ جب سے میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے یہ حدیث سنی ہے میں پسند کرتا ہو ں کہ میں اس حال میں رات گزارو ں کہ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  میرے ساتھ ہو۔

 (سنن ابن ماجہ، کتاب الصدقات، ج۳، ص۱۴۲،  الحدیث  : ۲۴۰۹)

قَرْض لَوٹانے کی دلچسپ حکایت

    حضرت ِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن