30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۵۸) رشتے دار پر صَدَقہ کرنا
سرکارِ دو عالم، نُورِ مجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : رشتہ دار پر کئے جانیوالے صَدَقہ کا ثواب دُوگنا کردیا جاتاہے۔(المعجم الکبیر، ج۸، ص۲۰۶، الحدیث : ۷۸۳۴)
حضرت ِ سَیِّدُنا عبد اللّٰہ بن مسعو د رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ حضرت ِ سیِّدَتُنا زینب ثقفیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ اے عورتو ! صَدَقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیورات ہی سے کرو۔‘‘ تو میں عبد اللّٰہ بن مسعود(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کے پاس گئی اور ان سے کہا : ’’آپ ایک تنگدست شخص ہیں اوررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں صَدَقہ کرنے کا حُکْم دیا ہے ، جائیے اورآقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پوچھئے کہ اگر میں آپ پر صَدَقہ کروں تو کیا میری طرف سے صَدَقہ ادا ہوجائے گا ورنہ میں اسے آپ کے علاوہ کسی اور پرصَدَقہ کردوں ۔‘‘ تو انہوں نے فرمایا : ’’تم خودہی چلی جاؤ ۔‘‘لہٰذا میں رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضِری کے لئے روانہ ہوئی تو میں نے دیکھا کہ انصار کی ایک عورت بھی یہی سوال کرنے کے لئے درِدولت پر حاضِر ہے ۔ ہم رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مَرْعُوب رہتی تھیں چنانچہ جب حضرت ِ بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہماری طرف آئے تو ہم نے ان سے کہا : ’’رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں جا کر عَرْض کرو کہ دو عورتیں دروازے پر یہ سوال کرنے کے لئے کھڑی ہیں کہ اگروہ اپنے شوہر اور اپنے زیرِ کفالت یتیموں پر صَدَقہ کریں تو کیا انکی طرف سے صَدَقہ ادا ہوجائے گا؟ اور اے بلال! حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں ۔‘‘
جب انہوں نے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضِر ہوکر یہ سوال کیا توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریافت فرمایا : ’’ وہ عورتیں کون ہیں ؟ ‘‘ عَرْض کی : ’’انصار کی ایک عورت اور زینب ہے۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’کونسی زینب ؟ ‘‘عَرْض کی : ’’عبد اللّٰہ بن مسعود(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کی زوجہ۔‘‘ فرمایا : ’’ان دونوں کے لئے دُگنا اجر ہے، ایک رشتہ داری کا اوردوسرا صَدَقہ کا ۔‘‘(صحیح مسلم، کتا ب الزکاۃ ، باب فضل النفقۃ۔۔الخ ، ص۵۰۱، الحدیث : ۱۰۰۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۵۹) تنگ دست کا بقدرِ طاقت صَدَقہ کرنا
عام طور پریہی سمجھا جاتا ہے کہ صَدَقہ وخیرات وہی کرے جس کے پاس بہت سارا مال ہو ، حالانکہ تنگ دست مسلمان بھی اپنی حیثیت کے مطابق صَدَقہ کرنے کا ثواب کما سکتا ہے بلکہ یہ افضل ہے ، چنانچہ حضرت ِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں عَرْض کی گئی : کو نسا صَدَقہ افضل ہے ؟فرمایا : ’’تنگدست کابقدرِ طاقت صَدَقہ دینا اوروہ صَدَقہ جو فقیر کو پوشیدہ طور پر دیا جائے ۔ ‘‘ (سنن ابی داوٗد، کتاب الزکاۃ، باب فی الرخصۃ فی ذالک، ج۲، ص۱۷۹، الحدیث : ۱۶۷۷)
حضرت سَیِّدُناامام مالک رحمۃُ اللّٰہ تعالی علیہ اپنی کتاب ’’مؤطا ‘‘ میں نَقْل فرماتے ہیں کہ ایک مسکین نے ام المؤمنین حضرتِ سیِّدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے کھانے کا سوال کیا ۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سامنے کچھ انگور رکھے ہوئے تھے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کسی سے فرمایا : ’’ان میں سے ایک دانہ اٹھا کر اسے دے دو۔‘‘ اسے اس پر بڑا تعجب ہوا لیکن اُمّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا : تم حیران کیوں ہورہے ہو یہ تو دیکھو کہ اس دانے میں کتنے ذرات ہیں ؟(المؤطاللامام مالک، کتاب الصدقۃ، باب الترغیب فی الصدقۃ، ج۲، ص۴۷۴، الحدیث : ۱۹۳۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۶۰)چھپا کرصَدَقہ د ینا
صَدَقہ وخیرات کی کثرت نیکیوں میں اضافے ، گناہوں کے اِزالے اور عذابِ دوزخ سے بچنے کا مؤثر ذریعہ ہے ۔یہ سب فضائل وفوائد اپنی جگہ مگر چھپا کر صَدَقہ دینے کا ثواب زیادہ ہے ، اس لئے اگر علانیہ صَدَقہ وخیرات کرنے میں دوسروں کو ترغیب دینے جیسی کوئی مصلحت نہ ہو تو ریاکاری سے بچنے کی اچھی اچھی نیّتوں کے ساتھ چھپا کر صَدَقہ دیجئے اور اس بشارت کے حقدار بنئے چنانچہ ایک مرتبہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰـلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سات اَفراد کا تذکرہ فرمایا جنہیں اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے عرش کے سائے میں اس دن جگہ دے گا جس دن اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، ان میں سے ایک شخص وہ ہوگا جو اسطرح چھپاکر صَدَقہ دے کہ اسکے دائیں ہاتھ نے جو صَدَقہ دیا بائیں ہاتھ کو اس کا پتہ نہ چلے۔
(صحیح البخاری، کتاب الاذان، ج۱، ص۲۳۶، الحدیث : ۶۶۰)
حضرت سَیِّدُنا امام زَین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی زندگی میں دو مرتبہ اپنا سارا مال راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں خیرات کیا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت سے مساکینِ مدینہ کے گھروں میں ایسے پوشیدہ طریقوں سے رقم بھیجا کرتے تھے کہ انہیں خبر ہی نہیں ہوتی تھی کہ یہ رقم کہاں سے آتی ہے؟ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وصال ہو گیاتو ان غریبوں کو پتا چلاکہ یہ حضرت امام زین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی سخاوت تھی۔ (سیر اعلام النبلاء ، ج۵، ص۳۳۶ )
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اس دنیا میں ہرکوئی اپنے گھر والوں کے لئے کماتا اور ان پر خرچ کرتا ہے ، لیکن اس معاشی دوڑدھوپ میں زیادہ تر قلبی جذبات کارفرما ہوتے ہیں کہ میرے ماں باپ ، بیوی بچوں اور بھائی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع